Muslim Saleem ka majmoo’a “Sarmaya” unicode main parhen

سرمایہ
(کلام مسلم سلےم)

مرتبہ
عطاءاللہ فیضان

کتاب کا نام : سرمایہ (کلےاتِ مسلم سلےم)
شاعر : مسلم سلیم
ترتیب : عطاءاللہ فیضان
اشاعت :
قےمت :
ناشر :
پتہ :
طباعت :

عرضِ مصنف

ؑ میرا پہلا مجموعہ ”آمد آمد“ ۰۱۰۲ میں شایع ہوا تھا ۔ دریں اثنا ءمتعدد نئی غزلیں اور قطعات بھی خلق ہوئے ہیں۔ ایک اور خوش آیند بات یہ ہوئی کی فیس بک اور انٹرنیٹ پر میری شاعری اور اردو کے لئے پر خلوص خدمات سے متاثر ہو کر دنیا کے ۵۳ شعراءنے مجھ پر منظوم۹۵ نذرانے تحریر کر دئے۔میری دو غزلوں پر متعدد منظوم اور نثری تبصرے بھی کئے گئے ہیں۔ زیرِ نظر مجموعے میں یہ سب کچھ مجتمع کر دیا گیا ہے تاکہ قاری کے ذہن میں قلمکار کی مکمل تصویر ابھر سکے۔میری شخصیت اور شاعری پر اب تک تحریر کردہ سبھی مضامیں بھی اس مجموعے کی زینت ہیں۔ امید کہ پسند آئیں گے۔

مسلم سلےم
Muslim Saleem,
280, Khanugaon,
Near Masjid Bismillah
Bhopal 462001
Mob 09893611323
e-mail saleemmuslim@gmail.com

فہرست

صفحہ

عرضِ مصنف ۔۔1

.پیش لفظ۔علامہ کوثرصدیقی

.1 معاصرین کی نظرمیں مسلم سلیم
2 دنیا کے۵۳ شعراءکے مسلم سلیم کو۵۵ منظوم خراج عقیدت ۔۔
3 کلام ِ مسلم سلیم حصہ اول۔ا ٓمد۔آمد ۔۔۔
.4 کلامِ مسلم سلیم حصہ دوم ©”باز۔آمد©©“ ۔۔۔

۔
.5قطعات ۔۔۔
.6 مفرداشعار
.7یکم مئی ۷۱۰۲کے بعدکے اشعار
.8خودنوشت©©”مسلم سلےم۔کےا بودوباش پوچھو ہو“

پیش لفظ
غزل کا بادشاہ مسلم سلےم

مسلم سلےم کو علمی و ادبی گھرانے کے اعتبار سے نجیب الطرفین کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان کے پر۔نانااپنے دور کے مشہور دانشور سید عبدالباقی ان تاریخی ہستیوں میں ہےں جو محمڈن اینگلو اورئینٹل کالج علی گڑھ کے ابتدائی پانچ طلبا میں شامل تھے۔آپ کے والد بزرگوار ڈاکٹر سلیم واحد سلیم بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طبیہ کالج سے فارغ التحصیل تھے جان کی تعلیم و تربیت اپنے پھوپھا ڈاکٹر عطاءاللہ بٹ کی زیرِ نگرانی ہوئی تھی جو اس دور میں جرمنی سے اےم ڈی کرنے کے بعد مسلم یونیورسٹی کے طبیہ کالج کے موسّس (founder ) پرنسپل اور امراضِ چشم کے شہرت ےافتہ معالج تھے۔ دادا محترم عبدالواحد بینک آف تہران (ایران) میں جنرل مینیجر تھے۔ دادی محترمہ فخرالسادات قاجاری خاندان کی شہزادی تھیں۔ مسلم سلےم کے والد اور پھوپھیوں کی مادری زبان فارسی اور ثانوی زبان فرانسیسی تھی۔ اس طرح وہ نسبی لحاظ سے بھی نجیب الطرفین ہےں۔
خاندان کے اس بین الاقوامی پس منظر میں مسلم سلےم کی اگرچہ اپنے ننھیال قصبہ شاہ آباد (ضلع ہردوئی اتر پردیش جو مشہور فلم اسٹار عامر خاں کی بھی جائے پیدائش ہے) میں یکم نومبر ۰۵۹۱ کوہوئی لیکن درجہ اول سے لے کر بی۔اے۔ تک مسلم یونیورسٹی اور اس کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ بعد میںاےم۔اے۔ عربی الہٰ آباد یونیورسٹی سے کیا۔ دورانِ تعلیم وہ صرف کتابوں میں گھر کر نہےں رہے بلکہ کتابوں کی دنےا سے باہر نکل کر تمام extracurricular activities مع (A-Class ) اے۔کلاس کرکٹ سے بھی وابستہ رہے۔
جس شخص کی تعلیمی اساس مسلم یونیورسٹی اورالہٰ آباد یونیورسٹی جیسی بین الاقوامی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں میں رکھی گئی ہو اس کے ذہن و فکر کی بالیدگی کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ مذکورہ تعلیمی اور تربیتی پس منظر میں مسلم سلیم کو پروفیسر ہونا چاہیے تھا لیکن قدرت کا کھیل بھی عجیب ہے۔ زندگی کے سیلاب نے ساحلِ بھوپال پر لا کر پھینک دیا اور صحافت نے ان کا ہاتھ تھام کر معاشی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ میں انھیں قریب تیس ۔پینتیس سال سے جانتا ہوں۔ذاتی شرافت، نجابت کے علاوہ ان کی اعلیٰ علمی لیاقت سے بھی واقف ہوں۔ وہ کسی نہ کسی سرکاری محکمے میں اعلیٰ عہدہ حاصل کرسکتے تھے مگر ایسا لگتا ہے کہ مالی منفعت اورسرکاری غلامی کا جوا گلے میں دالنے کے بجائے انھوں نے صحافت(جو جمہوریت کا چوتھا ستون ہے) کے آزاد پیشے کہ ترجیح دی۔
صحافت کے میدان میں بھی اپنے جوہر دکھائے اور اےک کثیر لسانی صحافی ( multi-lingual journalist) کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی۔ بھاسکر گروپ آف نیوزپیپرس بھوپال کے اردو روزنامہ آفتاب جدید سے ۹۷۹۱ میں کیریر کا آغاز کر کے اسی گروپ کے انگریزی اخبار نیشنل میل سے وابسطہ ہوئے۔ پھر اسی گروپ کے ہندی کوآرڈینیٹر بنے۔ ۳۰۰۲ میں وہ ا نگریزی اخبار نیوز اےکسپریس میں چیف سب ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ فی الوقت مشہور انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز سے وابستہ ہےں۔ صحافت سے ہم وقت وابستگی اور مصروفیات کے با وجود شاعری کا دامن جو انھوں نے لڑکپن میں تھام لیا تھا، مضبوطی سے تھامے رہے۔ آج بھی تھامے ہوئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ، انھوں نے صحافت اور ادب کو اپنے بچوں کی سرشت میں بھی بھر دیا ہے۔ ان کے بیٹے عطا ءاللہ فیضان خود اےک نیم ادبی نیم سیاسی ماہنامہ ©”ہم سخن“ بھوپال سے شائع کر رہے ہیں۔ آج کے دور میں جب کہ بڑے بڑے اردو شعراءاور دانشوروں کی اولادیں مادری زبان اردو سے نا بلد ہیں، اپنے بچوں کو اردو علم و ادب سے وابستہ کرنے کی ذمہ داری جس طرح مسلم سلےم نے نبھائی ہے اس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
مسلم سلیم ©”زمانہ با تو نسازد تو بزمانہ سازد©©©“ کے مقولے کے تحت انٹرنیٹ کی دنیا سے بھی نہ صرف وابستہ ہیں بلکہ پوری سائبر دنیا ان کی انگلیوں کے زیرِ نگیں ہے۔ انھوں نے اس میدان بھی وہ کارنامہ انجام دیا ہے جو ابھی تک بھوپال میں کوئی نہیں کر پایا ہے۔ انھوں نے ۶۱ ویب سائٹوں پر اردو شعرا اور ادباءکی ویب ڈائریکٹریز ترتیب دی ہیں جن کی خوبی ڈاکٹر شہزاد رضوی، سابق پروفیسر ، واشنگٹن (جاں نثار اختر کے بھتیجے) نے اس طرح بیان کی ہے:۔
” اس ویب سائٹ (www.khojkhabarnews.com) مےں مسلم سلیم نے صرف اپنی شاعری اور شخصےت کے بارے مےں ہی نہیں لکھا بلکہ ہندوپاک کے ساتھ اردو دنےا کے ہزار ہا شعراءو ادبا کی مختلف ڈائرےکٹریز ترتیب دے کر تعارف و تصاویر پوسٹ کی ہےں۔ مےرے نزدےک اردو دنےا مےں اتنا بڑا کام پہلے کبھی نہیں ہوا۔“
یہاں میں یہ بھی بتا دوں کہ بھوپال کے اہلِ قلم حضرات کی شخصیت، فن اور ادبی خدمات بھی انٹرنیٹ پر پیش کرکے انھیں عالمی سطح پر متعارف کرانے کی اولیت بھی مسلم سلیم کو حاصل ہے۔
مسلم سلیم آج کل کے عام شعراءکی روش سے تھوڑا ہٹ کر اپنے اشہبِ قلم کی جولانیاں دکھاتے ہیں۔ کچھ نثری تخلیقات بھی ہیں۔ وہ نعت ، نظمیں، قطعات وغیرہ بھی کہتے ہےں مگر وہ مملکتِ غزل کے بادشاہ ہیں۔ ایسے بادشاہ جو اپنی سرحدوں کی حفاظت پر ہی نظر نہیں رکھتے بلکہ اس کی توسیع میں بھی یقین رکھتے ہیں۔ ان کی غزل بلا مبالغہ غزل میں اضافہ ہے۔ ان کا طائر ِ فکر جب پرواز کرتا ہے تو اس کی نظرمیں دور کے منظر جو ایسے خےالات کو جنم دیتے ہیں جن میں قاری کو چونکا دینے والا کچھ نےا پن ہوتا ہے۔ میں اس شاعر کو بڑا شاعر سمجھتا ہوں جسے پڑھ کر دوسرے شاعر کے دماغ میں یہ خےال سر اٹھائے کہ کاش میں بھی ایسی شاعری کر سکتا۔ مسلم سلیم کی شاعری (غزل) اس تعریف پر کھری اترتی ہے۔ شہرت کے گراف سے کسی شاعر کے قدوقامت کو نہیں ناپا جا سکتا۔
”مسلم سلیم لیلائے غزل کے اسیر کب ہوئے مجھے معلوم نہیں لیکن ۱۲ برس کی عمر میں کہی گئی مندرجہ ذیل غزل (جسے انھوں نے پہلی تخلیق کہا ہے) کے انداز، اظہار اور پختگی دیکھ کر لگتا ہے کہ کم عمری سے ہی مشقِ سخن کا سلسلہ جاری رہا ہوگا۔ ملاحظہ ہو©۔۔
ہر خواہش کب کس کی پوری ہوتی ہے
ہوتی ہے پر تھوڑی تھوڑی ہوتی ہے
۲۔ان کے میل کو ان کے گھر جاکر دےکھو
باہر جن کی چادر اجلی ہوتی ہے
۳۔مےں بازار سے کافی پردے لاےا ہوں
اب دےکھوں کےسے رسوائی ہوتی ہے
پہلا شعر بظاہر بہت سادہ مگر معنویت سے پُر ہے۔ اس میں زندگی کا بہت بڑا فلسفہ ہے۔ انسانی خواہشات کے بے شمار پہلو اور ان کا دائرہ وسیع ہے۔ ایسی صورت میں ان کی تکمیل ممکن نہیں ہے۔
دوسرے شعر میں آج کے اخلاقی زوال کے دور میں عام لوگوں کے اور بالخصوص ہمارے سماجی ٹھیکیداروں کی زندگی کے دوہرے معیار کی ترجمانی اس سے بہتر ایک نوجوان ، نو آموز شاعر سے نہیں کی جا سکتی۔
اچھی شاعری کے لئے دیگر فنی لوازم کے ساتھ اصطلاحات بھی ضروری ہیں۔ تیسرے شعر میں فن کی اصطلاح کا مفہوم بہت وسیع اور بلیغ ہے۔ کسی نہ کسی صورت میں پردہ اور پردہ پوشی کی ضرورت انسان کی جنم سے مرنے تک ہوتی ہے۔ ۔۔۔ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی۔۔۔
ان اشعار کی تشریح کے پیچھے میرا مقصد یہ ہے کہ ” پوت کے پاو¿ں پالنے میں نظر آجاتے ہیں©“ کے مصداق مسلم سلیم کے جب گھٹنے گھٹنے چلنے کے دن تھے، وہ دوڑ لگاتے ہوئے نظر آنے لگے تھے۔
مسلم سلیم فطری شاعر ہیں اور جہاں تک میرا علم ہے تلمیذالرحمٰن ہےں۔ موزوں طبعی اور شعری ذوق انھیں فطرت سے عطا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ابتدائی کلام میں بھی اردان کی کمی بیشی ےا اوزان کا سقوط نظر نہیں آتا۔ ان کی شاعری فطری طور پر نزول کی شاعری ہے جسے آمد کی شاعری کہا جا تا ہے۔ اس کا اعتراف انھوں نے خود اس طرح کیا ہے۔ ۔۔
”نہےں کہتا تو مہےنوں برسوں نہےں کہتا اور جب آمد کا ہجوم ہوتا ہے تو گھر ہو ےا دفتر، سفر ہو ےا حضر، اشعار کا ورود ہوتا ہے۔۔۔۔ کبھی کبھی برسوں کے بعد دس پندرہ دن آتے ہےں جب لگتا ہے کہ ذہن مےں آمد کا کوئی بٹن دب گےا ہو۔ ان دنوں مجھ پر وجد کی سی کےفےت طاری رہتی ہے اور مےں جھوم جھوم کر ان نو آوردگان کا استقبال کرتا ہوں۔ جب مجھ جےسے کم علم پر ےہ اشعار گہرا تائثر چھوڑتے ہےں، تو مےں مطمئن ہو جاتا ہوں کہ اہل ذوق حضرات انہےں ےقےنا پسند کرےں گے“۔
ان کا پہلا مجموعہ¿ِ کلام ۰۱۹۱ میں مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے شائع کیا تھاجو پذیرائی کے نقطہ¿ِ نظر سے کامیاب رہا۔ بر صغیر کی سطح سے بین الاقوامی سطح تک ادبی دنیا کی نامور ہستیوں نے مسلم سلیم کی شعری صلاحیت کا کھلے دل سے اعتراف کےا جن میں ڈاکٹر شہزاد رضوی، واشنگٹن، راشد خلیل، لاہور، ڈاکٹر جعفر عسکری، لکھنﺅ، ڈاکٹر نورالحسنین، اورنگ آباد (مہاراشٹرا)، مہدی جعفر، الہٰ آباد وغیرہ شامل ہیں۔
اس سے پہلے کہ زیرِ نظر مجموعہ ©©”باز آمد“ پر اظہارِ خےال کروں، مسلم سلیم کے پہلے شعری مجموعے ”آمد آمد“ سے چند اشعار بطورِ نمونہ پیش کرتا ہوں:۔
تقدےر کی مجھ سے یونہی تکرار چلے گی ۔۔ مےں سائے مےں بےٹھوں گا تو دےوار چلے گی
آج صندوق سے دےرےنہ زمانے نکلے ۔۔۔ ڈائری کھولی تو ےادوں کے خزانے نکلے
پانی ہےں، بلبلہ ہےں، برستی گھٹا ہےں ہم۔۔۔ درےا ہےں، آب جو ہےں، سمندر ہےں، کےا ہےں ہم
وہ دےکھنے مےں اب بھی تناور درخت ہے۔۔۔حالانکہ وقت کھود چکا ہے جڑےں تمام
جمع کرتے رہو شیرازہ¿ِ اسبابِ حےات ۔۔۔ اس کی تقدیر بکھرنا ہے بکھر جائے گا
ےہ تھام لےتا ہے امکانِ فتحِ نو کے قدم ۔۔ شکست سے بھی برا ہے شکست کا احساس
اک ذرا جب ہم اٹھا کر سر چلے۔۔۔ ہرطرف سے دےر تک پتھر چلے
مسلم سلیم سے میرے قریبی تعلقات ہیں۔ میں حقیقت بےانی بھی کروں تو مجھ پر عصبیت کا الزام عائد ہو سکتا ہے۔ اس لئے میں اپنی جانب سے لکھنے کے بجائے س مشاہیر کے تاثرات کا اقتباس پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں:۔
ڈاکٹر شہزاد رضوی، واشنگٹن ۔۔۔”اگر بین الاقوامی اردو حلقہ مسلم سلیم کی شاعری کا حظ اٹھانے سے محروم رہ گیا تو یہ از حد شرمناک بات ہوگی۔ مسلم سلیم شاعری برائے شاعری کے قائل نہیں۔ وہ تبھی قلم اٹھاتے ہیں جب ان کے سینے میں موجزن جذبات ان کو تحریک دیتے ہیں“۔
مہدی جعفر، الہٰ آباد۔۔۔”اچھا شعر ہی شاعر کا تعارف ہوتا ہے۔ آجکل جس برق رفتاری سے شاعری کے مجموعے شائع ہو رہے ہےں، ان مےں اچھا مجموعہ ےا اچھا شعر تلاش کرناجوئے شےر لانے کے مترادف ہے۔سائنسی ترقی اور مشینی زندگی نے انسانی جذبات و احساسات اور روےوں کو اےسا مخبوط کر رکھا ہے کہ آج کا مادےت پرست انسان اعلیٰ روحانی، اخلاقی، سماجی او تہذیبی روےوں کے عملی افادےت سے کوسوں دور چلا جا رہا ہے۔ اےسے ماحول مےں مسلم سلیم جےسے جدید لب و لہجے کے شاعر کا مجموعہ ©©©©”آمد آمد“ خوشگوار ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے©©۔“
راشد خلیل، لاہور۔۔©” مسلم سلےم اپنے عہد کے بڑے نباض ہےں اور عمےق سماجی اور عصری شعور ان کے مزاج، گفتگو اور تحرےروں مےں جھلکتا ہے۔ تخلےقی عمل مےں سماجی اور معاشرتی روےوں کا مضبوط تارےخی اور ادبی پس منظر اشعار کی صورت مےں قاری کے لئے تفہےم کے نئے در وا کرتا ہوا دکھائی دےتا ہے۔ مسلم سلےم نے اپنے صحافےانہ تجربے اور مشاہدے کو شعر بنانے شعری حسن کا خاص خےال رکھا ہے۔ بعض اشعار تو زندگی کا مکمل خاکہ بنا دےتے ہےں اور قاری کے سامنے اےک تصوےر پھر جاتی ہے۔“
ڈاکٹر جعفر عسکری، لکھنﺅ۔۔۔” کلام مےں عصری حسےت بھی ہے، تخےل کی بلاغت بھی ہے، فکری بلوغت بھی ہے نےز فنّی و تخلےقی ہنر مندی بھی ہے اور احساس اور جذبہ بھی اپنی جلوہ سامانےاں بکھےرتے نظر آرہے ہےں۔۔۔۔۔دراصل وہ خےالی دنےا کے شاعر نہیں ہےں بلکہ بےداری اور باخبری کے شاعر ہےں۔“
جعفر عسکری صاحب نے سچ کہا ہے کہ مسلم سلیم مشاعروں کے شاعر نہیں ہیں۔ لیکن میرے نزدیک یہی ان کی کمزوری ہے۔آج کو دور میںبھی جب کہ مشاعروں پر پیشہ ور شعراءنے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے، لوث ، اچھے اور سچے شاعروں کی بھی قدر ہوتی ہے۔ مسلم سلیم کی غزل ان کے دل کی گہرائیوں سے نکل کر سامع کے دل میں براہِ راست اتر جانے والی چیز ہے۔ ان کے خےالات ہر شحص کے ہمہ قسمی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ الفاظ کے ساتھ ردیف اور قوافی اور بندش اتنی چست ہوتی ہے کہ شعر نہ صرف ظاہری طور پر حسین ہو جاتا ہے بلکہ گہری معنویت کا حامل بھی بن جاتا ہے۔
ان کی غزل جدید ہے۔ جدید اس معنی میں کہ بیسویں صدی کا کلام جو” آمد آمد“ میں شامل ہے وہ اکیسویں صدی میں بھی جدید ہے اور اکیسویں صدی کا کلام جو زیرِ نظر مجموعے میں شامل ہے وہ بائیسویں صدی اور اس کے بعد بھی اپنے عہد کی ترجمانی کرے گا۔ ان کی نظموں ےا غزلوں میںعہدِ حاضر کے حوالے سے جو خےال بندی ہے وہ آنے والے وقتوں میں تاریخ بن سکتی ہے۔ لیکن غزل کے رنگ و آہنگ میں ایسی پائداری ہے جس کا رنگ امتدادِ زمانہ ہلکا نہیں کر سکے گا۔
مسلم سلیم نے کہا ہے۔۔
نقاد یہ کہتا کہ کر مےری غلامی ۔۔۔ شاعر تجھے مےں اوجِ ثرےا پہ بٹھا دوں
قدرِ گوہر شاہ داند یا بداند جوہری۔ نقاد حضرات انھیں شعراءسے غلامی کے لئے کہتے ہےں جن کا مال کھوٹا ہوتا ہے۔ گوہر اگر اصل جوہر ہے تو ہر دور میں ان کے قدرداں بھی ہوتے ہیں اور شناخت کرنے والے بھی۔ مسلم سلیم کے ۴۲ قیراط خالص ہیں۔ انھیں کسوٹی کی ضرورت نہیں وہ اپنی quality خود اپنے منھ سے بولتے ہیں۔ یہ بات اور ہے کہ۔۔۔
مسلم مجھے لیکن مری عزلت ہے گوارا۔۔۔ گھر بیٹھ کے خاموشی سے میں فن کا جِلا دوں
مسلم سلیم کا زیرِ نظر مجموعہ اپنے عہد کے کرب کا بھی ترجمان ہے۔ اس میںجہاں مغربےت ، بازاریت اور نسوانی عرےانیت کے خلاف آواز بلند کی ہے وہیں اسلامی دنےا پر مغربی ممالک کے مظالم، دورِ حاضر کی خوفناکیاں، سیاہ دولت کی زیاں کاریاں، انسانیت کا زوال وغیرہ کے درد کا بھی اظہار ہے۔ چند اشعار بطور نمونہ پیش کر کے میں اپنی تحریر ختم کرتا ہوں۔۔۔
مغربی بازارےت کی دےن یہ ہےجان ہے ۔۔۔ حسنِ نسواں اب فقط تفرےح کا سامان ہے
جہاں پہ راج ہے چنگےزی بربرےّت کا۔۔۔ کسی کے دل مےں بھی بدھّا نظر نہےں آتا
نہ جانے کس جگہ مل جائے دہشت دعائےں پڑھ کے سب گھر سے نکلنا
لوگ پھرتے ہےں ےہاں بھےس بدل کہ مسلم
شکلِ دروےش مےں اب کون نجانے نکلے
لہو لہان، درےدہ لباس ہےں لےکن ۔۔۔ ہمارے چہرے پہ اب بھی چمک رہی ہے وفا
دولت سے داغِ جرم ہر اک صاف ہو گےا ۔۔۔ لو آج وہ بھی شاملِ اشراف ہو گےا

کوثر صدیقی، ایڈیٹر، سہ ماہی کاروانِ ادب، 79-A گنّوری،
بھوپال 462001 ،
mob: 09926404171

معاصرین کی نظر میں مسلم سلیم

مسلم سلیم – ۱۲ویں صدی کا شاعر
ڈاکٹر شہزاد رضوی
سابق پروفےسر ، واشنگٹن ، ڈی ۔سی ، ےو۔اےس ۔اے
اےک دن اچانک انٹرنےٹ سرفنگ کے دوران مےری نگاہ اےک وےب سائٹ www.khojkhabarnews.com پر ٹھہر گئی ۔ ےہ بھوپال مےں مقیم شاعر ، افسانہ نگار اور صحافی مسلم سلیم کی وےب سائٹ تھی۔ مےں کئی گھنٹوں تک اس بلاگ کی سرفنگ کرتا رہا۔ اس مےں مسلم سلیم نے صرف اپنی شاعری اور شخصےت کے بارے مےں ہی نہیں لکھا بلکہ اردو دنےا کے ہزار ہا شعراءو ادبا کی مختلف ڈائرےکٹریز ترتیب دے کر تعارف و تصاویر پوسٹ کی ہےں۔ مےرے نزدےک اردو دنےا مےں اتنا بڑا کام پہلے کبھی نہیں ہوا۔ بعد مےں پتہ چلا کہ مسلم سلیم نے
muslimsaleem.wordpress.com, muslimsaleem.blogspot.in, x اور کئی دےگر وےب سائٹس کے ذریعہ بھی اردو کے اس بےش بہا اور مخلصانہ خدمت کو مزید آگے بڑھاےا ہے۔ بہر حال اس تحریر سے مسلم سلیم کی وےب سائےٹس کی تعرےف مقصود نہیں بلکہ ان کی اس شاعری سے ہے جسکا بےشتر حصہ ۰۲ ویں صدی مےں خلق ہوا لےکن جسے بجا طور پر ۱۲ویں صدی بلکہ اس سے بھی آگے کی شاعری کہا جا سکتا ہے۔
مےں ان کی شاعری کے اس جدید لب و لہجہ سے اس قدر متاثر ہواکہ مےں نے انٹرنےٹ پر انگرےزی مےں مسلم سلیم کی شاعری پر نہ صرف سےر حاصل مضامین تحریر کئے بلکہ ان کی کئی غزلوں کا انگریزی ترجمہ ءکل انٹر نےٹ پر پوسٹ کےا۔ مےں نے اپنے ۴۲ اپرےل، ۱۱۰۲ کے مضمون Muslim Saleem and revelation of his art مےں لکھا تھا ” اگر بےن الاقوامی اردو حلقہ مسلم سلیم کی شاعری کا حظ اٹھانے سے محروم رہ گےا تو ےہ اےک از حد شرمناک بات ہوگی۔ مسلم سلیم شاعری برائے شاعری کے قائل نہیں۔ اور تبھی قلم اٹھاتے ہےں جب ان کے سےنے مےں موجزن جذبات ان کو تحریک دےتے ہےں اور وہ گزشتہ نصف صدی اور موجودہ صدی کے بحرانات و تجربات کو اس تحرےک کی کڑی مےں خوبصورتی اورچابکدستی سے پروتے چلے جاتے ہےں۔مسلم سلیم کے اشعارکو سرسری طور پر لےنے والا خواہ کتنا ہی قابل کےوں نہ ہو اس کے عمق سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا۔ زندگی بھر اسٹڈی روم مےں بےٹھ کر مطالعہ کرنے والے جو سرد و گرم زمانہ چشےدہ نہ ہوں مسلم سلیم کی شاعری کی depth تک پہنچنے مےں ہو سکتا ہے کہ ناکام ہو جائےں لےکن ہم جےسے لوگ جو زبردست جدو جہد کے بعد امرےکہ، ےوروپ، اور دےگر بےرونی ممالک مےں جگہ بنانے مےں کامےاب ہوتے ہےں، مسلم سلیم کے فن اورتجربے کی گہرائی کو مسmiss نہیں کر سکتے۔“
اس سے قبل مےں نے ۰۱ اپرےل ،۱۱۰۲ کو تحریر کردہ اپنے مضمون میں عرض کیا تھا کہ مسلم سلیم کو استعاروں اور علامتوں پر جو عبور حاصل ہے اس سے ان کی شاعری ازحد تہہ دار ہوگئی ہے۔ اےک ہی شعر سے معنیٰ و مفہوم کے سوتے پھوٹے پڑتے ہےں۔
دھوپ مےں دےوار بھی تھی کسکو تھا اسکا خےال استفادہ ساےہ¿ِ دےوار سے سب نے کےا
یہ اس شخص کے المےہ اور بے چارگی کا پر اثر بےان ہے جس سے اےک زمانہ مستفےد ہوتا ہے لےکن ےا تو اس اےثار سے بے خبر ہے ےا دےدہ و¿ دانستہ اس کی داد نہےں دےتا کہ اس نے لوگوں کو آلام و مصائب سے محفوظ رکھنے کے لئے آفات و کرب کا کس قدر سامنا کےا ہے اور وہ بھی کوئی شکوہ زبان پر لائے بغےر۔احسان ناشناسی اور بے قدری ہمارے دور کا اےک بڑا المیہ ہے اور غزل کے دو مصرعوں مےں اسے اتنی چابکدستی اور فنّی مہارت کے ساتھ نظم کرنے پر مسلم سلےم بے شک داد کے مستحق ہےں۔
بچوں کو ہونے دےجئے احساس دھوپ کا۔۔۔ نشو و نما نہ روکئے، سایہ نہ کےجئے
اےک بار پھر دھوپ اور سایہ کی علامتےں اےک بہترےن شعر کی تخلےق مےں ممد ہوئی ہےں ۔ جدوجہد اور تجربات و حوادث زندگی مےں آگے بڑھتے رہنے اور اسے سنوارنے کے لئے از حد ضروری ہےں۔ ضرورت سے زےادہ پدری ےا مادری شفقت مےں پلنے والے بچے زندگی مےں ذہنی و شخصی ارتقاءکی کئی منازل طے کرنے سے محروم رہ جاتے ہےں۔ اس لئے تجربے ان کے لئے ترےاق اور سایہ سنگِ راہ ہے۔ یہ مضمون غزل کے پےرائے مےں مسلم سلےم سے پہلے کسی نے نہےں باندھا ہے۔
تقدےر کی مجھ سے یونہی تکرار چلے گے مےں سائے مےں بےٹھوں گا تو دےوار چلے گی
اس شعر مےں دھوپ کا لفظ تو نہےں لےکن اس کا شدےد احساس موجود ہے۔ سایہ اور دیوار مل کر پھر جادو جگاتے ہےں اور اےک المےہ اے حسےن پےرائے مےں بےان ہو جاتا ہے۔ شاعر اےک اےسے شخص کی کےفےئات کو بےان کرتا ہے جو مسلسل طور پر اخوت، شفقت، دوستی اور کرم سے محروم ہے۔ یہ احساسِ محرومی تب اور بھی بڑھ جاتا ہے جب وہ کسی اےسے شخص کی طرف بڑھنے کی سعی کرتا ہے جس مےں یہ اوصاف پائے جاتے ہےں لےکن اس سے پہلے کہ وہ اس شخص سے کچھ استفادہ کر سکے وہ شخص کوچ کر جاتا ہے اور طالبِ فےض تشنہ کا تشنہ رہ جاتا ہے۔
سائباں ساتھ کس کے چلے ہےں ۔۔ پھر وہی دھوپ تھی، قافلہ تھا
قافلہ¿ِ ذات کو تجربات و حوادث کی تےز دھوپ مےں چلتے ہی رہنا پڑتا ہے کےونکہ محافظت اور تسکےن دےنے والے اےک حد تک ہی ساتھ دے سکتے ہےں اور رہگزارِ زےست مےں ان سے صرف اسی قدر مستفےد ہوا جاسکتا ہے جس طرح راہ مےں کوئی سائبان ےا کوئی ساےہ مل جائے اور انسان کچھ دےر وہاں رک کر آرام کر لے۔ آگے کا سفر تو اسے سائبان سے آگے بڑھکر صعوبتوں اور دشوارےوں کو جھےل کر ہی طے کرنا پڑےگا۔
یہ اشعار مےں نے مسلم سلیم کے گذشتہ مجموعہ آمد آمد سے لئے تھے۔ اب مےں ان کے زےر ِ نظر مجموعہ سے منتخب چند تارےخ ساز اشعار کی نشاندہی کر رہا ہوں۔
بہار لائے تھے یہ انکا احترام کرو ۔۔ خزاں رسےدہ درختوں کو بھی سلام کرو
پاس ہو کے بھی ہم سے وہ خفا خفا سا ہے دورےاں ہےں مےلوں کی فاصلہ ذرا سا ہے
رنگ آتے جاتے ہےں کتنے اسکے چہرے پر حسن اسکا اب دےکھو جب کہ وہ خفا سا ہے
اس لئے جےت کر ہر اک مےداں بڑھ گئے رزم گاہ سے آگے
ہم نے اپنی نگاہ رکھی تھی دشمنوں کی نگاہ سے آگے
پہلے تھا ملک مےں بس اک ظالم سب جسے بادشاہ کہتے تھے
اب تو اپنے ہےں سےنکڑوں آقا ظلم مےں عالی جاہ سے آگے
کس قدر پانی ہے پہلے اس کا اندازہ کےا۔۔۔بند پھر اپنی مدد کا اس نے دروازہ کےا
دہکتی رےت پر پھر مےں نے دےکھا۔۔۔سمندر مےری ٹھوکر سے نکلنا
قوم کی زبوں حالی پر بھی مسلم سلےم نے بے حد چابک دستی سے روشنی ڈالی ہے:۔
ےاد ہے سارا جہاں بھول گئے ہےں خود کو سوچتے ہےں کہ کہاں بھول گئے ہےں خود کو
جےت لے گا ہمےں دشمن بڑی آسانی سے ۔۔ ہو گےا سب پہ عےاںبھول گئے ہےں خود کو
زےرِ نظر مجموعے مےں مسلمسلےم نے دہشت گردی کے خلاف کافی موثر اشعار شامل کئے ہےں©۔یہاں مےں اس موضوع پر انکی اےک مکمل غزال نما نظم نقل کر رہا ہوں:
ہو اگر عاجز تو پھر حاجت روا بنتے ہو کےوں ۔۔ کام ہے یہ تو خدا کا تم خدا بنتے ہو کےوں
درسِ رحمت بھول کر کےوں بن گئے بےدادگر ۔۔ سب کے حق مےں پےکرِ جوروجفا بنتے ہو کےوں
ہر قدم کج فہمےاں ہےں، ہر قدم گمراہےاں ۔۔ حق شناس و حق نگر اور حق نما بنتے ہو کےوں
ہو اگر مقدور رکھّو ساتھ کوئی راہبر۔۔۔ راہ گم گشتہ عزےزو! رہمنا بنتے ہو کےوں
فرض مسلم پر قےامِ امن ہے یہ جان لو ۔۔ ےوں کھلونا بے جہت جذبات کا بنتے ہو کےوں
اسی موضوع پر چند اور اشعار ملاحظہ ہوں:
نہ جانے کس جگہ مل جائے دہشت۔۔دعائےں پڑھ کے سب گھر سے نکلنا
بھرے گا پےکرِ تصوےر مےںِ خوں۔۔۔محبت کا وہ منظر سے نکلنا
بہشت ملتی ہے دہشت سے اور تشدّد سے ۔۔۔ نکال ڈالے دماغوں سے یہ سنک کوئی
اڑا کے اوروں کو خود کو بھی مار لےتے ہےں وہ سوچتے ہےں کہ اس مےں ثواب ہوتا ہے
اے کشت و خون کے داعی ذرا بتا تو سہی کہ ان دھماکوں سے کےا انقلاب ہوتا ہے
اس مجموعہ مےں رومانی شاعری اور قطعات کی شمولےت بھی معنی خےز ہے کےونکہ پہلے مجموعے مےں ان کی تعداد برائے نام تھی´ :
وہ مجھ کو سمجھنے مےں جو ناکام رہا ہے۔۔۔خود مجھ پہ ہی اس جرم کا الزام رہا ہے
یہ جسم کرتا ہے اکثر بہت سوال تر۱۔۔۔رگوں مےں دوڑنے لگتا ہے جب خےال ترا
قدم بچا کے رکھوں مےں اگر تو کےسے رکھوں۔۔۔ہر اےک سمت تو پھےلا ہوا ہے جال ترا
تب مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے مخمل ےاد کا ۔۔۔سر پہ جب سایہ فگن ہوتا ہے بادل ےاد کا
جان و دل مےں جب مہک اٹھتا ہے صندل ےاد کا
سو غموں کو دور کر دےتا ہے اک پل ےاد کا
آج صندوق سے دےرےنہ زمانے نکلے۔۔۔ڈائری کھولی تو ےادوں کے خزانے نکلے
اےسے ماضی کی پھواروں نے بھگوےا ہم کو۔۔۔جےسے بچہ کوئی بارش مےں نہانے نکلے
رات بھر چنتے ہےں اکثر لعل و گوہر خواب کے
صبحدم روتے ہےں ہم ٹکڑے اٹھا کر خواب کے
خواب کی جانب چلے پےغام لے کر خواب کے
ےوں اڑے دل کی منڈےروں سے کبوتر خواب کے
جان و دل اپنے ہےں صدقے اس منور خواب کے
جاگتی آنکھوں مےں رہنے دو وہ منظر خواب کے
مسلم سلےم نے مغربی ممالک اور مےڈےا کی فحاشی اور غلط بےانی کا راز بھی فاش کےا ہے:
مغربی بازارےت کی دےن یہ ہےجان ہے ۔۔ حسنِ نسواں اب فقط تفرےح کا سامان ہے
مکر آرائش ہے اسکی،جھوٹ اسکی شان ہے ۔۔ مت بہک جانا، یہ گورا مےڈےا شےطان ہے
خود تو گوےا قتل و غارت، ظلم سے انجان ہے۔۔ ہر برائی کے لئے اسلام پر بہتان ہے
اُس کی ہرزہ گوئےوں پر مہر ِ استحسان ہے۔۔ ہم نے گر کچھ کہہ دےا تو ہر طرف طوفان ہے
حق پہ جےنا ، حق پہ مر مٹنا ہی اسکی شان ہے ۔۔ سچ تو یہ ہے دہر مےں مسلم ہی بس انسان ہے
مسلم سلیم کا تقریباً ہر شعر اےسی ہی تہہ دارےوں سے مملو ہے اس کے لئے اےک علےحدہ کتاب درکار ہے اور اس مضمون کی طوالت کے خوف سے مےں اسے ےہیں ختم کرتا ہوں لےکن چلتے چلتے اےک بار پھر مےں مسلم سلیم کی اردو وےب سائٹس اور وےب ڈائرےکٹریز کا ذکر کروںگا اور ےہ کہنے کی جسارت بھی کروں گا کہ اس کارنامہ کے سبب مسلم سلیم کو بابائے اردو مولوی عبدالحق کے پائے کی شخصےت قرار دےا جا سکتا ہے۔

مسلم سلیم ہمہ جہت شخصیت۔سلیم اختر
میرے خیال میں جناب مسلم سلیم ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ صحافت اور شاعری اگر ان کو ورثہ میں نہ بھی ملتی تو یہ اسی طرح قابل ، لائق ، ہونہار ، محنتی اور ایماندار ہوتے کیونکہ یہ کچھ خصوصیات ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحفہ میں ملی ہیں۔ شاعری تو عطیہ¿ِ خداوندی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ آپ نے اپنی شاعری کو دلی کیفیات کی عکاسی کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ کے اظہار کا وسیلہ بنا کر عوام و خواص کے زخمی جذبات پر جو مرہم لگایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔آپ کی شاعری میں وارداتِ قلبی ، دلی کفیات کی عکاسی ، جدائی کی کسک ، حسن و عشق کا خوبصورت اظہارِ بیان راست گوئی و بیباکی جیسی خصوصیات نے اسے بامِ اوج پر پہنچا دیا ہے جس کا ثبوت ان کے کلام پر مشتمل کتاب کو یونی ورسٹی کے نصاب میں شامل کیا جانا ہے۔میں تو یہ کہوں گا کہ بھوپال کی سر زمین کو اللہ تعالیٰ نے مسلم سلیم تحفہ میں عطا کیا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی شاعری کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور نظرِبد سے بچائے۔ آمین۔
محمد سلیم اختر،ریٹائرڈ لیکچرار اردو ، نصرت جہاں اکیڈیمی , 2/15 دارالفتوح شرقی , چناب نگر , پاکستان . فون نمبر . 03347701795

مسلم سلےم ۔ وجد آفرےں اشعار کا خالق
مہدی جعفر، الہٰ آباد
بھوپال مےں جب۰۳ سال قبل مےری ملاقات مسلم سلیم سے ہوئی تھی تو سامنے اےک خوش شکل، وجیہہ، با شعور اور سنجیدہ نوجوان محو گفتگو تھا جو بہت جلد گھل مل گےا تھا۔ چند ملاقاتوں مےں ےہ بھی پتہ چلا کہ وہ اےک افسانہ نگار بھی ہے۔ ان دنوں راقم الحرف عصری افسانوں کو تنقیدی زاوےہ نظر سے پرکھنے مےں منہمک تھا۔ اس عالم مےں مسلم سلیم جےسے بالغ نظر نوجوان کے دو اےک افسانے اسی کی زبان سے سنے تو ےہ بھروسا ہونے لگا کہ مےری تنقیدی کاوشیںشائد ضاےع نہ جاےئں۔ اتفاق سے مسلم سلیم کی جائے رہائش مےرے گھرکے پاس ہی تھی اور وہ اکثر ملنے چلے آتے تھے۔ جلد ہی مےرا تبادلہ بھوپال سے دلّی ہو گےا اور مسلم سلیم سے رابطہ ٹوٹے ہوئے تقریباً چوتھائی صدی گزر گئی۔ الہٰ آباد مےں جب ڈاک سے ان کا شعری مجموعہ موصول ہوا تو مسلم سلیم کی نئی تخلیقی فضا نے حےرت مےں ڈال دےا۔
زےرِنظر مجموعہ¿ِ کلام کے مشمولات پر تبصرہ کرنے سے پہلے مسلم سلیم کے اولےن مجموعے ”آمد آمد کا ذکر اور تجزیہ لازمی ہے تاکہ قاری ان کے شعری مزاج سے کما حقہُ واقف ہو جائےں۔
مسلم سلیم کے مجموعے ”آمد آمد“ کا شعری شعور واقعی ’آمد آمد‘ ہے۔ انھیں کے بےان کے مطابق اس مےں ” وجد کی سی کےفےت طاری “ و ساری ہے۔ وہ کہتے ہےں ، ’سطحی شاعر الفاظ سے خےال تک سفر کی سعی کرتا ہے۔ ےہ سفر عرف عام مےں آورد کہلاتا ہے، جبکہ غےر معمولی شاعر خےال کو لفظی پےکر عطا ءکرتا ہے‘۔
ان کا مصرع ” نیند بھی مےرے لئے عالم بےداری ہے“ اسی کےفےت کی ترجمانی کرتا ہے۔ مےں بھی ےہ سمجھتا ہوں کہ شاعری اس وجد آفرےں حالت انجذاب کے بغیر شاعری نہیں ہوتی۔ پھر بھی مےرا تصور ہے کہ اگر لفظ کو محسوس کےا جائے، روشن کر دےا جائے، تو اس کا قدیم تاریخی حسن علامتی پےکر بن کر نمودار ہوتا ہے اور شعری سفر مےں زاد راہ بن جاتا ہے۔ اس صورت مےں خےال کی جگہ پر لفظ کا برتاو¿ شعری منظر کی طرح جلوہ نما ہو جاتا ہے( عےد نظارہ ہے شمشیر کا عرےاں ہونا)۔ ےہ لفظ شعور کے دروازے سے داخل ہوکر لاشعور کی داخلےت سے خراج لےتا ہے۔ ےہ وہ صورت ہوتی ہے جہاں لفظ قائم ہوتا ہے البتّہ ” جثّہ تحیئر کو لفظ مےں جکڑنے“ اور بے اعتماد نقالی کے لئے لفظ کو چمٹے سے پکڑنے اور بٹھانے کی قطعی ضرورت نہیں پڑتی۔ چنانچہ ’خےال‘ انفرادےت کا اور ’لفظ‘ معاشرے کے اجتماعی شعور اور لا شعور کا حصہ ہے جو پےدائش سے سماعت، بصارت اور حسےت کی راہ سے داخل ہوکرہماری بصیرت کا حصہ بن جاتا ہے۔ےہی وجہ ہے کہ مےں خےال کی تحصیل کے شانہ بہ شانہ لفظےاتی علامتی اضافےت کو بھی شعری توانائی (ENRICHMENT) کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔
مسلم سلیم اپنی غزلوں مےں ” تتلےاں بھی پکڑتے ہےں“ اور خوابناک لا شعور مےں بہ سرعت غوطہ زن بھی نظر آتے ہےں۔ آکر الذکر کےفےت اس سہولت سے پےدا ہوتی ہے کہ شاعر کو شائد خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ سمندر کی کن موجوں کی غواصی کر رہا ہے۔ مسلم سلیم کی تخلیقی فضا مےں فرائڈ کی نفسےاتی اپج لا پتہ ہے۔ اس کی جگہ پر ےونگ(C.G.JUNG) کا اجتماعی لا شعور جا بہ جا جھانکتا ہے۔ ان اشعار پر توجہ کیجئے:
زندگی خوفناک جنگل ہے ۔۔۔اور سانپوں کے ساتھ رہنا ہے
چاند کےسا ےہ ظلمت مےں نکلا۔۔۔ضو فشاں تےرگی ہو گئی ہے
پانی ہےں، بلبلہ ہےں، برستی گھٹا ہےں ہم ۔۔ درےا ہےں، آب جو ہےں، سمندر ہےں، کےا ہےں ہم
وہ دےکھنے مےں اب بھی تناور درخت ہے ۔۔ حالانکہ وقت کھود چکا ہے جڑےں تمام
کوئی فتنہ کوئی شورش کوئی ہنگامہ ہو ۔۔ مجھ کو تڑپائے، مرے جسم کے اندر جاگے
تھی کڑی دھوپ تو کب ان کو پرےشانی تھی۔ برف پگھلی تو بہت چونک کے پتھر جاگے
سج گئی بزمِ انجم ےکاےک۔۔۔منتشر اےک نقطہ ہوا تھا
پرسکوں دن ہے کوئی شور نہیں چیخ نہیں ۔۔ رات ہولے تو گناہوں کا سمندر جاگے
محدود وسعتےں بھی مجھے دے گئیں شکست ۔۔ صحرا بوجہ لغرشِ پا بے کراں سا ہے
ہےں ہمارے جاگتے لمحوں پہ حاوی پستےاں۔ آنکھ لگ جائے تو پھر ہم آسمانوں مےں چلےں
کوئی پلٹ کے آتی نہیں، گونجتی نہیں ۔۔ چٹانےں پی رہی ہےں ہماری صدائےں سب
قدرت نے چٹانوں کے ہرے کاغذ پر۔۔ تالابوں کے پانی سے لکھا ہے بھوپال
درج بالا لاشعور سے ملحق الفاظ جنھےں لکیر کھینچ کر نماےاں کےا گےا ہے متعلق شعر کی روح رواں بن گئے ہےں۔
ےہ چند اشعار مےں نے ےہاں وہاں سے اٹھا لئے ہےں ورنہ مسلم سلیم کی بےشتر شاعری اجتماعی لاشعور (COLLECTIVE UNCONSCIOUS)، اےگو(EGO)، (روحوں کے اختلاط مےں مشکل نہیں کوئی ۔۔اس کا حسین جسم مگر درمےاں سا ہے)، اور مافوق اےگو(SUPER EGO ) (رشتے بنائے رکھنے مےں لازم ہے احتےاط ۔۔۔ اس کو خبر نہیں ہے کہ اس سے خفا ہےں ہم) کی جھلکتی کشش سے پڑھنے ےا سننے والے کو ازلی لہروں کے سپرد کر دےتی ہے۔
ےہ تو خواب جےسا لا شعوری زاوےہ¿ِ نظر ہوا جس سے مسلم سلیم کی غزلوں پر ہر طرف سے روشنی پڑتی ہے۔ اس سے ہٹ کر صرف شعری اعتبار سے دےکھا جائے تو بھی شاعر کا وسیع شعری ادراک فنکارانہ طور پر متوجہ کرتا ہے۔
مدتوں سے اےک جہانِ وہم بھی آباد ہے ۔۔ ہم اکےلے ہی نہیں ہےں فاصلوں کے درمےاں
ملاح کو کھےنے کا سلیقہ بھی نہیں تھا ۔۔ کچھ ےوں بھی ہے پہلے ہی سے بد نام سمندر
اے تشنہ لباں مژدہ ہے آرام سے بےٹھو ۔۔ خود جوئے رواں سوئے طلبگار چلے گی
جمع کرتے رہو شیرازہ¿ِ اسبابِ حےات ۔۔ اس کی تقدیر بکھرنا ہے بکھر جائے گا
تمام آرزوےئں دوزخوں کی نظر ہو گئیں ۔۔ تمام عمر جنتوں کی راہ ڈھونڈتا رہا
آج پستی بلندی پہ مسلم ۔۔ کےسے ہنس کر کھڑی ہو گئی ہے
اب آو¿ چلو ہم بھی ذرا دےکھےں تماشا ۔۔ ہمسائے کے گھر دےر سے کہرام بہت ہے
ہےں ہمارے جاگتے لمحوں پہ حاوی پستےاں۔۔ آنکھ لگ جائے تو پھر ہم آسمانوں مےں چلےں
ےہ تھام لےتا ہے امکانِ فتحِ نو کے قدم ۔۔ شکست سے بھی برا ہے شکست کا احساس
غرض ہے لطف سفر سے ہمارے قدموں کو ۔۔ نہ فکر جادہ و منزل نہ سمت کا احساس
اک ذرا جب ہم اٹھا کر سر چلے ۔۔ ہرطرف سے دےر تک پتھر چلے
تھا انتظام مےری تباہی کا ورنہ اب ۔۔ ٹھہری ہوئی ہے گردش آفاق کس قدر
مسلم سلیم کے ےہاں عہد حاضر کا ناقدانہ مشاہدہ، جگہ جگہ ہجو ملیح کا سلوک، وسعت خےال ، خوابناک شعور و لا شعور کی گےرائی، رواں زبان کا استعمال اور سب سے بڑھ کر حسن و لطافت کا برتاو¿ ”آمد آمد “ کو حقیقت خےز اور جاذب نظر بناتا ہے۔مجموعی طور پر شاعر کا عصری رجحان کلاسیکی قوس اختےار کرتا ہے۔غالباً ےہ بنےادی اردو کے گہرے نقش کا نتیجہ ہے۔ شاعر نے مےڈےا سے وابستہ ہونے کے باوجود اس کے اثر سے اپنا دامن بچاےا ہے۔
© ”سرمایہ “ تک آتے آتے مسلم سلےم نہ صرف زود گو ہوگئے ہےں بلکہ ان کی شاعری کا کےنوس بھی وسےع تر ہو گےا ہے۔ مشاہدے مےں مزےد عمق پےدا ہوا ہے اور تخےل کی پرواز اور بھی بلند ہو گئی ہے۔
© ’سرمایہ “ کے مسلمسلےم کا کےنوس اب اتنا وسےع ہو چکا ہے کہ شاےد کوئی موضوع اور مضمون ان سے اچھوتا نہےں رہ گےا ہے۔ ساتھ ہی الفاظ کی نشست و برخواست اور کاٹ بھی بہت بڑھ گئی ہے۔ وہ بے حد مشکل ردےفوں مےں بہت آسانی سے انتہائی موثر اور رواں اشعار کہہ رہے ہےں ۔
سروں کی گنتی نے آخر کےا اسے رسوا امےرِ شہر پہ بھاری پڑے غرےب کے لوگ
جہاں مےں دھوم ہے جنکی ژرف نگاہی کی
دکھائی کےوں نہےں دےتے انہےں قرےب کے لوگ
اس لئے جےت کر ہر اک مےداں بڑھ گئے رزمگاہ سے آگے
ہم نے اپنی نگاہ رکھی تھی دشمنوں کی نگاہ سے آگے
پہلے تھا ملک مےں بس اک ظالم سب جسے بادشاہ کہتے تھے
اب تو اپنے ہےں سےنکڑوں آقا ظلم مےں عالی جاہ سے آگے
دل جہاں لاکھوں پڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
ہم بھی اس رہ مےں کھڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
آپ کی مانند چلتے تھے اکڑ کر جو کبھی
خاک مےں وہ سب گڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
ردےف اطلاعاً عرض ہے تو مےں مےں نے غزل مےں پہلی مرتبہ دےکھی ہے ۔یہی نہےں ردےف کو بے حد چابکدستی سے برتا گےا ہے۔ یہ شعر بھی قابلِ توجہ ہے
عشقِ غالب نے کےا جسکا ہے اقبال بلند ۔۔۔مےرِہر نطق زباں کےا ہے؟کہونا اردو
اےک ہی شعر مےں اردو کی تےن بڑی ہستےوں کا اعتراف اسے سے زےادہ خوبصورت انداز مےں نہےں کےا جا سکتا اور اس طرح کہ اردو کی عظمت بھی کما حقہُ بےان ہو رہی ہے۔
©”باز آمد“ مےں مسلم سلےم نے متعدد قطعات بھی شامل کئے ہےں جو ”آمد۔آمد“ مےں شاذونادر ہی دکھے تھے۔ زےادہ تر قطعار رومانی ہےں اور یہ بھی ان کے لئے اےک نئی چےز ہے۔لےکن ان مےں مسلمسلےم نے اپنی بھرپور چھاپ چھوڑی ہے۔ یہ قطعات ملاحظہ کرےں۔
تم اک کرن ہو جو شمےں جلائے رہتی ہے۔۔ تم اک خوشی ہوجو دل مےں سمائے رہتی ہے
خبر یہ خوب ہے مسلم کہ دشمنِ جاں ہو ۔۔ یہ جاں تمہےں سے مگر لو لگائے رہتی ہے
اےک اور اچھا قطعہ دےکھےں
پہلے تو اس حسےںکے خےالوں مےں گم رہا ۔۔ پھر اس کے بعد سب کے سوالوں مےں گم رہا
تشبےہ کس سے دوں اسے کےسے بےاں کروں ۔۔ بے مثل دلربا کی مثالوں مےں گم رہا
قطعات کے ذرےعے مسلم سلےم نے سماجی اور سےاسی برائےوں پر بھی بھرپور وار کئے ہےں۔ قطعہ بہ عنوان ”نام نہاد دھارمک رہنما“ کے یہ تےور دےکھےں:۔
موّدبانہ طرےقے سے بولتے بھی رہے۔۔ مگر نظر سے بدن کو ٹٹولتے بھی رہے
نظےرِ فقروقناعت بنے رہے لےکن ۔۔ بٹن ہوس کے لبادے کے کھولتے بھی رہے
”آمد۔آمد“ مےں مسلم سلےم نے صرف اےک دو غزلہ شامل کےا تھا لےکن ”سرمایہ “ مےں دو غزلوں کے علاوہ سہ غزلہ اور شش غزلہ بھی شامل ہےں جو انکی شعری توانائی کی نشاندہی کرتے ہےں۔ مسلم سلےم کا شعری کارواں کامےابی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ امےد ہے کہ یہ مجموعہ منظرِ عام پر آکر انھےں اردو کے نامور شاعروں کی صف مےں کھڑا کردے گا۔
مہدی جعفر، ، ۹۲۷، درےاآباد ، الہٰ آباد

مسلم سلیم موجودہ ا±رد±و ادب کے بلند ترین ستون
مسلم سلیم موجودہ ا±رد±و ادب کے بلند ترین ستون ہیں ۔آپ کی اشعار میں وہ کاٹ ہے جو ہیروںکی کرنوں سے پیدا ہوتی ہے۔ آپ کی شاعری میں ایک نےاانداز، ایک نئی روشنی ملتی ہے۔ آپ کی اشعار میں طنزو مزاح کا بھی سرمایہ ملتا ہے ۔سنجیدہ شاعری کی طرح طنزو مزاح کا عنصر بھی نئے رنگ میں نظر آتا ہے ۔

عبارت علی علوی تلاش، اٹلی.
(فیس بک آئی ڈی Urdish Ehbab

مسلم سلےم ۔ احتجاج کی اےک توانا آواز
نور الحسنےن، اورنگ آباد، مہاراشٹرا، انڈےا
ادب کے افق پر خصوصاً شاعری کے ذرےعہ اپنی شناخت بنانا آسان نہےں ہے۔ یہ وہ رہ گزر ہے جس پر جانے کتنے ہی مسافر برسہا برس چلتے رہے لےکن اپنی شناخت بنانا تو کجا اپنا نام بھی قارئےن کے ذہنوں مےں محفوظ نہ کراسکے۔ در اصل اس رہ گزر پر ہئی مسافر کامےاب و کامران ٹھہرتا ہے جو عام روش سے ہٹ کر قدم اٹھاتا ہے۔ جس کے سےنے مےں درمند دل ہوتا ہے اور جسکا دماغ بےدار ہوتا ہے۔ جسکی آنکھےں روشن ہوتی ہےں اور جو زمےن پر رہ کر بھی آفاق کے اسرار جانتا ہو وہ اپنا راستہ اور اپنی منزل خود ہی طے کرتا ہے۔وہ نہ تو کسی کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے اور نا ہی فرسودہ مضامےن مےں الجھتا ہے۔ جس کی شاعری مےں تہہ داری ہوتی ہے اور جس کے لہجے مےں اےک عجےب کشش اور تازگی ہوتی ہے۔ اےسے ہی باکمال شعراءکی فہرست مےں مےں مسلم سلےم کا شمار کرتا ہوں ۔ان کی شاعری وقت کی آواز ہے اور عصر کا آئےنہ بھی۔ وہ جوش مےں بھی ہوش نہےں کھوتے اور جذبات کے دھارے مےں نہےں بہتے بلکہ وہ جو کچھ بھی کہتے ہےں بہت سوج سمجھ کر، سنبھل کر اور نہاےت بے باکی سے کہتے ہےں۔ان کی شاعری کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ خفتہ ذہنوں کو بےدار کرنے کا ہنر جانتے ہےں اور نہاےت آسانی سے اپنا مافی الضمےر ادا کر جاتے ہےں۔
مسلم سلےم کی شاعری نامساعد حالات کا مرثیہ نہےں بلکہ احتجاج کی اےک اےسی مضبوط آواز ہے جو سےاسی، معاشرتی ، تہذےبی، اخلاقی اےوانوں کو جھنجھوڑنے کا ہنر بھی خوب جانتی ہے۔ مثلاً
زندگی کی طرح بکھر جائےں کےوں ہم اےسے جئےں کہ مر جائےں
کون ہے اس شہر مےں مجھ سے زےادہ باخبر۔۔ مجھ کو سارے بے وفاو¿ں کے پتے معلوم ہےں
وہ راہےں جن سے ابھی تک نہےں گذر مےرا ۔۔ لگا ہوا ہے انہےں راستوں کو ڈر مےرا
ترے خلوص کا منکر نہےں ہوں مےں لےکن ۔۔ ذرا ٹھہر ، یہ تری آّستےن مےں کےا ہے
مندرجہ بالا اشعار کی قراءت اےک اےسے باشعور بے باک شاعر کا تعارف کرواتی ہے جو نہ صرف اپنی دسترس مےں لوح و قلم کا اسرار رکھتا ہے بلکہ کھل کر کہنے کا دم بھی رکھتا ہے۔ وہ نہ تو بکھرنے سے خوف زدہ ہے اور نا ہی آستےن مےں خنجر چھپانے کر رکھنے والوں سے غافل ہے۔ وہ آگہی اور ادراک کا دامن تھامے ہوئے ہے اور زندگی کو زندگی کی طرح جےنے کی تلقےن کرنے والا شاعر ہے۔ وہ حالاتِ حاضرہ کا نباض ہے اور اپنی سو سالہ تارےخ کا نقےب بھی اور آج جن حالات سے اس قوم گزر رہی ہے اس کا نوحہ گر نہےں بلکہ نقےب ہے۔ وہ اعتراف کرتا ہے :۔
دےو قامت وہ شجر جب تےز آندھی مےں گرا۔۔ پستہ قد جتنے تھے پودے سب قدآور ہو گئے
لےکن وہ ماےوس نہےں ہے۔ وہ نہاےت اعتماد لہجے مےں اعلان کرتے ہے :۔
باطن کی ذرا آنکھ جو روشن ہو تو پھر ہم۔۔ دےکھےں گے وہ چےزےں جو منظر مےں نہیں ہےں
وہ دےکھنے مےں اب بھی تناور درخت ہے ۔۔ حالانکہ وقت کھود چکا ہے جڑےں تمام
مسلم سلیم کا لہجہ اگرچہ باغےانہ ہے لےکن غنائےت سے بھرپور ہے۔وہ لفظوں کے استعمال کا سلیقہ اور ہنر دونوں جانتا ہے۔ وہ اپنے اشعار مےں لفظوں کو موتےوں کی طرح پروتا ہے۔روانی اےسی ہے کہ گوےا درےا بہہ رہا ہے۔ خےال آفرینی و معاملہ بندی ان کے اشعار مےں اس طرح ّآتی ہے کہ دل ودماغ مےں بہت دےر تک اس کی بازگشت سنائی دےتی ہے۔ مسلم سلیم کی شاعری اےک سچے اور حساس انسان کی شاعری ہے۔ان کے کچھ اور خوبصورت اشعار ملاحظہ فرمایئے:
خاموشی سے ہر راز نہاں کھول رہا ہے وہ صرف تبسم کی زبان بول رہا ہے
روح کے کرب کا کچھ مداوا نہ تھا ڈاکٹر نےند کی گولےاں لکھ گےا
بچوں کو ہونے دےجئے احساس دھوپ کا نشو نما نہ روکئے ، ساےہ نہ کیجئے
ہر بار ےوں لگا کہ کوئی آ ئے گا مگر کچھ دور ہی سے لوٹ گئیں آہٹےں تمام
مجھ سے زےادہ وہ مےری پہچان سے ملا جو آےا مےرے گھر مےرے سامان سے ملا
مسلم سلیم شعبہ صحافت سے وابستہ ہےں۔ ےہ اےک اےسا پےشہ ہے جس کے اثرات بہت جلد ادب کے معےار اور مزاج کو نقصان پہنچاتے ہےں۔ موسمی اور وقتی موضوعات بڑی شاعری کے امکانات کو دےمک کی طرح چاٹ جاتے ہےں۔ لےکن صد شکر ہے کہ مسلم سلیم اسی صحافت مےں رہتے ہوئے اپنے فن کو بچا لائے۔
ان کے پاس سستی جذباتےات کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ پورے اعتماد کے ساتھ موضوع کو برتتے ہےں اور خارجےت کو اس انداز سے داخلےت کا حصہ بناتے ہےں کہ جگ بےتی، آپ بیتی مےں ڈھل جاتی ہے اور اجتماعی غم، غمِ ذات مےں تبدےل ہو جاتا ہے:۔
جب ہم نے زندگی کی گنےں راحتےں تمام لمحات مےں سمٹ سی گئےں مدّتےں تمام
´اب کچھ بھی فرقِ مغرب و مشرق نہےں رہا۔۔ زہرےلی ہو چکی ہےں جہاں کی ہوائےں سب
بھٹک رہا ہوںابھی زندگی کی صحرا مےں خبر نہےں کہ کہاں ختم ہو سفر مےرا
مندرجہ بالا اشعار مسلم سلےم کے اولےن مجموعے ”آمد۔آمد“ سے تھے تاکہ نےا قاری ان کی شعری نہج سے واقف ہو سکے اور نئے مجموعے تک ان کے ارتقائی سفر سے روشناس ہو سکے۔
زےرِ نظر مجموعے تک آتے آتے مسلم سلےم کے قلم مےں مزےد کاٹ آگئی ہے اور انھوں نے اردو غزل کا دامن وسےع تر کر دےا ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں۔
گِل خموش کا دےتا نہےں ہے ساتھ کوئی ۔۔ ہےں سارے حاشہ بردار عندلےب کے لوگ
آج صندوق سے دےرےنہ زمانے نکلے ۔۔ ڈائری کھولی تو ےادوں کے خزانے نکلے
نا گاہ جاگ اٹھا وہ، یہ ہم پر عذاب تھا۔۔ ہم خواب بُن رہے تھے وہ جب محوِ خواب تھا
محشر مےں ہم نے دےکھا عجب ہی حساب تھا ۔۔ ناکام جو یہاں تھا وہاں کامےاب تھا
پردا اٹھا کے دےکھا تو آنکھوں مےں تھی حےا۔۔ ےعنی کہ اس حجاب کے اندر حجاب تھا
بہار لائے تھے یہ، انکا احترام کرو ۔۔ خزاں رسےدہ درختوں کو بھی سلام کرو
کس قدر پانی ہے پہلے اس کا اندازہ کےا ۔۔ بند پھر اپنی مدد کا اس نے دروازہ کےا
”سرمایہ “ کی نماےاں خصوصےت ہے کہ شاعر مسلم نوجوانوں کو تشدد کی راہ چھوڑ کر امن کی طرف بلا رہا ہے۔ ےہاں تک کہ نعت کے شعر مےں بھی اس کا اظہار کرتا ہے۔
جہادِ زندگی لازم ہے مسلم جان لو لےکن۔۔ملے گی کامےابی صرف آقا کے طرےقے سے
اسی موضوع پر اےک قطعہ بھی ملاحظہ ہو۔
ہر طرف یہ پےام دےنا ہے ۔۔ امن کا اذنِ عام دےنا ہے
مےرے نزدےک مقصدِ اسلام ۔۔ رحمتوں کا نظام دےنا ہے
مسلم سلےم کی شاعری اےک اےسا جزےرہ ہے جو سمندر مےں اٹھنے والے طوفانوں کا مقابلہ کرنا بھی جانتا ہے اور اپنی بقاءکی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔ یہ جزےرہ ےقےنا آنے والے زمانے مےں توجہات کا مرکز بنے گا اور مسلم سلےم کے فن کی داد بھی دے گا۔
نور الحسنےن
اورنگ آباد، مہاراشٹرا، انڈےا

مسلم سلیم : جدید لب و لہجہ خوشگوار ہوا کا جھونکا
راشد خلیل، لاہور
شاعری انسانی جذبات کے اظہار کا ذریعہ ہوتی ہے۔اچھا شعر ہی شاعر کا تعارف ہوتا ہے۔ آجکل جس برق رفتاری سے شاعری کے مجموعے شائع ہو رہے ہےں، ان مےں اچھا مجموعہ ےا اچھا شعر تلاش کرناجوئے شےر لانے کے مترادف ہے۔سائنسی ترقی اور مشینی زندگی نے انسانی جذبات و احساسات اور روےوں کو اےسا مخبوط کر رکھا ہے کہ آج کا مادےت پرست انسان اعلیٰ روحانی، اخلاقی، سماجی اور تہذیبی روےوں کے عملی افادےت سے کوسوں دور چلا جا رہا ہے۔ اےسے ماحول مےں مسلم سلیم جےسے جدید لب و لہجے کے شاعر کا مجموعہ ©©©©”آمد آمد“ خوشگوار ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔ شاعر اپنے انداز و لہجہ اور مسحور کن کےفےتوں کے حوالے سے اےک معتبر حوالہ دکھائی دے رہا ہے۔مسلم سلیم نے جس علمی ، ادبی، مجلسی، تہذیبی اور معاشرتی ماحول مےں عربی، فارسی، ہندی، انگرےزی اور اردو زبان کے حوالے سے اےسی تربےت کا انداز پاےا ہے وہ ان کی ابتدائی شاعری مےں نظر آتا ہے:
کر دی مےراث وارثوں کے سپرد ۔۔۔ زندگی کس کے نام کر جائےں
ہمہ جہت مسلم سلیم بےک وقت عربی، فارسی، ہندی، انگریزی اور اردو زبانوں مےں مہارت رکھتے ہےں۔ اےک طرف وہ ہندی، انگرےزی اور اردو کے نامور صحافی ہےںتو دوسری طرف بہترین شاعر اور افسانہ نگار ہےں۔وہ زمانی روےوں کو اپنے شعر کے سانچے مےںکچھ اس انداز مےں سموتے ہےںکہ ان کا شعر سماجی اور تہذیبی حوالہ بھی بن جاتا ہے۔ تجربہ اور مشاہدہ تخلیق کے عمل مےں بنےادی حوالہ ہوتا ہے تب جاکر شعر مےں خےال آفرینی ، تخےل اور دےگر شعری محاسن اور معانی و مفاہیم کھلتے ہےں جو قاری کے لئے نہ صرف ذوق مطالعہ کا باعث ہوتے ہےں بلکہ عصری مسائل کا غماز بن جاتے ہےں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
کون ہے اس شہر مےں مجھ سے زےادہ باخبر ۔ مجھ کو سارے بے وفاو¿ں کے پتے معلوم ہےں
وہ دےکھنے مےں اب بھی تناور درخت ہے۔۔۔ حالانکہ وقت کھود چکا ہے جڑےں تمام
خاموشی سے ہر رازِ نہاں کھول رہا ہے ۔۔۔ وہ صرف تبسم کی زباں بول رہا ہے
وہ زےست کے پےالے مےں کہےں زہر نہ بھر دے۔ کانوں مےں جو آواز کا رس گھول رہا ہے

مسلم سلےم کی شاعری مےں مغربی شعر و سخن کے مطالعہ کی جھلک نماےاں نظر آتی ہے۔ الفاظ و تراکےب، روز مرہ اور محاورہ سے واقفےت، قافیہ اور ردےف کا بر محل استعمال، غزل مےں شاعر کے اعلیٰ فنکار ہونے کی دلےل ہے۔ بعض شعراءماورائی کےفےتوں اور آورد کے سہارے شعر و سخن کے مےدان مےں طبع آزمائی ضرور کرتے ہےں اور محدود وقت کے لئے وقتی تعریف کے مستحق قرار پاتے ہےںلےکن زےادہ عرصہ تک اپنا مقام قائم نہیں رکھ سکتے۔ مسلم سلیم کی شاعری اپنے عصری رچا و¿ کی بھر پور عکاس ہے۔ چند مزید اشعار ملاحظہ ہوں:

انسان کی کہانی ہے کہ درےا کی روانی ۔۔۔ آغاز سمندر ہے اور انجام سمندر
کس دن بساط زےست پلٹ جائے کےا خبر ۔۔ ہر مہرہ اپنے خانے مےں نامطمئن سا ہے
باطن کی ذرا آنکھ جو روشن ہو تو پھر ہم ۔۔۔ دےکھےںگے وہ چیزیں کہ جو منظر مےں نہیں ہےں
مسلم سلیم جو اےک اعلیٰ علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہےں اور حتی الامقدور اپنے اسلاف کی رواےت کی پاسداری بھی کر رہے ہےں۔ ان کا ذریعہ معاش صحافت ہے اسکے ساتھ علمی، فکری، تہذیبی اورادبی سرگرمےوں کو بھی جاری رکھا ہوا ہے۔مسلم سلیم عقلی، روحانی اور نفسےاتی موشگافےوں کو بہتر اندازمےں سمجھتے ہےں۔ ان کی شاعری مےں آنے والے عہد کا حوالہ بھی موجود ہے اور موجودہ عہد کا نوحہ بھی۔ انداز بےان سلاست کی عمدہ مثال ہے۔ اپنی پےشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ تخلےقی جوہر کی بھی آبےاری کرتے رہتے ہےں۔ بہت کم اےسا دےکھا گےا ہے کہ دونوں سطحوں پر انسان اپنے آپ کو فعال رکھتے ہےں۔ تخلےقی عمل بذات خود اےک مکمل جہان ہے۔ مسلم سلےم نے صحافت، نثر اور شاعری مےں اپنا لوہا منوا لےا ہے۔
تقدےر کی مجھ سے ےونہی تکرار چلے گی ۔۔ مےں سائے مےں بےٹھوں گا تو دےوار چلے گی
جےب کی گرمی سے کہتی ہے مری بے چہرگی ۔۔ جسم کے بازار چہروں کی دکانوں مےں چلےں
دوست ےوں جلاتے ہےں ، اےسے خوں رلاتے ہےں۔ محفلےں سجاتے ہےں، ہم کو بھول جاتے ہےں
داستان خود کو کہلواتی رہے گی ےونہی ۔۔ اےک جائےگا اک آئےگا سنانے والا
مسلم سلیم آورد کا شاعر نہیں اس کا شعری مواد اس کے ارد گرد کے ماحول اور مضبوط ہند و پاک کی شعری رواےات سے مزےن ہے۔ ان کی سخن فہمی مےں اےک موروثی، جےنےاتی اور نفسےاتی محرک عمل بھی کار فرما ہے۔مسلم سلیم کی شاعری مےںاےک روحانی اور ثقافتی حوالہ بھی خال خال ملتا ہے۔ شاعر ماضی کی ےادوں سے بھی اپناناطہ قائم رکھے ہوئے ہے۔بعض اوقات شہرت انسان کے تحقیقی عمل مےں اےک رکاوٹ بن جاتی ہے۔لےکن مسلم سلیم اےسے نابغہ¿َ روزگار شاعر ہےں جو شہرت کو پسند نہیں کرتے بلکہ خاموش مسافر کی طرح منازل عشق طے کرنے کا ہنر و شعور رکھتے ہےں:
نےک نامی کا صلہ گوشئہ تنہائی ہے ۔۔ جس کو شہرت کی تمنا ہو رسوا ہو جائے
باطن کی ذرا آنکھ جو روشن ہو تو پھر ہم ۔۔ دےکھےںگے وہ چیزیں کہ جو منظر مےں نہیں ہےں
مری فطرت مےں رچ گےا ہے خلوص ۔۔ اب مسلسل ےہی گناہ سہی
مسلم سلےم اپنے عہد کے بڑے نباض ہےں اور عمےق سماجی اور عصری شعور ان کے مزاج، گفتگو اور تحرےروں مےں جھلکتا ہے۔ تخلےقی عمل مےں سماجی اور معاشرتی روےوں کا مضبوط تارےخی اور ادبی پس منظر اشعار کی صورت مےں قاری کے لئے تفہےم کے نئے در وا کرتا ہوا دکھائی دےتا ہے۔ مسلم سلےم نے اپنے صحافےانہ تجربے اور مشاہدے کو شعر بنانے میںشعری حسن کا خاص خےال رکھا ہے۔ بعض اشعار تو زندگی کا مکمل خاکہ بنا دےتے ہےں اور قاری کے سامنے اےک تصوےر پھر جاتی ہے۔ اس اجمالی تفصےل مےں یہ بات عےاں ہے کہ مسلم سلےم جےسا ذی شعور شاعر آنے والے وقتوں کا معتبر حوالہ ہوگا جو ہم عصر زندگی سے قربت رکھتا ہے۔جدےد تہذےب پر طنز، رواےت پسندی، معاشرہ کی تہذےبی اور سماجی شکست و رےخت کا بےان انہےں اپنے ہم عصر شعراءسے ممتاز کرتا ہے۔
راشد خلےل، لاہور، پاکستان

مسلم سلیم کی غزل گوئی پر ایک نظر
پروفیسرحیدر عباس رضوی
ہندوستان کے وسط میں واقع شہر بھوپال متعدد علوم وفنون خصوصاً ادبیات کا ایک بڑا مرکز ہے۔ نوابی ریاست کے قیام کے ساتھ ہر شعبہ حیات کے ماہرین، علوم وفنون کے کاملین، عربی، فارسی اور اردو کے نامور مصنفین اور ممتاز شعراءوناظمین عزت واحترام کے ساتھ یہاں بلائے اور بسائے گئے۔ ان باکمالوں کی علمی مجلسوں ، ادبی محفلوں اور شعری نشستوں نے شہر میں صحت مند علمی وادبی قدروں اور صالح روایتوں کو فروغ دیا جن کا سلسلہ ہنوز قائم ہے۔ بھوپال ادبی طور پر ایک بیدار شہر ہے۔ یہاں عربی، فارسی، سنسکرت ، ہندی، سندھی ، مراٹھی ، انگریزی اور اردو کی متعدد ادبی انجمنیں اور مجلسیں قائم ہیں۔ ان انجمنوں کے ساتھ ساتھ ”بھارت بھون“ ہر نوع کی کلچرل سرگرمیوں کا ایک معروف قومی مرکز ہے نیز یہاں ہندی، سندھی اور اردو زبان وادب کے فروع کے لئے الگ الگ اکیڈیمیاں بھی قائم ہیں۔ مشاعرے، کوی سمیلن، ادبی نشستیں، سیمینار، کانفرنس، سمپوزیم وغیرہ وقتاً فوقتاً منعقد ہوتے ہی رہتے ہیں جن میں زبان کے اہل ذوق حضرات خوب دلچسپی لیتے ہیں ۔ علم وادب کی ایسی ہمہ گیر سرگرمیوں نے ادیبوں اور شاعروں ہی کو نہیں بلکہ ادب دوستوں کو بھی آپس میں جوڑ رکھا ہے۔ ان باہمی خوشگوار روابط سے شہر میں ایک مضبوط اور صحت مند ادبی ماحول قائم ہے جس میں مرحوم ادیبوں اور شاعروں کا ذکر یادرفتگاں کے طور پر کلمات خیر کے ساتھ کیا جاتا ہے، بزرگ شخصیتوں کا کلام ادب واحترام سے سنا جاتا ہے، مشاہیر کی قدر افزائی ہوئی ہے اور مبتدیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مہمان دانشوروں، ادیبوں، شاعروں ، صحافیوں نیز ادب دوستوں کی پذیرائی کا چلن یہاں عام ہے۔
اس ادبی ماحول میں مسلم سلیم متوطن ضلع ہردوئی، اترپردیش سے ۹۷۹۱ءمیں صحافتی ملازمت کے سلسلے سے بھوپال آئے اور یہیں کے ہورہے۔ وہ شمالی ہند کے ایک روشن خیال خاندان کے فرد ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ مصلح قوم سرسید احمد خاں نے جدید تعلیم کے فروغ کے لئے علی گڑھ میں قائم کردہ اپنے مدرسة العلوم ”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج“ جن چند طالب علموں کے ساتھ تدریس کا آغاز کیا تھا ان میں مسلم سلیم کے خاندان کے ایک فرد کا بھی داخلہ ہوا تھا۔ اس دور کے مسلمانوں کی رائے عامہ کے خلاف سرسید کے جدید تعلیم کے منصوبے میںتعاون کرنا ان کے خاندان کی دور اندیشی اور روشن خیالی کی دلیل تو ہے ہی بجا طور پر ایک امتیاز بھی ہے۔ مسلم کے دادا اپنے زمانے کے ایک تعلیم یافتہ فرد تھے جو ملک ایران کے کسی بینک میں ذمہ دار افسر کے منصب پر فائز تھے۔ قیام ایران کے دوران شاہانِ تاچار کے خانوادے کی ایک شاہ زادی کے ساتھ ازدواج کا رشتہ قائم ہونا ان کے خاندان کا ایک اور امتیاز ہے۔
مسلم سلیم کی تعلیم کی ابتداءعلی گڑھ میں ہوئی انہوں نے یونیورسٹی علی گڑھ سے گریجویشن اور الٰہ آباد یونیورسٹی سے عربی میں پوسٹ گریجویشن کی تکمیل کی ہے۔ اردو ان کی مادری زبان ہے نیز عربی ، فارسی ، انگریزی اور ہندی زبانوں میں انہیں کامل دست گاہ ہے۔ کتابوں کے مطالعے کا شوق تو طالب علمی کے زمانے سے پیدا ہوگیا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا رہا۔ اب انٹرنیٹ نے ان کے شوق کو مزید مہمیز کردیا ہے لہذا وہ ہر ممکن ذریعہ سے مطالعہ کتب اور معلومات کے حاصل کرنے میںوقت گزارتے ہیں۔ اس شوق اور شغل سے ان کی شناسائی اور تعلقات کا دائرہ قومی بلکہ بین الاقوامی ہوگیا ہے جو ان کی شاعری اور صحافت پیشگی دونوں کے لئے نہ صرف مفید بلکہ کارآمد بھی ہے۔ صحافت میں ان کا تعلق ابتداءمیں اردو اخبار آفتاب جدید سے تھا، بعد میں انگریز ی کے اخبارات، ڈیلی میل، ایم پی کرانیکل اور ہندوستان ٹائمس سے وابستہ رہے۔ بعدمیں مدھیہ پردیش کے محکمہ اطلاعات کے لئے خدمات انجام دین اور اب اپنی ویب سائٹ www.khojkhabarnews.com کووسعت دے رہے ہیں۔
شعر وشاعری کا ذوق مسلم سلیم کو ان کے والد سلیم واحد سلیم سے ورثے میں ملاہے جو اپنے زمانے کے ایک اچھے شاعر تھے۔ اب وراثت کے ساتھ ساتھ شاعری ان کے ذاتی ادبی ذوق وشوق کا مظہر ہے۔ مشق سخن میں انہوں نے سلامتی طبع ہی کو رہنما بنایا ہے۔ کلام پر کسی سے اصلاح نہیں لی ہے۔ اسکول کی تعلیم کے دور سے شعر گوئی کا آغاز کیا تھا۔ اسی زمانے سے علی گڑھ ، الٰہ آباد ، ہردوئی، بھوپال اور متعدد شہروں کی ادبی نشستوں اور مشاعروں میں کلام پڑھ رہے ہیں۔ چنانچہ بھوپال کے ادبی ماحول میں بخوبی متعارف ہیں اور یہاں کے شعر وسخن کے ماحول میں اپنی شناخت قائم کرلی ہے۔
نصب صدی کی اپنی مشق سخن میں مسلم سلیم نے اردو شاعری کی معروف اصناف حمد، نعت، منقبت، قطعہ، نظم، غزل، طنز ومزاح وغیرہ میں طبع آزمائی کی ہے۔ ان کے سرمایہ شاعری میں غزلیں زیادہ ہیں جن کی تعداد ابھی (دسمبر ۵۱۰۲) تقریباً ڈیڑھ سو ہے۔ اس صنف میں انہوں نے دو غزلے، سہ غزلے اور شش غزلے بھی لکھے ہیں۔ غزلوں کے علاوہ پچاس قطعے، دس نظمیں، تین حمدیں، چار نعتیں، ایک منقبت اور علامہ بھوپالی کے ادبی نام سے شائع شدہ طنزیہ ومزاحیہ کلام بھی ان کی شعری خدمات کا حصہ ہیں۔ مشق سخن کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ لہذا ان کے شعری سرمائے میں مزید امکان کی توقع ہے۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ ”آمدمد“ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی سے شائع ہوکر ادبی دنیا میں مقبول ہوچکا ہے۔
۹۷۹۱ءمیں مسلم سلیم جب بھوپال آئے تھے اس وقت بھی ہمیشہ کی طرح یہاں کی ادبی خصوصاً شعری نشستیں اردو ادیبوں، شاعروں اور باذوق سامعین کی شرکت سے پررونق تھیں۔ شہر کے ادبی ماحول میں اختر سعید خاں، ڈاکٹر ابومحمد سحر، سرسوتی سرن کیف، رفعت الحسینی، عشرت قادری، فضل تابش، قاسم نیازی، عابد اختر، رہبر جونپوری، مرتضیٰ علی شاد، اجلال مجید، رضا رام پوری، ظفر نسیمی، کوثر صدیقی، آغا سلطان حیدر حیدری، ساجد سجنی،ارمان اکبر آبادی، ظفر صہبائی، نصیر پرواز، نجیب اختر، علی عباس امید، شاہد ساگری، وقار فاطمی، شاہد میر وغیرہ کی شاعری کو توجہ سے سنا اور پڑھا جارہا تھا۔ شہر کے ادبی ماحول میں مسلم سلیم کی خوب پذیرائی ہوئی۔ بھوپال کی محبتوں کے جواب میں وہ بھی بھوپال سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی نظم ”نذر بھوپال“ اس محبت کا ایک خوبصورت اقرار واظہار ہے
کیسے یہ کہیں دیکھ لیا ہے بھوپال ۔۔ فطرت کی قسم روز نیاہے بھوپال
قدرت نے چٹانوں کے ہرے کاغذ پر ۔۔ تالابوں کے پانی سے لکھا ہے بھوپال
اس وقت سے تاریخ کا آنگن مہکا ۔۔اوراق پہ جس دن سے کھلاہے بھوپال
ہر وقت ہے مصروف غنا اس کی ہوا ۔۔ شاید کسی مطرب کی نوا ہے بھوپال
پایا ہے بہت اس کے مناظر میںطلسم ۔۔جانا کہ بہت ہوش رہا ہے بھوپال
برسوں سے ہے گہوارہ تعلیم یہ شہر ۔۔ سرچشمہ انوار وضیاءہے بھوپال
مسلم کو ملادشت نور وی کا صلہ ۔۔ قدرت نے اسے بخش دیا ہے بھوپال
مسلم سلیم کی شاعری کا محور ومرکز غزل ہے جو اردو کی ایک نہایت معروف اور خواص وعوام کے درمیان نہایت مقبول صنف شاعری ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اردو تاریخ کے ہر دور میں غزل گو شاعروں کی تعداد حد شمار سے اور شعری سرمایہ احاطہ تحریر سے مستغنی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ادب کے آسمان میں غزل کے شاعروں کے ناموں کی ایک خوبصورت کہکشاں سجی ہوئی ہے۔ اس ادبی کہکشاں میں صرف وہ چند شعرا ہی اپنے نام کی پہچان قائم کرنے میں کامیاب ہیں جنہوں نے کسی بھی وصف سے اپنی غزل کی پہچان بنائی ہے ۔ ادب کی تاریخ کے صفحات میں بھی انہیںکے نام محفوظ ہیں۔ مسلم سلیم اس لحاظ سے کامیاب ہیں کہ ان کی غزلوں میں افکار وخیالات کا دائرہ نہایت وسیع اور مضامین کا تنوع حیرت خیز ہے۔ صحافت کی فرائض کی ذمہ داریوں کی تکمیل کرتے ہوئے وہ زندگی کے عصری مسائل کے تمام خیر وشر اور ہر نشیب وفراز سے آگاہ رہے ہیں۔ عالم انسانیت کے دکھ درد اور تکلیفوں کا نہ صرف انہیں شدت سے احساس ہے بلکہ غزلوں میں ان کو بیان کرنے کا سلیقہ بھی آتا ہے۔ ان کی غزلوں کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائےے
رفتہ رفتہ ہم کو جینے کا ہنر آہی گیا ۔۔ پتھروں میں رہتے رہتے ہم بھی پتھر ہوگئے
روح کے کرب کا کچھ مداوا نہ تھا ۔۔ ڈاکٹر نیند کی گولیاں لکھ گیا
اب کچھ بھی فرقِ مغرب ومشرق نہیں رہا ۔۔ زہریلی ہوچکی ہیں جہاںکی ہوائیں
ڈالے نہ کیوں کمند ستاروں پہ آدمی ۔۔ قیدی ہے قید خانے میں نامطمئن سا ہے
مجھ سے زیادہ وہ مری پہچان سے ملا ۔۔ جو آیا میرے گھر مرے سامان سے ملا
خدا سے مانگنے ہر اک تمنا ساتھ لے آیا ۔۔ وہ مسجد میں بھی جب آیا تو دنیا ساتھ لے آیا
دولت سے داغِ جرم ہر اک صاف ہوگیا ۔ ۔ لو! وہ بھی آج شاملِ اشراف ہوگیا
مسلکوںکی باریکی ہم نہیں سمجھ پاتے ۔۔ راستوں کے اندر بھی ایک راستہ سا ہے
آنکھ کھلتے ہی حقیقت کی ہوئے کافور سب ۔۔ تشنگی کیسے بجھا پاتے سمندر خواب کے
ہو اگر عاجزتو پھر حاجت روا بنتے ہو کیوں؟ ۔۔ کام ہے یہ تو خدا کا ، تم خدا بنتے ہو کیوں؟
مغربی بازاریت کی دین یہ ہیجان ہے ۔۔ حسنِ نواں اب فقط تفریح کا سامان ہے
جہاں پہ راج ہے چنگیزی بربریت کا ۔۔ کسی کے دل میں بھی”بدھا“ نظر نہیں آتا
نہ جانے کس جگہ مل جائے دہشت ۔۔ دعائیں پڑھ کے سب گھر سے نکلنا
یخ بستہ ملاقاتیں، رشتے بھی ہیں برفیلے ۔۔ یہ آگ بھی کیسی ہے میں جس میں سلگتا ہوں
مذکورہ بالا اشعار مسلم سلیم کی غزلوں کے محض چنندہ نہیں بلکہ عام رنگ سخن کے نمائندہ اشعار ہیں، لہذا فکر کی وسعت اور مضامین کے تنوع کو ان کی غزلوں کا ایک وصف قرار دینا درست معلوم ہوتا ہے۔ غزل کے پیرائے میں انہوں نے ذاتی مشاہدات، تجربات ، نفس کی کیفیات، انسانی جذبات، معاشرتی حقائق، تاجرانہ تہذیب کا چلن، سماجی صداقتیں، سیاست کی فریب کاریاں، فرقہ پرستی کی زہرناکیاں،ترقی یافتہ ملکوں کی مفاد پرستیاں، جارحانہ قوم پرستیاں، ایٹمی اسلح کی مقابلہ آرائیاں، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقیاں وغیرہ متعدد مضامین بیان کئے ہیں۔ وہ اس رمز سے آشنا معلوم ہوتے ہیں کہ غزل کا دائرہ کائنات جتنا وسیع اور اس کے موضوعات و مضامین زندگی جیسے ہمہ گیر ہیں۔ موضوعات اور مضامین کی فراوانی کا تحفہ انہیں ان کی انسان دوستی کی صلاحیت، ملنساری کی فطرت اور احساس کی شدت کے ساتھ ساتھ صحافت نے عطا کیا ہے۔ صحافت نے خصوصاً انہیں دنیا کے انسانوں اور انسانیت کو درپیش مسائل ومعاملات سے باخبر رہنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ انٹرنیٹ کے استعمال نے انہیںبے شمار لوگوں سے متعارف کرادیا ہے۔ یہی ان کی فکر وخیال کے سرچشمے ہیں جن سے موضوعات اور مضامین اخذ کرکے انہوں نے اپنی غزلوں میں پیش کیا ہے۔
افکار وخیالات کو غزل کے پیکر میں پیش کرتے ہوئے مسلم سلیم نے عموماً رواں عروضی بحروں کا انتخاب کیا ہے۔ فاعلاتن، مفاعلن، فعلن یعنی عروضی مباحث پر وہ اپنی ادبی سوجھ بوجھ اور موزونی طبع کو ترجیح دیتے ہیں نیز قافیہ وردیف سے اپنی غزلوں میں زمینوں کے تنوع کا وصف پیدا کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائےے
جب بھی جذبوں کے لئے الفاظ نشتر ہوگئے ۔ کیسے کیسے پھول جیسے ہاتھ خنجر ہوگئے
جب ہم نے زندگی کی گنیں راحتیں تمام ۔ لمحات میں سمٹ سی گئیں مدتیںتمام
زندگی کس قدر ہے گراں لکھا گیا ۔ وقت چہروں پہ مایوسیاں لکھ گیا
ہم پھول گلستاں میں چنیں خار کھائیں سب ۔ دیکھیں جب ان کی سمت تو نظریں چرائیں سب
کج اداﺅں ، دل رباﺅں کے پتے معلوم ہیں۔ جسم سے اٹھتی صداﺅں کے پتے معلوم ہیں
ہیں کیافنا وبقا حبہ سے اثر سے ڈرو ۔ رہوں گا زندہ، مری موت کی خبر سے ڈرو
تھے درج ان کتابوں میں اخلاق کس قدر ۔ دیمک کی نذر ہوگئے اوراق کس قدر
جثہ تحیر کو لفظ میں جکڑتے ہیں ۔ شعر ہم نہیں کہتے تتلیاں پکڑتے ہیں
خوشا! کہ ختم ہوا بود وہست کا احساس ۔ چبھے گا اب نہ کبھی بندوبست کا احساس
سانسوں کے تانے بانے میں نامطمئن سا ہے ۔دل ایسے سرد خانے میں نامطمئن سا ہے
شاعری، افکاروخیالات کے الفاظ کے ذریعہ موزوں لیکن جمالیاتی اظہار کا فن ہے۔ شاعری کی ایک صنف ہونے کے باعث غزل میں بھی ان شرائط کی پابندی کی جاتی ہے لیکن غزل میں اظہار بیانیہ نہیں بلکہ اشارے اور کنائے میں کیا جاتا ہے لہذااس صنف میں الفاظ کا تفحص، ترتیب، ترکیب، تشبیہ، استعارہ، علامت وغیرہ کا احتیاط کے ساتھ انتخاب اور استعمال کیا جاتا ہے۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی نے تو غزل کو اظہار سے زیادہ اخفا کا فن کہا ہے۔ غزل کے فن کی تشریح وتفہیم میںیہ ایک اہم نکتہ ہے جس کی تفصیل کا یہ مناسب موقع ومحل نہیںہے۔ مسلم سلیم نے غزل کے فن کا مطالعہ تو دیدہ ریزی سے کیا ہے اور ا س کے فنی اجزا کو قبول بھی کیا ہے لیکن انہوں نے اپنے عہد کے شعری تقاضوں کے پیش نظر جدیدیت کی آمیزش سے اپنی غزلوں میں نیا لب ولہجہ اختیار کیا ہے۔ زبان پر انہیں قدرت حاصل ہے۔ اردو الفاظ، محاوروں اور ضرب الامثال کے عظیم سرمائے کو اپنے اظہار کے مطابق تصرف میں لانے کی وہ خوب مہارت رکھتے ہیں۔ اپنی غزلوں میں الفاظ کو وہ محض اظہار خیال کے وسیلے کے طو رپر استعمال کرتے ہیں ، شعر کی حسن کاری اور آرائش جمال کا ذریعہ نہیں بناتے۔ لہذا زبان کے لحاظ سے ان کی غزلیں اردو غزل کی عام روایت اور روش سے پرے نئی، انوکھی اور کبھی کبھی اجنبی لگتی ہیں۔ اس سبب صحافت کے ساتھ ان کی گہری وابستگی ہے۔ اسی کے اثرات ان کی غزلوں میں زبان اور لہجے پر اثر انداز ہیں
میں بازار سے کافی پردے لایا ہوں ۔ اب دیکھوں کیسے رسوائی ہوتی ہے؟
آج صندوق سے دیرینہ زمانے نکلے ۔ ڈائری کھولی تو یادوں کے خزانے نکلے
مغربی بازاریت کی دین یہ ہیجان ہے ۔ حسنِ نسواں اب فقط تفریح کا سامان ہے
یخ بستہ ملاقاتیں، رشتے بھی ہیں برفیلے ۔ یہ آگ بھی کیسی ہے میں جس میں سلگتا ہوں
دولت سے داغِ جرم ہر اک صاف ہوگیا ۔ لو، آج وہ بھی شامل اشراف ہوگیا
مسلم سلیم کی غزلوں میں عالمی انسانی معاشرے کے سانحوں اور حادثوں ، عالمی سیاست کی رسہ کشی، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی باہمی کشمکش ، افلاس زدہ اقوام کی بے بسی، دولت کی لوٹ مار، جرائم، بدعنوانیاں، مفاد پرستیاں غرض آہنگ حیات کو متزلزل کردینے والے حقائق کے اشارے، کنائے اور استعارے موجود ہیں مثلاً مغربی بازاریت، چنگیزی راج، نیم فاقہ نیم عریاں، مصنوعی سانس، نفرتوں کے دشت، لرزہ براندازم فضا، نقیبِ شورشِ فردا، ویرانیوں کے شہر، فریب کے ہزاروں نام، یخ بستہ ملاقاتیں، برفیلے رشتے، سمجھوتے کی زنجیر اور ایسی ہی متعدد ترکیبوں سے مسلم سلیم نے اپنی غزلوں کو نیا رنگ وآہنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
مسلم سلیم کی شعر گوئی کی ابتدا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طالب علمی کے زمانے میں ہوئی تھی۔ پہلی غزل غالباً ۰۷۹۱ میں لکھی تھی جس کا مطلع یوںتھا
ہر خواہش کب کس کی پوری ہوتی ہے ۔ ہوتی ہے پر تھوڑی تھوڑی ہوتی ہے
جدیدیت کے لب ولہجہ میں لکھی گئی یہ غزل دلیل ہے کہ مسلم سلیم ابتدائے فکر سخن سے ہی اپنے عہد کی جدید تر ادبی روش سے متاثر تھے اور ہونا بھی چاہئے تھا کہ اس زمانے کا علی گڑھ ملک میں جدیدیت کے ادبی نظریے کے تعارف، تفہیم اور ترویج کا ایک اہم مرکز تھا جہاں ایک طرف پروفیسر آل احمد سرور اور ڈاکٹر خلیل الرحمن اعظمی اپنی اپنی تنقیدی تحریروں سے جدیدیت کی تائید فرمارہے تھے تو دوسری طرف شہر یار ، بشیر بدر اور دیگر شعراءنئی نسل کے درمیان اس کی مقبولیت بڑھا رہے تھے۔ مسلم سلیم نے شعر گوئی کے لئے جدیدیت کو اختیار تو کیا لیکن اس نظریے کی ابتدائی شدت پسندی کے مقابلے میں اپنی طبیعت کی اعتدال پسندی پر قائم رہے۔ اپنی غزلوں میں انہوں نے استعارے برتے لیکن سریع الفہم، علامتیں استعمال کیں، قریب الفہم ، کنائے اختیار کئے اور روشن تر تلمیحات لائے۔ لیکن معروف تر، شعری اسلوب میں ان کی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ کسی احساس کو جس شدت سے خود محسوس کرتے ہیں اسے شعر میں بھی اسی شدت سے اظہار میں لانے کی تکنیک اختیار کرتے ہیں۔احساس کی شدت کے اظہار کے معاملے میں وہ کسی سمجھوتے کے قائل نہیں ہیں خواہ وہ شعر کی آرائش جمال ہی کیوں نہ ہو۔ جذبے کی شدت کے کھرے اور خالص اظہار سے ہی مسلم سلیم نے اپنی غزل گوئی کی شناخت قائم کی ہے۔ ان کی غزلوں میں ہموار روش اور مانوس فضاکا راز ہی یہ ہے کہ انہوں نے جدیدیت کے اندر اپنے لئے ایک معتدل اسلوب اور الگ رنگ اختیار کیا ہے
ارے ظالم کبھی لفظِ ”مکرر“ کہہ دیا ہوتا ۔ تمہارے نام کے تھے شعر فرمائش تو بنتی تھی
وہ جو روٹھا ہوا سا لگتا ہے ۔ سارا عالم خلا سا لگتا ہے
سفاک قاتلوں کو بچانے کے واسطے ۔ منصف نے بے گناہ کو قاتل بنادیا
دھرتی کی اپج ذات کے کسانوں کی نہ پوچھے ۔ انسانوں کا پوچھیں نہ کبھی دھرم ہوائیں
ٹوٹتے بکھرتے سے اعتبار کی شب ہے ۔ بے سبب امیدوں پر انحصار کی شب ہے
وقت معرکہ مسلم یار تھے تماشائی ۔ شور ہی مچا دیتے گر مدد نہیںکرتے
بھوپال کے ادبی ماحول میں جدیدیت مسلم سلیم کی آمد سے بہت پہلے بخوبی متعارف تھی۔ اس رنگ سخن کے کئی نمایاں نام تھے اور ہیں۔ بھوپال کے شاعروں کے درمیان مسلم سلیم متعارف ہیں۔ اپنی شاعری کے انفرادی رنگ سخن سے انہوں نے یہاں اپنی جگہ بنالی ہے لیکن مقامی شعری نشستوں میں وہ کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ دراصل انٹرنیٹ اور فیس بک پر وہ زیادہ مصروف ہیں جہاں ان کے مقامی، ملکی اور غیر ملکی قدر دانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ عصر حاضر کے اس الیکٹرانک ذریعہ ترسیل وابلاغ نے ان کے تعارف بلکہ شہرت کا دائرہ بہت وسیع کردیا ہے۔ کسی حکیم کا قول ہے کہ شہرت ہر شریف النفس انسان کی پہلی اور آخری کمزوری ہے۔ اس قول سے ”ہم ہوئے،تم ہوئے کہ میر ہوئے“ کوئی مستثنیٰ نہیں ہے۔ معاف کیجئے گا! مسلم سلیم بھی نہیں!!
مسلم سلیم اپنی شعری خدمات کی نصف صدی پوری کرچکے ہیں۔ شہر غزل بھوپال میں وہ تقریباً پینتیس سال سے قیام پذیر ہیں۔ یہاں غزل کی اعلیٰ روایات اور سازگار ادبی ماحول ان کی مشق سخن کو خوب سے خوب تر بنانے میں یقینا معاون رہا ہے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ”آمد آمد“ کئی برس پہلے شائع ہوکر مقبول ہوچکا ہے۔ اب دوسرا مجموعہ ”سرمایہ“ اشاعت کے مراحل میں ہے۔ فی زمانہ اپنی شاعری کے دو مجموعوں کی اشاعت شاعر کے لئے امتیازکا باعث ہے۔ اس امتیاز کے لئے مسلم سلیم مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ادب دوست حضرات ان کے نئے مجموعہ کلام کے منتظر ہیں۔ امید ہے کہ ادبی حلقوں میں اس مجموعے کی بھی خاطر خواہ پذیرائی کی جائے گی کیونکہ اس تازہ اشاعت سے بھوپال کے شعر وادب کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ ہوگا۔
سید حیدر عباس رضوی
۷/۶ کرییٹو (Creative) گارڈن، احمد آباد پیلس روڈ
کوہ فضا، بھوپال ، ایم پی 462001

مسلم سلےم کی شعری شناخت
جعفر عسکری،لکھنو¿
در حقےقت مسلم سلےم کو مےں اس وقت سے جانتا ہوں جب آج سے تقرےباً ۵۳ برس قبل وہ شہر الہ آباد مےں مےرے مکان سے نزدےک محلہ خلد آباد مےں اےک فلےٹ مےں ہ رہا کرتے تھے۔ وہ غالباً بےسوےں صدی کی ساتوےں دہائی کا درمےانی زمانہ رہا ہوگا جب مےرے اس دور کے مخلص دوست فضل حسنےن (مزاح نگار) نے موصوف سے مےرا تعارف کراےا تھا۔ کشمےری وضع قطع اور ناک نقشے کے گورے چٹے نوجوان سے جوں جوں ملاقاتوں کے سلسے دراز ہوئے، ان کی شخصےت مےں پوشےدہ بعض اوصاف مجھ ہےچمداں پر آشکارا ہونے لگے۔ اس زمانے مےں مسلم سلےم نے مجھے اپنی جس ادا سے خصوصےت سے متاثر کےا تھا وہ ان کی آواز کا جادو تھا۔ وہ اچھے خاصے گلوکار تھے۔ مجھے بخوبی ےاد ہے کہ غزلوں کے علاوہ وہ ممتاز گلوکار محمد رفےع کا اےک گانا ” سہانی رات ڈھل چکی، نہ جانے تم کب آو¿ گے“ خاصے پر اثر انداز مےں گا کر سناتے تھے۔ اور پھر رفتہ رفتہ مجھ پر ان کے ادبی اور شاعرانہ ذوق کے اسرار و رموز بھی بے نقاب ہونے لگے تھے۔تقرےباً ۲۸۹۱ کے اوائل مےں، مےں الہ آباد کی سکونت ترک کرکے لکھنو¿ مےں مستقل طور پر قےام پزےر ہوگےا اور بعض دےرےنہ احباب کی طرح موصوف سے بھی روز کی ملاقاتوں کے سلسلے بھی منقطع ہو چکے تھے۔
لکھنو¿ مےں مےرے قےام کے دوران، مزاح نگار نے مجھے بتاےا کہ مسلم سلےم الہ آباد سے بھوپال مےں بودوباش اختےار کر چکے ہےں۔ ماہ و سال گزرتے رہے اور پھر مجھے مسلم سلےم کا کلام بعض رسائل مےں نظر آےا۔ خصوصےت سے ۰۹۹۱ کے بعد سے بھوپال سے شائع ہونے والے اردو روز نامے ” ندےم“ مےں انکی بعض غزلےں نظر نواز ہوئیں۔ ندےم کا ہفتہ وار ضمیمہ مےرے کرم فرما حبےب احمد صاحب کی عناےت سے مجھے گذشتہ کئی برسوں سے موصول ہو رہا ہے۔ مسلم کے اشعار مےں شعرےت نظر آئی۔
اس تفصےل کا اجمال یہ ہے کہ ۱۱۰۲ کے غالباً ماہِ جنوری کے اواخر کی کوئی تارےخ رہی ہوگی کہ اچانک مےرے موبائل کی گھنٹی بجی ۔ دوسری جانب مسلم سلےم تھے۔ عرصہ دراز کے بعد ان کی آواز سماعتوں مےں رس گھول رہی تھی۔ تھوڑے دن گذرے ہوں گے کہ موصوف نے اپنا مجموعہ کلام ” آمد آمد“ ارسال فرماےا جسکی ورق گردانی کرتے ہوئے پہلی مرتبہ مجھ پر باقاعدہ ان کے بعض مخفی شعری محاسن آشکارا ہوئے۔ شدت سے یہ احساس ہوا کہ ان کے کلام مےں عصری حسےت بھی ہے، تخےل کی بلاغت بھی ہے، فکری بلوغت بھی ہے نےز فنّی و تخلےقی ہنر مندی بھی ہے اور احساس اور جذبہ بھی اپنی جلوہ سامانےاں بکھےرتے نظر آرہے ہےں۔
”آمد آمد“ مےں شامل اشعار جن مےں غزلوں کے علاوہ حمد، نعت اور منقبت کی اصناف مےں مدحیہ اشعار بھی شامل ہےں، در اصل زندگی کی گوناگوں حقےقتوں کی ترجمانی کرتے ہےں۔ اےک خصوصےت اور۔۔مسلم سلےم نہ تو پےشہ ور مشاعروں کے شاعر ہےں اورنہ شعراءکے اس قبےل سے تعلق رکھتے ہےں جو بے تحاشہ شعر کہتے ہےں محض تفننِ طبع کے لئے! اس سلسلے مےں وہ خود رقم طراز ہےں:
”نہےں کہتا تو مہےنوں برسوں نہےں کہتا اور جب آمد کا ہجوم ہوتا ہے تو گھر ہو ےا دفتر، سفر ہو ےا حضر، اشعار کا ورود ہوتا ہے۔۔۔۔ کبھی کبھی برسوں کے بعد دس پندرہ دن آتے ہےں جب لگتا ہے کہ ذہن مےں آمد کا کوئی بٹن دب گےا ہو۔ ان دنوں مجھ پر وجد کی سی کےفےت طاری رہتی ہے اور مےں جھوم جھوم کر ان نو آوردگان کا استقبال کرتا ہوں۔ جب مجھ جےسے کم علم پر ےہ اشعار گہرا تائثر چھوڑتے ہےں، تو مےں مطمئن ہو جاتا ہوں کہ اہل ذوق حضرات انہےں ےقےنا پسند کرےں گے“ ( ماخوذ از” آمد آمد“، ص ۵)
متذکرہ بالا سطور کا جائزہ لےنے پر ےہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ ان کی شاعری کی سطح بلند ہے۔ ےہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ان کی شاعری کا خمیر زندگی اور اس کی مظاہر کی آمےزش سے تےار ہوا ہے۔ اس وجہ سے ان کے اشعار مےں فکر و خےال کی متنوع جہتےں پرت در پرت کھلی ہوئی دکھائی دےتی ہےں۔ دراصل وہ خےالی دنےا کے شاعر نہیں ہےں بلکہ بےداری اور باخبری کے شاعر ہےں۔ مندرجہ ذےل اشعار اس حقیقت کی غمازی کرتے نظر آتے ہےں:

بعد مدت کے جب سامنا ہو گیا میں تو بندہ رہا وہ خدا ہوگیا
ایک پل دوری کا احساس نہیں ہوتا ہے کےا کہوں کب وہ مرے پاس نہیں ہوتا ہے
تم آنکھ موند لو گے، وہ دیکھتا رہے گا مانو اسے نہ مانو وہ تو خدا رہے گا
ہائے کمبخت محبت کے گنہگار ہیں ہم پھر کوئی زخم نیا کھانے کو تیار ہیں ہم
زندگی کا ثبوت دو یارو کیوں ہے سنّاٹا کچھ کہو یارو
آج پھر اس کے کوچے کو نکلے جس کے جیسا کوئی بھی نہیں ہے
مدتیں ہو گئیں اس کو دیکھے یار کیا اب بھی اتنا حسیں ہے
یہی بس مشغلہ ہے اب تومسلم لکیریں کھینچنا اور پھر مٹانا
متذکرہ بالا مثالےں مسلم کی متنوع و مستند شاعرانہ شناخت کے لئے کافی ہےں۔درحقیقت ان کے سرماےہ¿ سخن کا اےک حصہ فکری بلوغت، گہری دردمندی، عمیق مشاہد ہ، فنی رچاو¿ کے ساتھ ہی زندگی کی انفرادی و اجتماعی حقیقتوں اور بصیرتوں کا ترجمان ہے۔ مختصر یہ کہ مسلم کی شاعری محض ان کی ذات کا نہیں بلکہ گردو پےش کی تلخ و شےرےں حقیقتوں کا شاعری اظہار ہے اور انکشاف بھی۔

ڈاکٹر جعفر عسکری (انتقال ۶۱۰۲)
239, MUMTAZ MAHAL COMPOUND,
GOLAGANJ, LUCKNOW-18

نبّاضِ عصر مسلمسلےم
نذےر احمد سامی، الہ آباد
مےں مسلمسلےم سے گذشتہ تےس برسوں سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ ان کا مدّاح بھی ہوں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ شاعرو افسانہ نگار کی حےثئےت سے انھوں نے ہمشہ سماج کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھا ہے لےکن اےسا کرتے وقت انھوں نے اعلیٰ شعری و ادبی معےار کو قائم رکھا ہے۔ ان کے اشعار اور افسانوں مےں کلاسکس کا رچاو¿ ، نفسےات کا عمےق مطالعہ اور گہرا مشاہدہ پاےا جاتا ہے ۔مثال کے طور پر چند اشعار پےش ہےں
ہےں کےا فناءو بقا، جثئہِ اثر سے ڈرو رہوں گا زندہ مری موت کی خبر سے ڈرو
تمام شہر کے دروازے نےچے نےچے ہےں بہت بلند نہ ہو جائے اپنے سرسے ڈرو
روح کے کرب کا کچھ مداوا نہ تھا ڈاکٹر نےند کی گولےاں لکھ گےا
چمنی سے ابلتی ہے وہ زنجےر دھوئےں کی آزاد ہوا اب سے گرفتار چلے گی
محدود وسعتےں بھی مجھے دے گئےں شکست صحرا بوجہِ لرزشِ پا بے کراں سے ہے
ٹوٹی ہے گر کے چےز کوئی بارہامگر سر پر محےط اب بھی وہی آسماں سے ہے
مسلمسلےم نے اپنے نثری و شعری سرمایہ کی بنےاد ان چےزوں پر رکھی ہے جو کسی فنکار کو اپنے عہد کا نمائندہ بنانے کے لئے ناگزےر ہوتی ہےں۔ اچھے فنکار کو اگر تنقےدی شعور بھی ہو تو اس کے فن مےں چارچاند لگ جاتے ہےں۔ وہ اس شعور کو الہ آباد سے شاےع جرےدہ ’اندازے‘ کے ذرےعے ثابت کر چکے ہےں جس مےں اسد بداےونی کے شعری مجموعہ پر ان کا سےر حاصل تنقےدی مضمون شاےع ہوکر دادِ تحسےن حاصل کرچکا ہے۔اسی طرح ’روشن‘ کے فانی نمبر مےں شاےع ان کے مضمون ’فانی۔فن اور زندگی‘ مےں فانی بداےونی کے کلام پر نئی روشنی ڈالی گئی ہے۔فانی وہ شاعر ہے جس پر زمانے والوں نے قنوطےت اور رجعت پسندی کی مہر ثبت کر رکھی ہے۔ لےکن مسلم سلےم نے دلائل و تجزےات سے ثابت کےا ہے کہ فانی اےک حقےقت پسند، حوصلہ مند، حساس انسان اور انسان دوست تھے۔ اس مضمون نے فانی کے ارد گرد بنے ہوئے نام نہاد ناقدوں کے تانے بانے کو مسمار کر دےا ہے۔
مسلم سلےم کی شخصےت کا اہم ترےن پہلو یہ ہے کہ ان کی ذات بے حد متنوع اور متضاد شعبوں مےں منقسم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دوستوں کی تعداد بے شمار ہے جوقطعی مختلف المزاج ہےں اور مزے کی بات ہے کہ ہر دوست مسلم صاحب کی علیٰحدہ علٰےحدہ خصوصےات سے واقف ہوتا ہے اور دےگر خوبےوں کی اسے ہوا بھی نہےں لگتی۔ جہاں تک راقم الحروف کا سوال ہے تو اس نے مسلم سلےم کو تقرےباً ہر رنگ مےں دےکھا ہے۔ مےں مسلمسلےم کے جس قدر نزدےک آےا ہوں اسی قدر ان کی غےر معمولی ذہانت اور علمےت کا معترف ہوتا گےا ہوں۔ انھےں انگرےزی، عربی، فارسی، اردو اور ہندی پر دسترس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بے پناہ تخلےقی اور تنقےدی شعور کا حامل ہونا کوئی معمولی کارنامہ نہےں کہا جاسکتا۔ آئےے مسلمسلےم کو ان کے منتخب اشعار کی روشنی مےں دےکھا جائے۔
اسے کب یاد آیا یاد کرنا مجھے کب یاد آیا بھول جانا
قسمیں وعدے پیار وفائیں کہئے تو کچھ یاد دلائیں
سائے آتے ہیں سائے جاتے ہیں آدمی کم ہی پائے جاتے ہیں
دولت نہ تخت وتاج نہ شہزادی چاہئے ہم کو تو صرف خوف سے آزادی چاہئے
پرانے بام و در ڈھونڈا کےے ہم نئے گھر میں وہ گھر ڈھونڈا کےے ہم
پارکھی نگاہوں کے سامنے یہ منظر ہے ذرّے میں زمانہ ہے بوند میںسمندر ہے
ضرور کرنا، کہا کب کہ پےار مت کرنا مگر ہماری طرح بے شمار مت کرنا
ورق ماضی کے الٹوں گا میں ڈھوندوں گا گلی تیری
بہت دیکھی ہوئی سی شکل ہے اے اجنبی تیری
مری عظمت کے قصّوں پر نہ جانا مرے بارے میں افواہیں بہت ہیں
جیت رکّھا ہے جس نے ایک جہاں دل وہ ہارا ہوا سپاہی ہے
مندرجہ بالا اشعار کی تشرےح کئی کئی صفحات مےں کی جاسکتی ہے جو فی الحال جگہ کی قلّت کے سبب ممکن نہےں۔ مےری دعا ہے کہ مسلمسلےم اسی طرح اردو زبان و ادب کو نوازتے رہےں۔وہ چاہتے تو دےگر زبانوں مےں بھی اپنی ذات کا اظہار کر سکتے تھے مگر اردو کی یہ خوش نصےبی ہے کہ ان کو اس سے والہانہ محبت ہے
نذےر احمد سامی، الہ آباد

مسلم سلےم کی ©”آمد آمد“
ظفر نسےمی، بھوپال
سےنئر جرنلسٹ مسلم سلےم کا پہلا شعری مجموعہ ’ ©’آمد آمد“کے نام سے ادبی افق پر نمودار ہوا ہے جس پر اہل ِ ذوق کی نگاہےں لگی ہےں۔ اس مختصر سے مجموعہ کلام نے ادبی دنےا مےں اےک ہلچل سی پےدا کردی ہے۔
” مےں آورد کا شاعر نہےں ہوں۔ اشعارمجھ پر وارد ہوتے ہےں۔“ یہ کہنا ہے مسلمسلےم کا۔ آئےے اس بہانے ان کے کلام کا جائزہ لےتے ہےں۔ لےکن اس سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ بردباری، سنجےدگی اور متانت ان کی شخصےت کے خاص جزو ہےں۔ علمی بصےرت، صوفےانہ فطرت، دانشورانہ ذہانت اور لہجے کی صداقت ان کی خاص صفات ہےں۔ مےں انھےں اےک خاموش طبےعت انسان کے روپ مےں دےکھتارہا ہوںکےونکہ وہ بہت کم سخن ہےں لےکن جب وہ بولتے ہےں تو ان کے فصاحت آمےز کلمات دلوں مےں اترتے چلے جاتے ہےں۔ علاّمہ اقبال کا اےک شعر ہے۔
نہےں منّت کش ِ تابِ شنےدن داستاں مےری َََ خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں مےری
علاّمہ اقبال نے یہ شعر ملت کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ہوگا لےکن مسلم سلےم پر کُلّی طور پر صادق آتا ہے۔ جب ان کی خاموشی ٹوٹتی ہے تو نہاےت دلگدازاشعار وجود مےں آتے ہےں جو سامعےن کو چونکا دےتے ہےں۔ ان کا مشاہدہ بہت گہرا ہے۔وہ جو کچھ دےکھتے اور محسوس کرتے ہےں اسے من و عن بےان کردےتے ہےں۔اس اظہار کی بےساختگی کو انھوں نے آمد کا نام دےا ہے اور ےہی ان کے فطری شاعر ہونے کی علامت ہے۔ عام شاعر جو کچھ کہتے ہےں اس پر بار بار غور کرتے ہےں۔ کبھی قواعد کی رو سے اور کبھی عروض کے اعتبار سے قطع و برےد کرتے ہوئے الفاظ کی ترتےب بدلتے ہےں۔ بندشےں چست کرتے ہےں۔ اس مشقت کو نوک پلک سنوارنے کا نام دےتے ہےں تب کہےں بہ مشکل تمام اےک شعر وجود مےں آتا ہے۔ مسلم سلےم کے اشعار سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جو شعر ان کے ذہن مےں اےک بار وارد ہوتا ہے ہو اسے وےسا کا وےسا ہی رقم کر لےتے ہےں۔ پھر اس کے بعد کسی کسی ترمےم و تنسےخ کی گنجائش نہےں رہتی۔ اس سے آمد آمد کا ان کا دعویٰ صحےح معلوم ہوتا ہے۔ ان اشعار مےں ان کی بےساختگی، سہلِ ممتنع اور الفاظ کی جدےد ترکےبات ملاحظہ کےجئے ۔
مجھ پہ بس مےری حکمرانی ہے ۔ ےوں جےا ہوں، ےونہی جےوں گا مےں
اب لباسوں کا کےا ہی کہنا ہے ۔ کچھ نہےں پہنا ، اور پہنا ہے
یہ حسےں بت ہےں سنگِ مر مر کے ۔ آخرش ہےں تو یہ بھی پتھر کے
خود اپنے آپ ہی ابن ِ سبےل بھٹکا ہے ۔ وگرنہ سےدھی تھی اور اب بھی ہے صراطِ وجود
ترے خلوص کا منکر نہےں ہوں مےں لےکن ۔ ذرا ٹھہر، یہ تری آستےن مےںکےا ہے
مندرجہ بالا صفات کے علاوہ مسلم سلےم کی اےک صفت تلوّن مزاجی بھی ہے۔ وہ کسی اےک نظرئے کو لےکر نہےں چلتے۔ وہ قدرت کی پےدا کردہ تمام تخلےقات پر نظر رکھتے ہےں اور جہاں سے جو کچھ ملتا ہے اخذ کرلےتے ہےں۔
ہر اک خےال کی تصوےر اسمےں ملتی ہے نگار خانہ¿ِ تخئےل شاعری مےری
رفتہ رفتہ ہمکوجےنے کا ہنر آہی گےا پتھروں مےں رہتے رہتے ہم بھی پتھر ہو گئے
تھی کڑی دھوپ تو کب انکو پرےشانی تھی برف پگھلی تو بہت چونک کے پتھر جاگے
ڈالے کمند کےوں نہ ستاروں پہ آدمی قےدی ہے، قےد خانے مےں نا مطمئن سا ہے
وہ شاعر ہی کےا جس کے اشعار مےں تغزل نہ ہو۔ مسلم سلےم بھی اس جوہر سے متصف ہےں۔ انھوں نے تغزل مےں نےا انداز اےجاد کےا ہے۔ رواےت سے منحرف تو نہےں ہےں لےکن رواےت مےں اپنے لہجے کے بل پر جدّت کے قائل ہےں۔ یہی لہجہ کا نےا پن انھےں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ مےر و سودا کے دور سے لےکر آج تک حسن و عشق کے موضوعات پر لاکھوں اشعار کہے گئے ہےں۔ تازہ کلام مےں کسی خےال کا دہرانا بعےد از قےاس نہےں ہے۔لےکن مسلم سلےم کے اشعار پڑ ھ کر اےسا گمان نہےں ہوتا کہ یہ بات پہلے کہی گئی ےا اس طرح کہی گئی ہے۔ ملاحظہ ہوں یہ اشعار۔
محفلِ ادراک مےں توڑا سکوتِ بے حسی جرم کتنا خوبصورت جنبشِ لب نے کےا
پہلے مرنے کا کوئی خوف نہےں تھا مجھ کو تم کو پاےا ہے تو اندےشہ¿ِ جاں کتنا ہے
رشتے بنائے رکھنے مےں لازم ہے احتےاط اسکو خبر نہےں ہے کہ اس سے خفا ہےں ہم
خاموشی سے ہر رازِ نہاں کھول رہا ہے۔۔ ۔´ وہ صرف تبسم کی زباں بول رہا ہے
الفت بھی عجب شے¿ ہے، وہ خاموش ہے لےکن اس شوخ کا ہر عضوِ بدن بول رہا ہے
مےں اےسا اس کے تصور کی راہ مےں کھوےا ۔۔۔ وہ آگےا تو مرا انتظار کرنے لگا
تغزل کے ساتھ ان کے اشعار مےں انسانی نفسےات کو سراغ بھی ملتا ہے۔ کبھی کبھی انسان کی سادہ مزاجی ےا کسر نفسی بھی دلوں کو موہ لےتی ہے۔ یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ گھر کے رکھ رکھاو¿ سے صاحبِ خانہ کی حےثےت اور مزاج کی شناخت ہوتی ہے اور اکثر ہم اپنی انا کی شکست کو قبول نہےں کرتے ۔مسلم سلےم کے یہ اشعار اےسی ہی انسانی نفسےات کو واضح کرتے ہےں۔
نہ مےں حسےں تھا، نہ خوش ادا تھا، نہ خوش گلو تھا
مگر مری بے بسی دل اسکا لبھا گئی تھی
مجھ سے زےادہ وہ مری پہچان سے ملا ۔۔۔ جو آےا مےرے گھرمرے سامان سے ملا
ہمکو منظور نہ تھی اپنی انا کی سُبکی۔۔ ۔ ہم سمجھ بوجھ کے دےتے رہے دھوکا خود کو
ان کو شرم آتی ہے ہم کو جب بلاتے ہےں
منہ سے کچھ نہےں کہتے، چوڑےاں بجاتے ہےں
کمرے مےں ہوس کو تو چھپا لےتے تھے لےکن ۔ اب عشق ہے اور عشق ٹھہرتا نہےں حد مےں
نفسےاتی تجزیہ کی روشنی مےں یہ شعر پھر دہرائےے۔
پہلے مرنے کا کوئی خوف نہےںتھا مجھ کو ۔۔۔ تم کو پاےا ہے تو اندےشہ¿ِ جاں کتنا ہے
یہ بات کتنی خوبصورتی سے کہی گئی ہے کہ محبوب کو پانے سے پہلے شاعر کی نظر مےں اسکی زندگی کی کوئی قےمت ہی نہےں تھی لےکن اس کو پانے کے بعد اس کو خود اپنی جان زےادہ عزےز ہو گئی ہے کےونکہ اس کی جان کا زےاں محبوب کے لئے باعث ِ محرومی ہوگا۔ اس اذےّت کا وہ تصور بھی نہےں کرنا چاہتا۔
مسلم سلےم کا کلام عصری حسّےت کا آئےنہ دار ہے۔ وہ زندگی کے مشاہدات اور تجربات کو مہارت کے ساتھ اشعار کے سانچے مےں ڈھالتے رہتے ہےں۔ اس شعر کی تہہ داری ملاحظہ فرمائےے ، درد کی ساری کےفےات دو مصرعوں مےں سمٹ آئی ہےں۔
آثار ِ کرب سب سے چھپاتا پھرا مگر۔۔ ۔بستر پہ نقش ہو ہی گئےں کروٹےں تمام
مسلم سلےم کی شاعرانہ فکر مےں موضوعات کی بو قلمونی اس طرح جھلکتی ہے کہ کہےں وہ زندگی اور موت کا فلسفہ بےان کرتے ہےں، کہےں کائنات کے وجود پر رائے زنی کرتے ہےں اور کہےں فزکس اور کےمسٹری کے راز کھولتے ہےں۔
زندہ ہوں اب بھی گر ہے تنفس کا نام زےست ۔ سےنے مےں کوئی چےز جو زندہ تھی مرگئی
سج گئی بزمِ انجم ےکاےک ۔ منتشر اےک نقطہ ہو ا تھا
خداےا دل کو بےنائی عطا کر ۔ نظر کی راہ مےں حدِّ نظر ہے
نہ احتےاط و تکلف نہ انضباطِ وجود ۔۔۔ وفور ِ جذب اگر ہو تو ہے نشاطِ وجود
مسلم سلےم نے ڈاکٹر اقبال کا بھی گہرا مطالعہ کےا ہے چناچہ اس کے تاثّرات ان کے کلام مےں کہےں کہےں نظر آجاتے ہےں۔
اپنااقبال ہو رہا ہے بلند ۔۔۔ شرحِ بانگِ درا سمجھنے لگے
چل کے چٹّانوں سے سےکھےں زندگی کے کچھ ہنر ۔ ۔ آ مری جےنے کی خواہش سخت جانوں مےں چلےں
ہےں ہمارے جاگتے لمہوں پہ حاوی پستےاں ۔ آنکھ لگ جائے تو پھر ہم آسمانوں مےں چلےں
جےسا کہ مےں پہلے ذکر کر چکا ہوں، مسلم سلےم قلم برداشتہ اشعار لکھتے ہےں۔ عام بول چال کی زبان کا استعمال کرتے ہےں اور ضرورت ہو تو انگرےزی الفاظ کی بھی خوشنما پےوندکاری کرتے ہےں۔
سب اسکی رفتار سے ہارے طائر کےا طےارہ کے ۔ ہمکو ترا ی۔مےل سلامت، قاصد کےا ہرکارہ کےا
روح کے کرب کا کچھ مداویٰ نہ تھا ۔۔ ڈاکٹر نےند کی گولےاں لکھ گےا
مسلم سلےم شہرت سے گرےز کرتے ہےں اس لئے وہ مقامی نشستوں ےا مشاعروں مےں نظر نہےں آتے۔ مقامی پرچوں مےں بھی شاذونادر انکا کلام دےکھنے کو ملتا ہے۔لےکن ہائی۔ٹےک مےڈےا سے شغف رکھتے ہےں۔ ان کی اپنی وےب سائٹس بھی ہےں جن کے ذرےعہ وہ سمندر پار تک کے دوستوں ، ادےبوں اور شاعروں سے رابطہ رکھتے ہےں۔
ان کا یہ مجموعہ¿ِ کلام زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ مےں انکے اس خےال کی تائےد کرتا ہوں کہ۔۔
کچھ اس خوبی سے ہم نے گل کھلائے ۔ زباں چپ تھی، قلم نے گل کھلائے
امےد ہے کہ وہ انشاءاﷲ اےسے ہی گل کھلاتے رہےں گے۔

ظفر نسےمی ، بھوپال

دنیا کے۵۳ر شعراءکے مسلم سلیم
کو۹۵ منظوم خراج عقیدت

مسلم سلیم کو شعری نذرانے

ڈاکٹراحمدعلی برقی اعظمی،نئی دہلی
وقت کی آواز ہےں مسلم سلےم
شاعرِ ممتاز ہےں مسلم سلےم
جانفزا ہے انکا تخلےقی شعور
صاحبِ اعجاز ہےں مسلم سلےم

ثروت زیدی بھوپالی
شعروسخن کے تاج ہیں دل کے امیر ہیں
لفظوں کی انجمن میں انیس و دبیر ہیں
غالب نواز قوم نے اعلان کر دیا
مسلم سلیم اردو گھرانے کے میر ہیں
تنوےر پھول (نےو ےارک)
نغمہ¿ِ تہنےت ہے ہر لب پر
بھائی مسلم سلےم دےدہ ور
خوش نوا، خوش ادا، بہت مخلص
آسمانِ ادب پہ مثلِ قمر
دےکھ لو وےب سائٹ اردو کی
بھائی مسلم کا خوب ہے یہ ہنر
نور پھےلاتے ہےں ادب کا صدا
داد دےتے ہےں سارے اہلِ نظر
ان کی تحرےر ہے بہت اعلیٰ
ان کا طرزِ سخن رہے گا امر
کےا شگفتہ مزاج ہے ان کا
دل ہے ان کا محبتوں کا نگر
ذات مےں اپنی انجمن ہےں یہ
کرتے ہےں خوب یہ دلوں مےں گھر
حق پرستی، خلوص اور الفت
ان سے معمور ان کے قلب و جگر
زندہ دل، کہنہ مشق اور خوش گو
جاری برسوں سے ہے ادب کا سفر
دل سے ان کا کلام پڑھئے اگر
ان کی تحرےر مےں نہاں ہے اثر
ان کا پےغام عظمتِ انساں
انکے اشعار ہےں عروجِ بشر
بزمِ اردو کے ہر خزانے مےں
ان کی تحرےر مثلِ لعل و گہر
اس مےں انسانےت کا درد بھی ہے
سوزِ دل کا نہاں ہے اسمےں اثر
نام مشہور ہندوپاک مےں ہے
مثلِ مہتاب ان کی راہ گذر
ان سے شاداب گلشںِ اشعار
پھول سر سبز ہے ادب کا شجر
سعید خاں چراغ شیوپوروی
اہلِ خرد کے دلبر مسلم سلیم صاحب
ایثار کے سمندر مسلم سلیم صاحب
نعمت قلم کی دی ہے تحفے میں جنکو رب نے
کرتے ہیں راج دل پر مسلم سلیم صاحب

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی نئی دہلی ،انڈیا
شاعرِ خوش فکر وخوش گفتار ہیں مسلم سلیم
اہل دانش کے معےن ویار ہیں مسلم سلیم
آمدآمد سے عےاں ان کا حسن فکر وفن
عندلیب گلشن گفتار ہیں مسلم سلیم
حارث بلال ، سرگودھا، پاکستان
شاعری کا ناز ہےں مسلم سلےم
شعر کی پرواز ہےں مسلم سلےم
ان کے سب مضموں طبےعت سے قرےب
زندگی کا ساز ہےں مسلم سلےم
رنگ شعروں مےں گلوں کے بھرتے ہےں
شاعرِ گلساز ہےں مسلم سلےم
بات کرتے ہےں کھری اور جاندار
اک نڈر آواز ہےں مسلم سلےم
لوگ حارث کہنے پر مجبور ہےں
عصر کا اعزاز ہےں مسلم سلےم

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی نئی دہلی ،انڈیا
آمد آمد ہے یہ عصری آگاہی سے ہمکنار
ایک صحافی کے قلم کا ہے جو ادبی شاہکار
نام ہے مسلم سلیم اور شخصیت تاریخ ساز
کارنامے جن کے ہیں وےب سائٹوں سے آشکار
دیکھ کر ویب سائٹےں خود رائے قائم کیجئے
علم کا ماحول ہے جن کی وجہ سے خوشگوار
اردو شعرا اور ادیبوں پر ہے جو ڈائریکٹری
اہل دانش کے لئے ہے باعث صد افتخار
خدمت اردو ہے ان کا ایک فطری مشغلہ
ہے ستم دیدہ دلوں کی شاعری ان کی پکار
مظہر سوزِ دروں ہے ان کا معیاری کلام
ہے جہانِ فکر وفن میں جس کو حاصل اعتبار
ہیں یہ رشحات قلم عصری ادب کا آئینہ
سوز وسازِ زندگی برقی ہے جن سے آشکار

فیصل نواز (لندن)
جس طرح درد کو ہونٹوں سے صدا ملتی ہے
ان کے شعروں سے ستاروں کو ضیا ملتی ہے
ندرتِ فکر سے مملوہے کلامِ مسلم
آرزوﺅں کی کھنک دل کی نوا ملتی ہے
لوگ لب بستہ ہوں دہشت کی فضا میں جس دم
تب خیالات کو مسلم کی صدا ملتی ہے
میری مانو وہ معالج ہیں دماغ ودل کے
ان کے اشعار سے ذہنوں کو شفا ملتی ہے
رت بہاروں کی ہو یا دورِ خزاں ہو فیصل
ان کے اشعار سے جینے کی ادا ملتی ہے
مجید تاج بلوچ، بلوچستان، پاکستان
ہر دل میں احترام ہے مسلم سلیم کا
بے مثل وہ کلام ہے مسلم سلیم کا
ہر زاویہ کے سے کرتا ہے خدمت ادب کی جو
بس ایک ہی وہ نام ہے مسلم سلیم کا
ان کو ملا ہے ورثے میں گنج سخن وری
مشہور فیض عام ہے مسلم سلیم کا
غزلوں میں ان کی ندرتِ فکر ونظر بھی ہے
یہ بھی نظیر کام ہے مسلم سلیم کا
کرتے ہےں رہنما ہی جو استاد کی طرح
دل یہ میرا غلام ہے مسلم سلیم کا
کردو رقم یہ نام سنہری حروف سے
اونچا بہت مقام ہے مسلم سلیم کا
اے تاج! بادشاہ ہیں شہر سخن کے وہ
اب ہر زباں پر نام ہے مسلم سلیم کا

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی نئی دہلی ،انڈیا
ہیں یہ مسلم سلیم کے اشعار
ان کے ذوقِ سلیم کے غماز
خود پڑھیں اور لگائیں اندازہ
زندگی کا ہے ان میں سوز وگداز
ان کا رنگ سخن تغزل میں
ان کی تاب رساں کا ہے اعجاز
ان کے فن کا ہے قدر داں برقی
ہیں یہ اشعار وقت کی آواز

احمد علی خاں (رےاض، سعودی عربیہ)
علم و فن کی منزلوں کے راہ بر مسلمسلےم
سائبانِ اردو کے ہےں بام و در مسلمسلےم
محفلِ ےاراں ہو ےا ہو پھر کوئی بزمِ سخن
ہوتے ہےں جلوہ فگن مثلِ قمر مسلم سلےم
وسعتِ علم و ادب کا معترف سارا جہاں
باغِ اردو کے ثمر آور شجر مسلم سلےم
ان گنت اوصاف ہےں، احمد رقم کےا کےا کرے
خوش بےان و خوش ادا و¿ خوش نظر مسلم سلےم

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی نئی دہلی ،انڈیا
محسن اردو زبان مسلم سلیم
کارنامے جن کے ہیں بیحد عظیم
ان کی ویب سائٹ ہے گنج شائےگاں
جس سے ہے ان کا عیاں ذوق سلیم
ہے یہ اردو کے لئے ایک نیک فال
اس کی ہے ڈائریکٹری کار عظیم
ہے ادیبوں کا یہ نادر تذکرہ
جو ادب کی ہے صراط مستقیم
ہو گیا دل دیکھ کر یہ باغ باغ
چلتی ہو جیسے یہاں موج نسیم
فکر وفن ہے ان کا عصری آگاہی
ہیں وہ اہل علم ودانش کے ندیم

طارق محی الدےن، پٹنہ، بہار، انڈےا
اک مےرِ کارواں ہےں، ادب کے ہےں شہسوار
باغِ سخن ہے جنکے سبب آج لالہ زار
ہر سو جہاں مےں چلتی ہے انکی ہی گفتگو
پھےلی ہے انکے کام کی شہرت بھی چار سو
پوشےدہ جو ادب مےں ہے سب ہوگا بے نقاب
افلاک پر ہوا ہے نمودار آفتاب
اردو زباں مےں اےک دھڑکتا ہوا ہے دل
گلہائے رنگ و بو کا ہے شہکار مستقل
اب ان کے در سے فےض ےہاں پا رہے ہےں ہم
اپنا نصےب اےسے بھی چمکا رہے ہےں ہم
افکار دلنشےں ہےں ، تخےل ہے لاجواب
جنکی ضےا سے ہوگئے ذرّے بھی آفتاب
دشتِ جنوں کا اےک مسافر سفر مےں ہے
منزل کو ہے تلاش، کوئی رہگذر مےں ہے
مےں نے پڑھا ہے مےر کو، غالب کو ، ذوق کو
شاعر اےک اور عظےم ملا اپنے شوق کو
انکا کلام راحتِ قلب و جگر بھی ہے
گوےا کہ اک مرقعِ اوجِ بشر بھی ہے
اردو بھی جلوہ گر ہے ےہاں تمکنت کے ساتھ
سمٹی ہے ان کے طرزِ نگارش مےں کائنات
وسعت نظر کی ماےہ ہے ذہن و شعور کا
اک مستقل ذرےعہ ہے کےف و سرور کا
نوکِ قلم سے لےتے ہےں خنجر کا کام بھی
اردو کے حق مےں ہےں وہ مجاہد مدام بھی
ہر شعر بولتا ہے، غزل بولتی ہوئی
کوئی نہ کوئی رازِ نہاں کھولتی ہوئی
اردو کو پھر سے بخشی ہے تنوےر ےا خدا
انکی بڑھا دے اور بھی توقےر ےا خدا
مسلم سلےم آپ کو دوں مےں خراج کےا
طارق سخن کے کوچے مےں خود مےں ہوں اک گدا

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی، دہلی
ہیں جو مسلم سلیم کے اشعار
بیشتر ان میں ہیں حسیں شہکار
دلنشیں ہے شعورِ فکر و فن
ہیں وہ عصرِ جدید کے فنکار
اپنی اردو نوازیوں کے لئے
داد و تحسین کے ہیں وہ حقدار
عہدِ حاضر میں ان کا حسنِ بیاں
جوہرِ فکر و فن کا ہے اظہار
کیوں نہ ہر دلعزیز ہو برقی
ان کی غزلوں کا دلنشیں معیار
محمدصبغت اﷲعارفی(ممبئی۔انڈےا)
اے صنفِ غزل تےری توقےر بڑھا دی ہے
تو اور جواں ہوگی یہ اس نے دعا دی ہے
مصروف ہے ہر لمحہ وہ خدمتِ اردو مےں
´غزلوں کے ذرےعے بھی یہ بات بتا دی ہے
دے دی ہے شکست اس نے خاروں بھری وادی کو
اردو کو نئی پھر سے اک راہ دکھا دی ہے
اے عارفی دونوں ہی ہےں فن کی بلندی پر
وہ مےر ہوں ےا مسلم اردو کو جلا دی ہے

احمد علی خاں، رےاض، سعودی عربیہ
ہر کس و ناکس کو کب حاصل ہے شہرت کا مقام
خدمتِ اردو سے پاےا ہے یہ عظمت کا مقام
دل مےں گھر کر لےتے ہےں اےسا ہے عزت کا مقام
اس کے آگے کچھ نہےں ہے جاہ و حشمت کا مقام
راج کرتی ہے دلوں پر گو نہےں ہے تاج و تخت
کم نہےں شاہی سے کچھ بے لوث خدمت کا مقام
فکر و فن انساں کے چھو لےتے ہےں کےسے آسماں
سوچئے تو فی الحقےقت ہے یہ حےرت کا مقام
مےری قسمت دےکھئے ہےں رہنما مسلم سلےم
مےں جہاں ہوں آج احمد، ہے سعادت کا مقام
نذرانہ¿ِ عقےدت برائے مسلم سلےم صاحب
طارق محی الدےن، پٹنہ، بہار، انڈےا
کاروانِ ادبپاسبانِ ادبداستانِ ادبتو نشانِ ادب
شاعرِ نےک نامتجھ کو لاکھوں سلام
تےری تحرےر کےاتےری تقرےر کےاتیری تفسےر کےاتےری تدبےر کےا
علم کا اژدھام شاعرِ نےک نام
تو نے رکھی ہے لاجسر پہ اردو کے تاج
محترم ہے تو آج
پےش ہے یہ خراج
تےر اونچا مقام شاعرِ نےک نام
شمع بجھتی رہیاردو لٹتی رہی جسنے آواز دیوہ تری ذات تھی
تو مجاہد مدام شاعرِ نےک نام
مےرِ ثانی ہے تورودِ معنی ہے توجاودانی ہے تواک کہانی ہے تو
تو غزل کا امام شاعرِ نےک نام
با عقےدت جبےںےوں ہی جھکتی نہےںہے یہ دل کو ےقےںاے مرے ہمنشےں
کچھ ہے رازِ دوام شاعرِ نےک نام

طارق محی الدےن، پٹنہ، بہار، انڈےا
یہ وقت یہ زمانہ ہے مسلم سلےم کا
اب ہر طرف فسانہ ہے مسلم سلےم کا
خنجر کی نوک پر بھی یہ کہتے ہے حق کی بات
ہر شعر قاتلانہ ہے مسلم سلےم کا
سودا، ظفر کے، ذوق کے سب معترف ہوئے
ہر شخص اب دوانہ ہے مسلم سلےم کا
قاری کی دل مےں سےدھی اترتی ہے انکی بات
وہ رنگ شاعرانہ ہے مسلم سلےم کا
تخئےل ان کی اوجِ ثرےا سے ہے بلند
اک رنگ عارفانہ ہے مسلم سلےم کا
صدقے ٭سلےم واحد و ٭عبدالحکےم کے
علم و ادب گھرانہ ہے مسلم سلےم کا
طارق کو اشتےاقِ ملاقات ہے بہت
مدّاح غائبانہ ہے مسلم سلےم کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ ٭سلےم واحد ﴿ ڈاکٹر سلےم واحد سلےم صاحب، والدِ محترم مسلم سلےم صاحب اور ”خےامِ نو“ کے مصنف ۲۔٭خلےفہ عبدالحکےم ﴿ ڈاکٹر سلےم واحد سلےم صاحب کے عمّ اور ”فکرِ اقبال“ ودرجنوں کتابوں کے مصنف

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی
عہدِنو مےں سب کے منظورِ نظر مسلم سلےم
نخلِ اردو کے ترو تازہ ثمر مسلم سلےم
خدمتِ اردو ادب مےںمستقل سرگرم ہےں
شاعر و ناقد ادےب و دےدہ ور مسلم سلےم
بن کے اربابِ نظر کے اک امےرِکارواں
کاروانِ شعر کے ہےں ہم سفر مسلم سلےم
آکے انٹر نٹ پہ دےکھےں ان کے یہ ۶۱ بلاگ
کارناموں سے اپنے نامور مسلم سلےم
دےکھ لےں خود آ کے گوگل سرچ مےں چاہےں اگر
ہےں جہاں مےں آج کتنے معتبر مسلم سلےم
نامِ نامی ان کا وےکیپےڈےا مےں درج ہے
جس کی نظروں مےں بھی ہےں اہلِ ہنر مسلم سلےم
نبضِ دوراں پر نہاےت تےز ہے انکی نظر
جو ہےں بے چارہ ، ہےں ان کے چارہ گر مسلم سلےم
رکھتے ہےں سودوزےاں سے ہو کے برقی بے نےاز
اہلِ دانش کی جہاں بھی ہو خبر مسلم سلےم

احمد علی خاں (رےاض، سعودی عربیہ)
(مسلم سلےم صاحب کے دھار شہر مےں ۳ستمبر ۳۱۰۲کو اعزاز پرنذرانہ¿ِ عقےدت )
وہ تھامے پرچمِ اردو کہاں کہاں پہنچا
اٹھا بھوپال سے ، اب دھار کارواں پہنچا
جو دےکھا دھو پ مےں پودا کوئی جھلستے ہوئے
تو بن کے سایہ¿ِ شفقت وہ باغباں پہنچا
کمالِ ہستی ہے ےا یہ کشش کلام کی ہے
کہ ان کی بزم مےں ہر پےر و نوجواں پہنچا
بلند اتنا ہوا ہے قد آج مسلم کا
جہاں نہ پہنچا تھاکوئی وہ اب وہاں پہنچا

ضےا شہزاد (کراچی)
(مسلم سلےم صاحب کے دھار شہر مےں ۳ستمبر ۳۱۰۲کو اعزاز پر)
مسلم سلےم آپ کو کرتا ہوں مےں سلام
اردو کو آپ نے کےا مقبولِ خاص وعام
پرچم زبانِ اردو کا تھامے جو پہنچے دھار
ہر لب پہ نامِ اردو رہا صبح اور شام
۱ﷲ! اےسے لوگوں کہ عمرِ خضر عطا
وہ جن کے دم سے اردو نے پاےا عروج وبام
شہزاد آج اردو جو تابندہ، زندہ ہے
”مسلم“ سے لوگوں نے ہی دلاےا ہے یہ مقام

مسلمسلےم اور بھوپال
احمد علی خان احمد (رےاض،سعودی عربیہ)
روح پرور ہر طرف ہے سادگی بھوپال مےں
چہروں پر بھی ہے غضب کی تازگی بھوپال مےں
لذّتِ اردو کی نا کھلتی کمی بھوپال مےں
مثلِ مسلم ہوتا گر ہر آدمی بھوپال مےں
آگرا ، دہلی، الہٰ آباد اور شہرِ لکھنﺅ
چل کے آئی ہے مجسم شاعری بھوپال مےں
کرتے ہےں اپنے بلاگوں سے وہ تشہےرِادب
خدمتِ اردو کی بہتی ہے ندی بھوپال مےں
ڈھونڈنے سے بھی نہےں ملتا ہے مسلم کا جواب
ہے ادب کی ان کے دم سے روشنی بھوپال مےں
خوش نماءو خوش ادا ےہ شہر ہے احمدعلی
کاش اپنی بھی گذرتی زندگی بھوپال مےں

نذرانہ¿ِ عقےدت بخدمت مسلم سلےم صاحب
طارق محی الدےن، پٹنہ، بہار، انڈےا
اےک رہبر، اک مجاہد آج اردو کو ملا
مےں تو کہتا ہوں کہ بے شک تاج اردو کو ملا
ہر جگہ اردو زباںکو زخم ہی کاری ملے
اس کے حق مےں جو ملے وہ در کے درباری ملے
شعرکہنا، شعرسننا اور اس پر تبصرہ
روٹےاں کچھ سےنک لےں اور پےٹ اپنا بھر لےا
لڑکھڑائی، گر پڑی، سنبھلی، یہ گر کر پھر اٹھی
سلسہ چلتا رہا، مرجھاگئی نازک کلی
اس کے سر پر بے تکا بہتان بھی رکھا گےا
اس پہ دشمن کی زباں کہہ کر ستم ڈھاےا گےا
سازشوں کے تےر سے پھر اس کا دل چھلنی ہوا
زےرِمقتل اک تماشا ، رقصِ بسمل بھی ہوا
ہر قدم پر ٹھوکرےں تھےں، تھے مصائب بھی بڑے
کہہ رہے تھے سب یہی دشوار ہےں یہ مرحلے
ہر طرف ماےوسےوں کا چھا گےا اس پر گہن
اس گھٹا کے بےچ ابھری پھر خوشی کی اک کرن
اور پھر اےسی صدا اٹھنے لگی بھوپال سے
تم نکالواب تو اس کو سازشوں کے جال سے
آفرےں صد آفرےں اٹھتا رہا پےہم قدم
اےک جذبہ، اک جنوں تھا ساتھ اس کے دم بدم
وہ مجاہد کون ہے ٹکراےا جو طوفان سے
ہند کی سرحد ملادی جس نے پاکستان سے
ان کی عظمت کو کرےں جھک کر ذرا ہم بھی سلام
نام ہے مسلم سلےم ان کا کرےں صد احترام

دےکھ لےں ان کی عناےت کا یہا ں اردو کو ہے
ذات اےسی محترم کےوں رشکِ جاں اردو کو ہے
ہے سرورِ جانفزا ن کا کلامِ لاجواب
شاعری انکی ہے جےسے درد کا درماں جناب
چست ہے لفظوں کی بندش، ہے عجب طرزِ بےان
مات ہےں نوکِ قلم کے سامنے تےغ و سناں
فکر ہے سب سے الگ ان کی ، اچھوتا ہے کلام
اس مےں کوئی شک نہےں ہے دل کو چھوتا ہے کلام
کےا تخےل، کےا یہ اندازِ بےاں ہے دوستو!
افتخار و نازشِ اہلِ زباں ہے دوستو!
علم اور فن کا علی گڑھ سے انھےں تحفہ ملا
درجہ¿ِ اول سے بی اے تک وہےں سےکھا پڑھا
آپ اس کا بھی اثر دےکھےں گے ان کی ذات مےں
قوم کا غم جےسے سےد کو تھا، دن مےں رات مےں
پھر الہٰ آاباد سے عربی مےں اےم اے بھی کےا
اکبر و ابن صفی کی سر زمےں پر گل کھلا
نازش ِ شعروسخن مسلم کو لوگوں نے کہا
دےکھ لےں سائٹ پہ انکی کس قدر ہے تبصرہ
بزم انکے نام کی سجتی ہے صبح و شام اب
روک سکتی ہی نہےں ہے گردشِ اےام اب
اےک مکتب، اک ادارہ علم و دانش کا کھلا
لے رہے ہےں فےض ان سے دےکھئے ہم برملا
آپ کے چرچے نہےں بس ہند و پاکستان مےں
تذکرے ہوتے ہےں اب تو چےن مےں ، جاپان مےں
ہر ادارے سے ملےں اسناد ان کو بے شمار
شاعرِ ےکتا، کہا بے مثل افسانہ نگار
آپ کی خدمت اد ب مےں ہم لکھےں تو کےا لکھےں
آپ کے رتبے، مراتب جو لکھےں تھوڑا لکھےں
جس طرح گل کی چمن بندی ہے خوشبو کے لئے
دل دھرکتا ہے اگر ان کا تو اردو کے لئے
ان کی کوشش نے د ےا اردو کو حسنِ لازوال
ان کی خدمت کی ادب مےں ہے نہےں کوئی مثال
آپ نے شعروادب کو، فن کو زندہ کردےا
حال سب کا اپنی وےب ڈائرےکٹری مےں لکھ دےا
کس قدر احسان ان کا ہم گنائےں دوستو
پڑ گئے الفاظ کم، کےسے بتائےں دوستو!

نذرانہ¿ِ عقےدت برائے مسلم سلےم صاحب
اوّل سنگرام پوری، جدہ، سعودی عربیہ
حسنِ سخن مےں جو یہ ترا انسجام ہے
شاہد ہے کوئی بھی نہ ترا ہم مقام ہے
سارے فسوں نگار ےہ کرتے ہےں اعتراف
اب رےختے کا تو ہی جہاں مےں امام ہے
برقِ سخن ہے تےری ضےا بار ہر طرف
دانش مےں تےری مہرِ سخن تےز گام ہے
اہلِ ادب نے تجھ کو وہ منصب عطا کےا
شعریٰ کو جو نجوم مےں حاصل مقام ہے
تےرے سخن کی فکر سے ہم پر عےاں ہے یہ
بامِ فلک کو چومتا تےرا کلام ہے
مسلم سلےم صاحبِ قلبِ سلےم ہےں
ان کا رخِ حسےن بھی ماہِ تمام ہے
مےری دعا ہے ہر کوئی ہو اس سے مستفےض
اردو زباں پہ آپ کا جو فےضِ عام ہے
تےرے مرشحاتِ قلم کو ہمارا دل
دستِ نظر سے چوم کے کرتا سلام ہے
ضےاءشہزاد، کراچی
تجھ پے نازاں ہے بہت ہندوستاں مسلم سلیم
تیرے دم سے زندہ ہے اردو زباں مسلم سلیم
تیرا جذبہ اردو کی خدمت گزاری مرحبا!
کام تیرے کس قدر ہیں بے کراں مسلم سلیم
ڈاکٹر واحد کے اور امِّ حبیبہ کے سپوت
ہوگیا ہے واقعی تو جاوداں مسلم سلیم
جنت الفردوس میں بھی ہے مسرت کا سماں
کس قدر خوش ہیں وہاں دو ہستیاں مسلم سلیم
آبیاری کرتا ہے اردو کی اپنے خون سے
رات دن اردو پہ تو ہے مہرباں مسلم سلیم
اوڑھنا تیرا بچھونا اردو ہے اردو فقط
اور ہے اردو فقط تیرا جہاں مسلم سلیم
میں بھی ہوں شہزاد نازاںآج اپنے آپ پر
دوست ہے میرا، ہے مجھ پر مہرباں مسلم سلیم
سلمان صدےق، سےالکوٹ ، پاکستان
خدمتِ اردو ہے راہِ مستقےم
علم کا درےا ہےں، لہجہ بھی حلےم
شاعری اور ذات دونوں ہےں عظےم
محترم وہ دوست ہےں مسلم سلےم

ضےاءشہزاد، کراچی
اک دھوم ہے فسانہ ہے مسلم سلیم کا
دےکھو جسے دوانہ ہے مسلم سلیم کا
ہر شخص گا رہا ہے یہ اردو زبان میں
اردو کا یہ ترانہ ہے مسلم سلیم کا
کیسا عجیب شخص ہے جادو اثر ہے یہ
کیا خوب آستانہ ہے مسلم سلیم کا
اک بار پڑھ لیا تھا انہیں بس غضب ہوا
ہر لفظ قاتلانہ ہے مسلم سلیم کا
میرے خیال و خواب میں کب روک ٹوک ہے
ہر روز آنا جا نا ہے مسلم سلیم کا
رکھتا ہوں اتفاق مےں طارق کی بات سے
علم و ادب گھرانہ ہے مسلم سلیم کا
اردو کو کر دیا ہے زمانے میں روشناس
شہزاد اب زمانہ ہے مسلم سلیم کا
اقبال قریشی، حضرو ، پنجاب ، پاکستان
نام مسلم سلیم ہے انکا
ان کا شعری جہاں ہے رشکِ ارم
شیر گوئی میں طاق ہیں حضرت
کیا خدا نے دیا ہے ان کو قلم
مکتبِ فکر ہیں ہمارے لیے
ان سے ہی کسب فیض کرتے ہیں ہَم
آسمانِ ادب کے چاند ہیں وہ
ان پہ قائم رہے خدا کا کرم

بابر شاہ رحمٰن، میانوالی، پاکستان
یہ جو مسلم سلیم صاحب ہیں
شعر گوئی کے فن پہ غالب ہیں
آج کل ان کے شعر پرپڑھتا ہوں
دیر تک اپنے سر کو دھنتا ہوں

بابر امام، پھلیا، پاکستان
نامِ مسلم ہے سب کے وردِ زباں
خوب اردو میں بھرتے ہیں یہ رنگ
اےک اک شعر لاجواب و حسیں
شعر گوئی کا اک الگ ہے ڈھنگ
جیسے کوئل کی کوک وقتِ سحر
ان کے اشعار کا ہے وہ آہنگ

خورشید الحسن نیر، ریاض، سعودی عربیہ
اک صبوئے محبت پلا دیجئے
جس سے دل نرم ہو وہ ادا دیجئے
جس سے مسرور ہوں سارے اہلِ ادب
بس وہ مسلم کے جیسا نشہ دیجئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا انداز ہے اور بلا کی سادگی ہے ۔ واہ۔ چار مصرعے آپ کی نذر کر رہا ہوں گر قبول افتد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضیاءشہزاد (کراچی)
اک صحافی اور شاعر، ماہرِ لسّانیات
نام ہے مسلم سلیم اور فخرِہندوستان ہیں
مرد ہیں میدان کے، پیچھے کبھی ہٹتے نہیں
ہاتھ میں پرچم لئے اردو زباں کی شان ہیں

کامل جنیٹوی، چندوسی انڈیا
معترف ہے زمانہ مسلم کا
یہ فسانہ نہےں، حقےقت ہے
سچ ہے یہ کامل کہ شہر علم میں
وقت کی آواز ہیں مسلم سلیم

فےصل نواز، لندن، انگلےنڈ
واہ کےسی زباں پہ قدرت ہے
جسکے باعث غزل مےں ندرت ہے

ناصر فیروزآبادی
دوستی کا بھی الگ انداز ہےں مسلم سلیم
ہاںمیرے ہمراز اور دم ساز ہیں مسلم سلیم

ضےاءشادانی، مرادآباد
در حقیقت اہل فن کی جان ہیں مسلم سلیم
خدمت اردو کا ایک اعلان ہیں مسلم سلیم

ندیم اختر ندیم مانگناوی، لندن، انگلینڈ
اردو میں ایک نام ہے مسلم سلیم کا
جدت غزل میں کام ہے مسلم سلیم کا
اسماعیل عثمانی نظرالٰہ آباد یونیورسٹی الٰہ آباد
اےسی کچھ بات ہے مسلم میں کہ لکھتا ہے نظر
ان کے ہرِ شعر نے انسان کو طاقت دی ہے
زرینہ خان،رامپور
آپ کے دل کو خدا نے وہ طہارت دی ہے
سنگ بھی جس سے بکھر جائے وہ طاقت دی ہے

ذہینہ صدیقی، دہلی
ایڈیٹر فکرِ نو، لاہور جناب مسعود تنہا اور مستن جناب ضیاءشہزاد ، کراچی کے مسلم سلیم پر قطعات سے متاثر ہو کر چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔

فخرِ ہندوستان ہے مسلم سلیم
اردو پر قربان ہے مسلم سلیم
عالمی شہرت کا بھی حامل ہے وہ
فیس بک کی جان ہے مسلم سلیم
خوبیاں اس کی فرشتوں جیسی ہیں
گو کہ اک انسان ہے مسلم سلیم
اس کو ورثے میں ملی ہے شاعری
صاحبِ دیوان ہے مسلم سلیم
اے ذہینہ علم اور ادراک کی
آن بان اور شان ہے مسلم سلیم
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی، دہلی
ہیں یہ مسلم سلیم کی خدمات
”ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے©©“
کتنا بے لوث ہے مشن ان کا
ان کی اردو سے عاشقی کیا ہے
دیکھ کر فیصلہ کریں خود ہی
روشنی کیا ہے تیرگی کیا ہے
کیجئے ان سے کچھ سبق حاصل
ان کا معیارِ شاعری کیا ہے
کارناموں کے ان کی بات کریں
اہلِ اردو سے دوستی کیا ہے
کرلیں خود ہی محاسبہ برقی
اہلِ دانش سے دل لگی کیا ہے

ذہےنہ صدیقی ۔مسلم سلےم کے بارے مےں احمد علی خان (رےاض، سعودی عربیہ) کے منظوم تاثرات کے جواب مےںمنظوم تاثرات
ہے ادب کی کان سے نکلا گہر مسلم سلےم
اپنے فن سے کر رہا ہے باخبر مسلم سلےم
سب کا ہے دنےا مےں منظورِ نظر مسلم سلےم
گوشے گوشے کی جو رکھتا ہے خبر مسلم سلےم
ہے سخنور با اثر اور معتبر مسلم سلےم
سارے عالم کو بھی کردو یہ خبر مسلم سلےم
ہے ابھی نوکِ قلم مےں اسکی وہ طاقت کہ جو
دشمنوں کو بھی کرے زےروزبر مسلم سلےم
مرحلے درپےش ہےں ہر گام پر اسکے مگر
بڑھ رہا ہے آگے وہ ہو کر نڈر مسلم سلےم
کر نہ پاتا آندھےوں کا سامنا دنےا مےں وہ
گردشِ اےام سے ڈرتا اگر مسلم سلےم
کوئی شکوہ ہے کسی سے ،نا شکاےت ہے کوئی
کر رہا ہے زندگی ہنس کر بسر مسلم سلےم
اے ذہےنہ تو بھی اب تسلےم کر اس بات کو
علم و فن کی راہ مےں ہے اک خضر مسلم سلےم

ممتاز علی، انگلےنڈ
مرحبا! روشنی روشنی شاعری
دھوپ ہے تو کبھی چاندنی شاعری
واہ “مسلم” جلانے لگی ہے دئےے
فکر میں آتشیں آپ کی شاعری
احمد ساحر، اورنگ آباد، مہاراشٹر
ان کااک اک شعر ہے ضربِ کلیم
ہیں شہنشاہِ ِ س±خن مسلم سلیم
ارشد اقبال انجم، بوکارو، جھارکھنڈ،بھارت
یہ آپ کے عروجِ تخیّل کا ہے کمال
مسلم سلیم آپ کے فن کی نہیں مثال
لفظوں کا انتخاب کہ موتی جڑے ہوئے
مطلع ہے لاجواب تو مقطع ہے لازوال

مسعود تنہا، ایڈیٹر ”فکرِنو“، لاہور
خوب طینت، خوبرو مسلم سلیم
دوستوں کی آبرو مسلم سلیم
محفلِ اہلِ ادب کی شان ہے
تیری ہر اک جستجو مسلم سلیم

شوقانصاری، پاکستان
خدمتِ اردو میں عظیم
کارہائے مسلم سلیم
جانشینِ اہلِ قلم
ہے زباں کا حسنِ عظیم

ذہینہ صدیقی، دہلی
یہ ایک حقیقت ہے تسلیم کرے دنےا
مسلم کے تغزل کی تعظیم کرے دنےا
محمد علےم اﷲ خاں وقار (سہارنپور، اتر پردےش)
پرچمِ اردو کو تھامے ہے کھڑا مسلم سلیم
با خدا اردو زباں ہے فدا مسلم سلیم
کیسے نہ شکرِ خدا ہم بھی کریں اب بے شمار
فیس بک سے یار اردو کا ملا مسلم سلیم

اقبال قریشی، حضرو، پنجاب ، پاکستان
غزل چھیڑی ہے تو نے آج کیسی
مکرر کی صدائیں آ رہی ہیں
تری نظمیں تری غزلیں تو صاحب
چمن ا±رد±و کا اب مہکا رہی ہیں
نہ گھبرانا کبھی ان مشکلوں سے
مخالف گر بلائیں آ رہی ہیں
توہے افلاک پر روشن ستارہ
کہ جس سے ظلمتیں گھبرا رہی ہیں
چمن کے بلبلوں کو ناز تجھ پر
حسد سے قمریاں بل کھا رہی ہیں
دیارِ ہند سے مسلم کے باعث
بہت مہکی ہوائیں آ رہی ہیں

میری دستاویزی فلم پراحمد علی برقی اعظمی صاحب کا خراجِ تحسین ۷۲ مئی ۷۱۰۲
عندلیبِ گلشنِ گفتار ہیں مسلم سلیم
اہلِ دانش کے معین و یار ہیں مسلم سلیم
ان کی یہ خدمات ہیں سود و زیاں سے بے نیاز
ہر طرف اب سرخی اخبار ہیں مسلم سلیم
دیکھ کر یو ٹیوب پران کو سبھی ہیں شادکام
ہے خوشی مجھ کو کہ میرے یار ہیں مسلم سلیم
۲
”گوہرِ نایاب“ ہیں مسلم سلیم
روشن از مہتاب ہیں مسلم سلیم
شاعری ہے ان کی اب جزوِ نصاب
نازشِ احباب ہیں مسلم سلیم
اردو ہے دنیا کی اک زندہ زباں
جس کی آب و تاب ہیں مسلم سلیم

ہدیہ ¿خلوص برائے مسلم سلیم صاحب
ظفرسلام ،لندن، انگلینڈ
اردو کے پُرخلوص سہارے کا نام ہے
مسلم سلیم ایک ادارے کا نام ہے
شاعر، ادیب اور صحافی ہے وہ عظیم
ہر فن میں اک چمکتے ستارے کا نام ہے

انجینئر عابدرخسان طالب، مظفرپور، بہار
اشعار دلفریب ہیں افکار بھی حسیں
مسلم سلیم تیری یہ سوغات ہے جدا
پہنچا نہ فی زمانہ کوئی تیرے آس پاس
میدانِ شعرو فن میں تری ذات ہے جدا
طالب یہ کہہ رہا ہے بڑے تجزئے کے بعد
ہر فکر ہے کمال کی ہر بات ہے جدا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مسلم سلیم کی غزل ”اطّلاعاً عرض ہے“
پر منظوم ومنثور تبصرے
اﷲ کا بڑا کرم ہے کی ناچیز کی غزل پر اردو ادب کی نامور ہستیوں نے منظوم تبصرے کےے ہےں۔ میں سب مخلصین کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔تبصرے بہت زےادہ ہےں ۔ جگہ کی قلت کے سبب یہاں منتخب تبصرے ہی پےش کےے جا رہے ہےں۔جس غزل پر تبصرے ہوئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہے ۔

مسلم سلیم ۔ غزل
دل جہاں لاکھوں پڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
ہم بھی اس رہ مےں کھڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
آپ کی مانند چلتے تھے اکڑ کر جو کبھی
خاک مےںوہ سب گڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
کھےل بچّوں کا نہےں ہے، عشق کا رستہ ہے یہ
مرحلے سارے کڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
گدڑےوں مےں رہ کے خدمت خلق کی کرتے ہےں جو
وہ سبھی انساں بڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
بارہا مسلم کےا ہے ہم نے خونِ آرزو
خود سے ہم اکثر لڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
تبصرے
اوےس جفری، واشنگٹن
فکر و فن، لہجہ، معانی، صوت و آہنگ کا کمال
مسلم، اِک شا عر بڑے ہیں اطّلا عاً عرض ہے

ڈاکٹر احمدعلی برقی اعظمی ، دہلی
رنگِ مسلم سے نمایاں ہے شعورِ فکر و فن
وہ سخنور اک بڑے ہیں اطلاعاََ عرض ہے
جن کا دنیائے ادب میں نام ہے مسلم سلیم
وہ سخنور اک بڑے ہیں اطلاعاََ عرض ہے
رہتی ہے ہردم انھیں بے نام چہروں کی تلاش
راہِ اردو میں کھڑے ہیں اطلا عاََ عرض ہے

ضےاءشہزاد، کراچی
واہ وا ! کیسی انوکھی ہے یہ مسلم کی ردیف
شعر میں موتی جڑے ہیں اطلاعاً عرض ہے
اک نیا رنگ تغزل سیکھئے شہزاد آپ
ہم سخنور کب بڑے ہیں اطلاعاً عرض ہے
سعود صدیقی، کراچی
کاش میں بھی شعر میں داد ِسخن دیتا انہیں
رنگ مسلم کا الگ ہے ، اطلاعاً عرض ہے
نثار احمد خاں، اوکارا، پاکستان
شعر موتی سے جَڑے ہَیں اطلاعاً عرض ہے
دریا ک±وزے میں بھرے ہیں اطلاعاً عرض ہے

احمد علی خاں، رےاض، سعودی عربیہ
جنکو دنےا جانتی ہے ،اسم ہے مسلم سلےم
علم کے افضل دھڑے ہےں، اطاعاً عرض ہے
(زبردست!!!! ردیف پر زورِقلم کا یہ جادو ہر دل کو اپنا قائل کرنے کے لئے کافی ہے)
ضےاءرومانی، کرناٹک ، بھارت
شاعر عمدہ اور بڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
شعر نشتر سے گڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
نثری تبصرے
عامر رےاض ، کانپور
ایسی ردیف تو آج تک استعمال ہی نہیں ہوئی…بہت عمدہ اشعار ہیں…لطف آ گیا پڑھ کر ….واہ واہ۔
شیر بہادر اختر دتےا، مدھیہ پردیش، انڈیا
واااااااہ بہت خوب محترم مسلم سلیم صاحب! نئے زاوئے کے ساتھ کیا اندازِ بیان ہے واااہ واہ ۔بہت خوب۔
مسرور احمد کراچی پاکستان
اچھی نہیں بہت اچھی لگی آپ کی یہ غزل اطّلا عاً عرض ہے۔

ضیاءشادانی (مرادآباد-انڈیا)
محترم آپنے بالکل نئی ردیف پیش کرکے غزل کو ایک نیا راستہ دکھایا ہے ۔خدا کرے آپکی اس ردیف سے آنے والی نسل استفادہ حاصل کرے اور آپکی ردیف ساری دنیا میں مقبولیت کی سند حاصل کرے۔ ایسی میری دعا ہے۔

مسلم سلےم کی غزل ”درےا ہے رواں خوں کا مرے قامت و قد مےں ©©“ پر منظوم تبصرے
غزل ۔ مسلم سلےم
درےا ہے رواں خوں کا مرے قامت و قد مےں
لے جانا لہو جب بھی کمی پاو¿ رسد مےں
کمرے مےں ہوس کو تو چھپا سکتے ہو لےکن
یہ عشق ہے اور عشق ٹھہرتا نہےں حد مےں
اک وہ نہےں شہر مےں مجرم تو بہت تھے
بس یہ ہے کہ وہ آگےا الزام کی زد مےں
کےا اس نے چھپا رکھا ہے ہمدردی کے پےچھے
بو گل کی تو ہرگز نہےں گل پوش مدد مےں
سرخی سے دمکنے لگا اشعار کا چہرہ
کچھ خون کےا صرف جو اظہار کی مد مےں
تخلےق تو خود اپنی سند ہوتی ہے مسلم
نادان ہےں وہ لوگ جو الجھے ہےں سند مےں
تبصرے
ضےاءشہزاد، کراچی
مسلم ہے بڑا پہلے ہی سے قامت و قد میں
اب اور کیا ٹھہراﺅں اسے منصب و حد میں
میں بزم سخن میں اسے تسلیم کروں گا
آجاﺅں بلا سے کسی الزام کی زد میں
میں یہ نہیں کہتا کہ بڑا اہلِ نظر ہے
جو دیکھے وہ کہہ دیتا ہے اظہار کی مد میں
ہے کام یہ مسلم کا سخن ہی سے محبت
الجھے گا نہ ہرگز بھی وہ تعریف و سند میں
جو تنگ نظر لوگ ہیں میں ان سے لڑوں گا
شہزاد نہ آئے کوئی بھی میری مدد میں

( جناب مسلم سلیم بھائی ! چھوٹی بحر میں اس قدر خوبصرت اور حسین قافیوں سے سجی ہوئی غزل پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ غزل پڑھتے ہوئے میرے جو دلی جذبات تھے وہ میں نے آپ ہی کی بحر اور قافیوں کے ساتھ فی البدیہہ منظوم کر دئے ہیں۔ ” گر قبول افتد زہے عز و شرف “۔۔۔۔۔ ضیاءشہزاد)

ڈاکٹر احمد علی برقیاعظمی، نئی دہلی
مسلم سلیم شاعرِ روشن ضمیر ہیں
اشعار سے ہے ا±ن کے عیاں عصری حسیت

پروفےسرثمےنہ چغتائی، اسلام آباد
اتنے اعلی کلام پر اتنے عمدہ تبصروں کے بعد آپ ہی کے مصرعے کو دہراو¿ں گی ; ; tتخلےق تو خود اپنی سند آپ ہوتی ہے مسلم; کی مثل آپکی یہ غزل بھی رنگ تغزل اور لہجے کی iانفرادےت کے اعتبار سے بے مثال ہے۔ جذبے کی سچائی، مشکل بحر کے ساتھ ردیف اور قوافی کا مناسب انتخاب پروازِ تخےل کی بلندی شعر کی بلندی کی حامل سوچ کا درجہ ہے، معاشرتی شعور کی ترجمانی کی ہے۔ جب زندگی کا لہو پیش کیا ہو گا توا کے دِل کی کفےت اِس لہو لہو ماحول کی اداس فضا سے ہم آہنگ ہو کر اِس شاہکار غزل کی تخلےق کا سبب بنی ہو گی ; ; یقیناً کمال فن کی داد نا دی جائے تو لکھاری اور پِھر کے ساتھ اوار اسلوب کے حق من نا انصافی ہو گی۔ واہ کیا خوب کہا ; ; یہ عشق ہے اور عشق ٹھہرتا نہیں حد میں۔ عشق بے پاےاں سمندر ہی تو ہے۔ اس کا مفہوم خود بہت وسیع ہے۔ بڑ ے شاعرکا کلام خود ہی اپنی تحسین کرواتا ہے توبہت زوروں سے منوانے کا بھی نہیں۔ آپ کی غزل خود ہی خود کو منواچکی۔©” لے جانا لہو جب بھی کمی پاو¿ں رسدمےں“ ، واہ کیا د±ریا دلی ہے ، جذبہ¿ِ اےثار کا ثبوت اِس ایک ہی شعر مےں کس خوبی سے پیش کر دیا ہے۔ واقعی یہ عشقِ حقےقی ہی ہے جس کی کوئی حد نہیں۔

اکمل حسےن، جدّہ، سعودی عربیہ
مت سہل اسے جانو،پھرتاہے فلک برسو ’ ں ۔۔تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے . . اےسا کچھ میرنے کہا ہے . . انسان کی ضمیر کا مرجع سارے انسان نہیں بلکہ جو ممتاز ہوتا ہے، وہ مراد ہے جےسے پرندوں میں شاہین ہے ۔ اِس وقت میرے سامنے میر کا انسان ہے ، جناب مسلم سلیم اپنی ایک اعلی غزل کے ساتھ . .

اَحمَد علی خاں، رےاض، سعودی عربیہ
ہَم ا±رد±و شاعری کے سے جن ( لیجینڈس کو یاد کرتے آئے ہیں ان میں چند چنندہ نام جیسے جناب میر ، مومن ، غالب اور اقبال کی غزلوں کو ہی اکثر بیشتر ہم عصر شاعروں پر ترجیح دیتے رہے اور ہےں۔ ا±نہیںشخصےتوںکے کلام کو اور سنتے آئے ہیں . . . . یا یوں کہہ سکتے ہیںکہ ہماری نےازمندی کی یہ انتہا تھی کہ ہَم نئے دیگر شاعروں کی تخلیق ، خواہ وہ کتنی با اَثَر اور معےاری کیوں نا ہو ، ، ، نا تو کبھی اسے اور نا ہی ان پر ہماری کوئی خاص عنایت رہی……… مگر آج جب محترم مسلم سلیم صاحب کی اِس تازہ ترین غزل سے میرا سامنا ہوا اور اس کا عکس جےسے جےسے ذہن دِل پر گہراےا تو مجھے ےکبارگی یہ لگاکہ جناب مسلم سلیم صاحب کے وجود سے آج ا±رد±و کی وہی صدی پِھر سے لوٹ آئی ہے جس میں ا±رد±و ادب نے کبھی عروج بام کوچھو لیا تھا . . . . . آج آپ (جناب مسلم سلیم صاحب ) کے دم سے پِھر وہی فضا اِس غزل کے دیار کو رونق بخشنے کے لیے بیتاب ہے . . .
دریا ہے رواں خون کا میرے قامت قد میں ۔۔ لے جانا لہو جب بھی کمی پاو¿ رسد میں
بلا شبہ یہ غزل دورِ حاضر کی شاعری میں اک انقلاب کی صورت لیکر آئی ہے۔ ساتھ ساتھ زندگی ماحول اور فضا کی نبض اورطبیعت کو اتنی خوبصورتی سے پڑھ لینا سب کے بس کی بات نہےں…… اس بلندی¿ِ پرواز تک رسائی اور کسی کے لیے بھی آسان نہیں بہت مشکل ہے … . . شاعر کو زباں ا±رد±و پر جو قدرت حاصل ہے اسکا یہ آئےنہ دار بھی ہے۔ اگر ہَم اسے اک مکمل فلاسفی کہیں تو غلط نہ ہو گا۔ جس میں ہر جذبہ خودبخود جذب ہوکر راہ پا گیا . ہے۔ ہاں ، تبصرے کے لیے قلم اورروشنائی تھک کر اپنی کم ماےگی کا اظہار ضرور کر سکتے ہیں . . . . . ! اِس نایاب اور خوبصورت غزل کی آمد پر دِل سے بس یہی صدا نکلتی . . ہیٹس اوف ٹو یو سر……… . میری دعا یہی ہوگی … بقول جناب ضیا شہزاد* صاحب !
اﷲ!! کر ایسے لوگوں کو عمر خضر عطا ، ، ، ، ، وہ جن کے دم سے ا±رد±و نے پایا عروج بام ، ، ، ، ، ! !
کےا زبردست شعر ہے۔۔۔۔
کمرے میں ہوس کو تو چھپا سکتے ہو لیکن ۔۔ یہ عشق ہے اور عش ٹھہرتا نہیں حد میں
سر ، میں آپکی اِس نئی غزل میں کچھ کھو سا گیا ہوں . . . . . . کبھی میر ، مومن ، غالب اور اقبال کے بارے میں پڑھا اور سنا کرتے تھے .. . . . . مگر آپ کے دم سے آج ا±رد±و کی وہی صدی جیسے لگتا ہے لوٹ آئی ہو . . . . . . . یہ غزل اِس دور کی شاعری کی پہنچ سے بہت پرے ہے . . . . . . سر . اک مکمل فلاسفی آپ نے اِس میں جذب کر دی ہے . . . زبردست . . . . تبصرے کے لیے قلم اور روشنائی ختم ہونے کی سی کیفیات طاری کر رکھی ہے اِس غزل میں سر . . . . . !

مےاں محمد ارشد منےر، لندن، انگلےنڈ
محترم مسلم سلیم صاحب! آپ کی غزل کاہر شعر آپ کے فن سخن کی بڑی واضح دلیل اور سند ہے۔ تمام اشعار لائق ستائش ہیں۔اورمقطع نے تو گویا دل ہی موہ لیا۔اللہ کرے ذوقِ سخن اور زیادہ۔سلامت رہیں شاد و آباد رہیں۔
سید حسنین ، اورنگ آباد، بھارت
مسلم بھائی کیا استادانہ رنگ میں غزل لکھی ہے ، ، یہ انداز اور اصلوب میں استاد ذوق اور غالب جھلک رہے ہیں ، یہ آسان نہیں بہت مشکل سفر ہے بہت بہت مبارک ۔ مسلم بھائی کیا استادانہ رنگ میں غزل کہی ہے جواب نہیں یہ کلاسےکی رچاو¿ تو صرف اساتذہ ِ سخن کا ورثہ ہے۔اِس غزل نے تو آپ کو استاد ذوق و غالب کی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔میرے بھائی اِس طرح کی غزل کہنا آسان نہیں بہت مشکل ہے . پلان کر کے بھی یہ رنگ اختیار کرنا ناممکن ہے یہ صرف فطری شاعر ہی کہہ سکتا ہے ۔

فیروز ناطق خسرو،کراچی
مشکل زمیں میں کیا اچھے اشعار کہے ہیں آپ نے . . . ما شاءاللہ

مسعود حساس، متحدہ عرب امارات
اک غزل جس میں فکر کی اعلی پرواز کے ساتھ ا±رد±و کی بقاءپرخصوصی دھیان دیا گیا ہے . اسی بنا پہ یہ اپنے پیرائے ہی نہیں روحانی وصف میں بھی کامیاب ترین ہے۔

اعجاز اَحمَد آزاد ، اسلام آباد
مسلم سلیم صاحب آپ اشعار میں ہیرے جڑ دیتے ہیں غزل کے مقطع کا جواب نہیں ، تخلیق مےں آپ جیسی کہاںر سائی لائیں ۔جب تخلیق ہوگی جب ہی تو سند ملے گی۔. اللہ آپکو لمبی عمرعطا کرے اور ہم سب آپکے کلام سے مستفےض ہوتے رہیں۔

کلام ِ مسلم سلیم حصہ اول
ا ٓمد۔آمد

اﷲ
توہی تو ہر کہےں سبحٰن اﷲ
کوئی تجھ سا نہےں سبحٰن اﷲ
تو ہی تحت الثریٰ مےں جلوہ فگن
تو ہی عرشِ برےں سبحٰن اﷲ
کرتے ہےں رات دن تری تسبےح
آسمان و زمےں سبحٰن اﷲ
جب بھی دل سے کےا تجھے سجدہ
بول اٹھی یہ جبےں سبحٰن اﷲ

سرورِکونےن
فرش تا عرش یہ انعام بھلا کےا کم ہے
مےں غلامِ شہِ بطحٰی ہوں مجھے کےا غم ہے

نعت
شکلِ نبی مےں نور اتارا مولا نے
یوں انساں کا بخت سنوارا مولا نے
اس سے بڑھ کو فرطِ محبت کےا ہوگی
نام کبھی لے کر نہ پکارا مولا نے
نا گہنائے نہ ڈوبے اےسے سورج سے
ختم کےا جگ کا اندھےارا مولا نے
آقا ہم سے رب کہتا ہے ہم بھی جپےں
جےسے جپا ہے نام تمہارا مولا نے
ان پر خود قرآن بھی واری جاتا ہے
وہ جن پر قرآن اتارا مولا نے
سدرہ پار نبی ﷺ نے دےکھا مولا کو
ےا پھر ان کا کےا نظارا مولا نے
اس کو لگاےا اپنے ےار کی مدحت پر
خوب دےا مسلم کو سہارا مولا نے

حضرت علیؑ
قربِ نبی کا ذکر ہی کےا ہے
وہ تو خود تھے نفسِ نبی
ان کا یہ رتبہ ہے مسلم
ان سے نبی کی نسل چلی
اے مردانِ حق و صداقت
قریہ قریہ گلی گلی
زور سے بولو علی علی اور
جھوم کے بولو علی علی
ان کا چشم و چراغ جہاں مےں
سب سے بڑا سردار ہوا
مےں نے علی کا دامن تھاما
مےرا بےڑا پار ہوا
ان کے علم کی اےک کرن سے
ذہن مرا بےدار ہوا
ان کی تےغِ دو دم کے صدقے
مےرا قلم تلوار ہوا
پہلے مےں در در بھٹکا تھا
اور ذلےل و خوار ہوا
ان کا خادم بنا ہوں جب سے
مےں بھی عزت دار ہوا

نذرِ بھوپال
کےسے یہ کہوں دےکھ لےا ہے بھوپال
فطرت کی قسم روز نےا ہے بھوپال
قدرت نے چٹانوں کے ہرے کاغذ پر
تالابوں کے پانی سے لکھا ہے بھوپال
©اس وقت سے تارےخ کا آنگن مہکا
اوراق پہ جس دن سے کھلا ہے بھوپال
ہر وقت ہے مصروفِ غنا اس کی ہوا
شاےد کسی مطرب کی نوا ہے بھوپال
پاےا ہے بہت اس کے مناظر مےں سحر
جانا کہ بہت ہوش ربا ہے بھوپال
برسوں سے ہے گہوارہِ تعلےم یہ شہر
سر چشمہِ انوار و ضےا ہے بھوپال
مسلم کو ملا دشت نوردی کا صلہ
قدرت نے اسے بخش دےا ہے بھوپال

غزلیات

جب بھی جذبوں کے لئے الفاظ نشتر ہو گئے
کےسے کےسے پھول جےسے ہاتھ خنجر ہو گئے
دےو قامت وہ شجر جب تےز آندھی مےں گرا
پستہ قد جتنے تھے پودے سب قدآور ہو گئے
رفتہ رفتہ ہم کو جےنے کا ہنر آ ہی گےا
پتھروں مےں رہتے رہتے ہم بھی پتھر ہو گئے
آ پڑے جس دن سے ہم درےائے جد و جہد مےں
اس طرح سے جاں پہ بن آئی شناور ہو گئے
نےم فاقہ نےم عرےانی کو اندر چھوڑ کر
گھر سے باہر جب قدم رکھا سکندر ہو گئے
پےکرِ ترغےب تھے سارے کھلونے دور سے
چھو لےا ہم نے تو سب ےکلخت پتھر ہو گئے
عالمِ تخئےل مےں مسلم ہوا کس کا گذر
مےری ےادوں کے کئی لمحے معطر ہو گئے

جب ہم نے زندگی کی گنےں راحتےں تمام
لمحات مےں سمٹ سی گئےں مدتےں تمام
وہ دےکھنے مےں اب بھی تناور درخت ہے
حالانکہ وقت کھود چکا ہے جڑےں تمام
ہربار ےوں لگا کہ کوئی آئے گا مگر
کچھ دور ہی سے لوٹ گئےں آہٹےں تمام
مےں اور احتجاج کی ہمت، نہےں نہےں!
بے اختےار چےخ پڑی ہےں رگےں تمام
وہ خود یہ چاہتا تھا یہ محسوس تب ہوا
ہم بے خودی مےں توڑ گئے جب حدےں تمام
آثارِ کرب سب سے چھپاتا پھرا مگر
بستر پہ نقش ہو ہی گئےں کروٹےں تمام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب جو سوےا تو یہ کروں گا مےں
خواب کے ہونٹ چوم لوں گا مےں
بزم مےں سچ بھی مےں نے بولا ہے
زہر کا جام بھی پیوں گا مےں
یہ مرے دوست کی نشانی ہے
چاک دامن بھلا سےوں گا مےں؟
مجھ پہ بس مےری حکمرانی ہے
یوں جےا ہوں ےونہی جےوں گا مےں

سوچ رہا ہوگا شاےد جڑ پائے گا یہ دوبارہ کےا
بچہ چپ چپ کےوں بےٹھا ہے پھوٹ گےا غبارہ کےا
دوب کے اوپر اےسے ہی بےٹھو گے لبِ فوارہ کےا
پارک یہ تم سے پوچھ رہا ہے آ¶گے پھر دوبارہ کےا
سب اس کی رفتار سے ہارے طائر کےا طےارہ کےا
ہم کو ترا ای مےل سلامت قاصد کےا ہرکارہ کےا
ڈال کبھی اس کافر کے اوپر بھی دہشت کا سایہ
انسانوں کو مارنے والے تو نے دل کو مارا کےا
مات ہے ہر معےارِ تغےر اس کے تلون کے آگے
دےکھنا ہے تو اس کو دےکھو دےکھ رہے ہو پارہ کےا
پہنچے پےر نظےر کی ہم کو ےاد آئی اک منظر پر
رہ گےا ٹھاٹ پڑا سب کا سب لاد چلا بنجارا کےا
خود کو شاعر کہتے بچے گھوم رہے ہےں گلی گلی
شاعر گھر مےں قےد پڑا ہے اور کرے بےچارہ کےا
کتنی دےر سجے گی محفل کب تک یہ رقص و نغمہ
گھر ہی لوٹ کے جائےں گے سب اور بھلا پھر چارہ کےا
سب ہےں مظاہر عشق کے مسلم کعبہ، اقصیٰ، تاج محل
پےار نہ ہو تو سب پتھر ہےں مرمر اسود خارا کےا

زندگی کس قدر ہے گراں لکھ گےا
وقت چہروں پہ ماےوسےاں لکھ گےا
روح کے کرب کا کچھ مداوا نہ تھا
ڈاکٹر نےند کی گولےاں لکھ گےا
سر درختوں کے کس نے قلم کر دئے
شہر مےں دور تک بستےاں لکھ گےا
بے تعلق تھا اس کا تبسم مگر
مےرے سارے غموں پر خزاں لکھ گےا
دورِ حاضر مرے جسم کے بخت مےں
مختلف رنگ پرچھائےاں لکھ گےا
ہر رگِ تن پہ بس اک تبسم ترا
دم بدم کوندتی بجلےاں لکھ گےا
کتنے در مےری آہٹ کے تھے منتظر
کےوں جبےں پر بس اک آستاں لکھ گےا
(۲)
خود بھی سورج تھا، اک کہکشاں لکھ گیا
جان و تن پر کوئی بجلیاں لکھ گیا
خون میں اس قدر سرخیاں لکھ گیا
جنوری میں بھی وہ گرمیاں لکھ گیا
جس نے دل کی عقیدت سے چومی زمیں
اس کی تقدیر میں آسماں لکھ گیا
روح کے درد کی کچھ دوا ہی نہ تھی
ڈاکٹر نیند کی گولیاں لکھ گیا
ایک مدّاح مسلم کا ایسا بھی تھا
ذرّہ¿ِ خاک کو آسماں لکھ گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی کی طرح بکھر جائےں
کےوں ہم اےسے جئےں کہ مر جائےں
کر دی مےراث وارثوں کے سپرد
زندگی کس کے نام کر جائےں
گھر کی لپٹےں بہت غنےمت ہےں
ہر طرف آگ ہے کدھر جائےں
موڑ لگنے لگے ہر اک منزل
اور ہر موڑ سے گذر جائےں
دب گےا ہوں مےں جن مےں تہہ در تہہ
یہ جو پرتےں ہےں سب اتر جائےں

ہم پھول گلستاں مےں چنےں ، خار کھائےں سب
دےکھےں جب ان کی سمت تو نظرےں چرائےں سب
کوئی پلٹ کے آتی نہیں، گونجتی نہیں
چٹانےں پی رہی ہےں ہماری صدائےں سب
کےا دےنا چاہتا ہے فقط حشر مےں صلہ
کےوں جمع کر رہا ہے ہماری دعائےں سب
مردہ ضمیر زندہ ہےں مصنوعی سانس پر
لاشیںسی چل رہی ہےں مےرے دائےں بائےں سب
اب کچھ بھی فرقِ مغرب و مشرق مےں نہیں رہا
زہریلی ہو چکی ہےں جہاں کی ہوائےں سب

مرے بدن مےں نہ جانے کےا شئے سما گئی تھی
جب اتفاقاً قرےب پل بھر وہ آ گئی تھی
بہت مہذب بہت ہی خاموش طبع تھا مےں
وہ پھر اکےلے مےں کس لئے تلملا گئی تھی
نہ مےں حسےن تھا، نہ خوش ادا تھا نہ خوش گلو تھا
مگر مری بے بسی دل اس کا لبھا گئی تھی
سوال جب بھی کےا مری وسعتِ نظر نے
وہ مسکراہٹ مےں اپنا ماضی دبا گئی تھی
غضب کی ناداں تھی وہ کہ سوچا نہ کچھ بھی اس نے
خوشی خوشی وہ فرےبِ تہذےب کھا گئی تھی

نےند ٹوٹے نہ خضر ہی کی نہ رہبر جاگے
مجھ مےں سوےا ہوا انساں جو گھڑی بھر جاگے
تھی کڑی دھوپ تو کب ان کو پرےشانی تھی
برف پگھلی تو بہت چونک کے پتھر جاگے
پر سکوں دن ہے کوئی شور نہےں چےخ نہےں
رات ہولے تو گناہوں کا سمندر جاگے
کوئی فتنہ، کوئی شورش، کوئی ہنگامہ ہو
مجھ کو تڑپائے مرے جسم کے اندر جاگے
لوگ ٹکرا کے حقےقت سے ہراساں ےوں ہےں
جس طرح طفل کوئی خواب سے ڈر کر جاگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ راہےں جن سے ابھی تک نہےں گذر مےرا
لگا ہوا ہے انھےں راستوں کو ڈر مےرا
نہ جانے کون تھا جس نے مجھے بچاےا ہے
مجھے خبر بھی نہ تھی جل رہا تھا گھر مےرا
نہےں ہے بوجھ مرے نام پر مناصب کا
مےں آدمی ہوں تعارف ہے مختصر مےرا
گنوا کے ذات کو لاےا ہوں زندگی کی خبر
مری سنو کہ حوالہ ہے معتبر مےرا
بھٹک رہا ہوں ابھی زندگی کے صحرا مےں
خبر نہےں کہ کہاں ختم ہو سفر مےرا

شعلوں مےں گھرے سب ہےں شراروں مےں کھڑے ہےں
اوروں کی طرح ہم بھی حصاروں مےں کھڑے ہےں
دےکھو گے کسی دن کہ سواروں مےں کھڑے ہےں
کچھ لوگ سر راہ غباروں مےں کھڑے ہےں
ہر سمت سے محصور خساروں مےں کھڑے ہےں
بس اتنا سکوں ہے کہ سہاروں مےں کھڑے ہےں
آزادی نے بخشی ہے غلامی کو وہ عظمت
بکنے کے لئے لوگ قطاروں مےں کھڑے ہےں
وہ آنکھےں اور ان آنکھوں مےں تصوےر ہماری
لگتا ہے کہےں دور ستاروں مےں کھڑے ہےں
نزدےک اگر تم ہو تو کےسا بھی ہو موسم
محسوس یہ ہوتا ہے بہاروں مےں کھڑے ہےں
ےکتائی کا دعویٰ نہےں مسلم ہمےں پھر بھی
پہچان لئے اپنی ہزاروں مےں کھڑے ہےں

یہ دعا ہے کہ کہےں ہوش و خرد کھو جائےں
دےکھےں کےا ہوتا ہے دےوانے اگر ہو جائےں
اےک ہی کام خوش اسلوبی سے پائے انجام
اب جو صحراﺅں مےں بھٹکےں تو وہےں کھو جائےں
اپنی تقدےر مےں چھوٹا ہی سا گھر لکھا تھا
وہ کوئی جاگ گےا آ¶ چلو سو جائےں
اس کو کافی نہ سمجھئے کہ اندھےرا ہو جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور کچھ دےر ٹھہرئے کہ یہ گہرا ہو جائے
اےک ہی رات مےں اس کے لئے کےا کےا ہو جائے
شمع گھر کی کسی محفل کا اجالا ہو جائے
شب کو دےوار پہ لٹکا دے حےا کی چادر
دن مےں ہنس دے جو کوئی شرم سے دوہرا ہو جائے
نےک نامی کا صلہ گوشئہ تنہائی ہے
جس کو شہرت کی تمنا ہو وہ رسوا ہو جائے
قطرے آپس مےں کہاں ملتے ہےں دےکھا تو نہےں
ہاں یہ سنتے ہےں کہ مل جائےں تو درےا ہو جائے

کج اداﺅں، دل رباﺅں کے پتے معلوم ہےں
جسم سے اٹھتی صداﺅں کے پتے معلوم ہےں
کون ہے اس شہر مےں مجھ سے زےادہ با خبر
مجھ کو سارے بے وفاﺅں کے پتے معلوم ہےں
سےکھ ہی پائے نہےں ہم سر جھکانے کا ہنر©©
ورنہ سب باطل خداﺅں کے پتے معلوم ہےں
لو کے جھونکے کس طرف سے آ کے برساتے ہےں آگ
مصلحت کو ان ہواﺅں کے پتے معلوم ہےں
عےش دنےا مےں کرےں گے وہ بھی مسلم کی طرح
وہ جنھےں ماں کی دعاﺅں کے پتے معلوم ہےں

فتنہ و شر سے سدا خود کو بچائے رکھئے
روٹھنے والوں کو پہلے سے منائے رکھئے
بولئے جھوٹ سراسر مگر اتنا کےجے
دھوپ کے چشمے سے آنکھوں کو چھپائے رکھئے
وہ بھی عاشق ہی تو ہے کام کبھی آئے گا
دل نہےں دےتے نہ دےں دوست بنائے رکھئے
کےجئے چڑھتے اترتے ہوئے سورج کا خےال
ہے بدن اےک مگر سےنکڑوں سائے رکھئے
دل کہاں جنسِ گراں مایہ کہ سودا کےجے
جسم ہے گرمیِ بازار سجائے رکھئے

کچھ تو لازم ہے مری زےست کا عنواں ہونا
راس آئے مجھے خوابوں کا پرےشاں ہونا
مجھ کو فےشن نے سکھائے ہےں جنوں کے آداب
مجھ کو مجنوں نے سکھاےا نہےں عرےاں ہونا
عےش کے دن مجھے ہرگز نہ بدل پائےں گے
ےاد رہتا ہے مجھے بے سروساماں ہونا
وہ ہے کمزور تو کےا اس کو قوی کے آگے
جرم نا کردہ پہ آتا ہے پشےماں ہونا
لذتِ خوفِ خطاکاری کا سر چشمہ تھا
اولےں وصل پہ وہ تےرا ہراساں ہونا

کس قدر بے دست و پا راکب کو مرکب نے کےا
خود سے بھی بے گانہ حرصِ جاہ و منصب نے کےا
ہم کو لاےا ہے تعصب نفرتوں کے دشت مےں
ورنہ کب گمراہ انسانوں کو مذہب نے کےا
جب بھی شہرِ مصلحت مےں وا کےا دستِ طلب
اک عجب انکار سا اقرار سے سب نے کےا
محفلِ ادراک مےں توڑا سکوتِ بے حسی
جرم کتنا خوب صورت جنبشِ لب نے کےا
دھوپ مےں دےوار بھی تھی کس کو تھا اس کا خےال
استفادہ سایہ دےوار سے سب نے کےا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہےں کےا بقا ¶ فنا جثہِ اثر سے ڈرو
رہوں گا زندہ مری موت کی خبر سے ڈرو
جہاں مےں باعثِ خوف و ہراس اے لوگو
مگر یہ فرض ہے تم پر کہ اپنے گھر سے ڈرو
اٹھو کہ لرزہ بر اندام ہے فضا ساری
نقےبِ شورشِ فردا ہے یہ سحر سے ڈرو
تمام شہر کے دروازے نےچے نےچے ہےں
بہت بلند نہ ہو جائے اپنے سر سے ڈرو

فلک پہ کون سی شئے ہے زمےن مےں کےا ہے
نظر نہےں تو تری خورد بےن مےں کےا ہے
ترے خلوص کا منکر نہےں ہوں مےں لےکن
ذرا ٹھہر یہ تری آستےن مےں کےا ہے
نہ ساز چےز ہے کوئی نہ کوئی شئے دھن ہے
وہ دردِ دل ہے سپےرے کی بےن مےں کےا ہے
تمام عمر جہنم مےں کےوں گذارےں ہم
سوائے حسن و ادا اس حسےن مےں کےا ہے
خبر بھی کچھ ہے کہ احساس اسمِ آدم ہے
جو دل نہےں ہے تو پھر اس مشےن مےں کےا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوئی جو شام راستے گھروں کہ سمت چل پڑے
ہمےں مگر یہ کےا ہوا یہ ہم کدھر نکل پڑے
کسی کی آرز¶ں کی وہ سرد لاش ہی سہی
کسی طرح تو جسم کی حرارتوں کو کل پڑے
اسی کی غفلتوں پہ مےری عظمتےں ہےں منحصر
خدا نہ خواستہ کہ اس کی نےند مےں خلل پڑے
سفر طوےل تھا مگر گھٹا اٹھی امےد کی
کڑی تھی دھوپ دےکھےں کس پہ ساےہ اجل پڑے

اک ذرا جب ہم اٹھا کر سر چلے
ہر طرف سے دےر تک پتھر چلے
اپنی قسمت مےں ہے گردش کےا رکےں
ہم اگر ٹھہرےں تو ہر منظر چلے
رات کے ساتھی کو اب رخصت کرو
کچھ اسے بخشو کہ اس کا گھر چلے
تےزگامی ٹھوکرےں کھلوائے گی
اس سے یہ کہئے کہ رک رک کر چلے
جی اٹھوں پھر سے کسی کی آرزو
خون بن کر جسم کے اندر چلے

زندگی کے لبوں پہ آہ سہی
کےوں ہنسے موت مےں تباہ سہی
وصل حالآنکہ مرگِ الفت ہے
اک ملاقات گاہ گاہ سہی
جانے کس وقت کام پڑ جائے
اس سے تھوڑی سی رسم و راہ سہی
مےری فطرت مےں رچ گےا ہے خلوص
اب مسلسل یہی گناہ سہی
کون رشتوں کو توڑ پاےا ہے
اےک مکروہ سے نباہ سہی
بحر و بر اب بھی تجھ پہ ہنستے ہےں
آسماں پر تری نگاہ سہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرخرو صرف لمحہ کھڑا تھا
ہر بدن جب شکستہ پڑا تھا
تھک چکے تھے عقائد کے غازی
صرف پرچم §ہی لہرا رہا تھا
آ¶ اچھا تماشا رہے گا
دور سے شور سا اک اٹھا تھا
سج گئی بزمِ انجم یکایک
منتشر اےک نقطہ ہوا تھا
لوٹ آےا ہوں اے ارتقا مےں
پھر وہےں پر جہاں سے چلا تھا
سائباں ساتھ کس کے چلے ہےں
پھر وہی دھوپ تھی قافلہ تھا

تھا جہاں انسان انساں ان ٹھکانوں مےں چلےں
اے نئی تہذےب آ پچھلے زمانوں مےں چلےں
ہےں ہمارے جاگتے لمحوں پہ حاوی پستےاں
آنکھ لگ جائے تو پھر ہم آسمانوں مےں چلےں
پھےلتی ہی جاتی ہے ناکامےوں کی تےز دھوپ
آئےے خوش فہمےوں کے سائبانوں مےں چلےں
چل کہ چٹانوں سے سےکھےں زندگی کے کچھ ہنر
آ مری جےنے کی خواہش سخت جانوں مےں چلےں
شےر کو تہذےب کی سازش سے کرنا ہے شکار
بزدلی تسلےم ہے ہم کو مچانوں مےں چلےں
جےب کی گرمی سے کہتی ہے مری بے چہرگی
جسم کے بازار، چہروں کی دوکانوں مےں چلےں

کچھ کم نہےں ہے یہ کہ نقےبِ رجا ہےں ہم
وےرانےوں کے شہر مےں آوازِ پا ہےں ہم
پانی ہےں بلبلہ ہےں برستی گھٹا ہےں ہم
درےا ہےں آبِ جو ہےں سمندر ہےں کےا ہےں ہم
اے لشکرِ غنےم ٹھہر جا کہ جےت لےں
وہ جنگ جس مےں خود سے نبرد آزما ہےں ہم
رشتے بنائے رکھنے مےں لازم ہے احتےاط
اس کو خبر نہےں ہے کہ اس سے خفا ہےں ہم
پےنے لگا ہمےں بھی بہت پھونک پھونک کر
وہ دودھ کا جلا تھا نہ سمجھا کہ کےا ہےں ہم
اک چےخ اک کراہ اک آواز ہی سہی
سناٹے مصلحت کے ہےں لرزاں، صدا ہےں ہم
بکنا پڑے گا تجھ کو ہمارے حصول مےں
ہم کو خرےدتا ہے تو سن بے بہا ہےں ہم

اشخاص ہےں ارواح مرے گھر مےں نہےں ہےں
لمحاتِ سکوں پھر بھی مقدر مےں نہےں ہےں
باطن کی ذرا آنکھ جو روشن ہو تو پھر
دےکھےں گے وہ چےزےں کہ جو منظر مےں نہےں ہےں
سوزش ہے محبت کی نہ جذبوں کی حرارت
پوشےدہ شرارے کسی پتھر مےں نہےں ہےں
ہم سر سے کفن باندھے ہوئے پھرتے ہےں لےکن
جاں لےنے کو انداز ستم گر مےں نہےں ہےں
پےتا ہوں تو کچھ اور بھی ہوتا ہے فزوں غم
خوشےوں کے خزانے مرے ساغر مےں نہےں ہےں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حساس دل تھا تابِ نظارہ بکھر گئی
پھےلی ہوئی تھی پےاس جہاں تک نظر گئی
دروازہ کھولتے ہی عجب سانحہ ہوا
منظر کی آگ سب مرے سےنے مےں بھر گئی
زندہ ہوں اب بھی گر ہے تنفس کا نام زےست
سےنے مےں کوئی چےز جو زندہ تھی مر گئی
اب کس کی جستجو مےں زمانہ ہے غوطہ زن
پاتال مےں خلوص کی کشتی اتر گئی

تھے درج ان کتابوں مےں اخلاق کس قدر
دےمک کی نذر ہوگئے اوراق کس قدر
تھا انتظام مےری تباہی کا ورنہ اب
ٹھہری ہوئی ہے گردشِ آفاق کس قدر
پوچھا تو اس نے حال سر راہ ہی سہی
وہ شخص بھی ہے صاحب اخلاق کس قدر
جب تک ہے سانس سےنے مےں تب تک یہ زندگی
خود زہر بھی ہے خود ہی ہے ترےاق کس قدر
جب بھی ہوائے تےز چلی تےرے نام کی
لرزے کتابِ دل کے ہےں اوراق کس قدر
رکھے ہےں اس نے نام ہزاروں فرےب کے
یہ فطرتِ بشر بھی ہے خلّاق کس قدر

وہ سمجھتا تھا ہار جاو¿ں گا
کےا خبر تھی کہ مار جاو¿ں گا
رہ مےں ہونے دو خار، جاو¿ں گا
اےک کےا بار بار جاو¿ں گا
ےاد رکھ تو بھی ساتھ جائے گا
مےں اگر سوئے دار جاو¿ں گا
اےک شب تےرے خواب مےں آکر
تےری زلفےں سنوار جاو¿ں گا
تو نہ ہوگا تو تےرے کوچے مےں
نام تیرا پکار جاو¿ں گا
مل تو جا اےک بار، بوسوں کے
سارے قرضے اتار جاو¿ں گا

رنج و غم کی ےورشےں ہوتی ہےں جب ہنستے ہےں ہم
سب سمجھتے ہےں کہ ےونہی بے سبب ہنستے ہےں ہم
ہےں سبھی سنجےدگی سے سازشوں مےں منہمک
دےکھ کر اےسی فضائے بوالعجب ہنستے ہےں ہم
بے بسی اخلاق کے پتھر پہ سر پٹکے تو کےا
دل ہوا ہے مدفنِ غےض و غضب ہنستے ہےں ہم
کےا ہے تحرےکِ تبسم پوچھتے رہتے ہےں سب
تےرے دم سے اے تمنائے طرب ہنستے ہےں ہم
توڑ کر دےوارِ آہن غم کی پل بھر کے لئے
جب خوشی دل مےں لگاتی ہے نقب ہنستے ہےں ہم
ہم بھی پرتوَ ہےں اسی کے جس کی وہ تصوےر ہے
پوچھتا ہے جب کوئی نام و نسب ہنستے ہےں ہم

کب بھلا ان کی سرزنش کی ہے
ہم نے زخموں کی پرورش کی ہے
لہلاتی ہے غم کی پھلواری
آبےاری روش روش کی ہے
قرب سے اسکے ذہن کی حالت
ہو بہ ہو آبِ مرتعش کی ہے
وہ تو مل بھی گےا مگر دل مےں
سرسراہٹ یہ کس خلش کی ہے
بجھ گےا گر شرار الفت کا
پھر یہ جاں کاہی یہ کس تپش کی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ کو کہاں گمان گذرتا کہ مےں بھی ہوں
دےکھا تمہےں تو مےں نے یہ جانا کہ مےں بھی ہوں
مےرے بھی بخت مےں ہے اندھےرا کہ مےں بھی ہوں
سمجھے نہ رات خود کو اکےلا کہ مےں بھی ہوں
گھر تو بہا کے لے گےا خاشاک کی طرح
درےا نہ چھوڑ مجھ کو اکےلا کہ مےں بھی ہوں
اے کاش چےختا، اسے آتا تو مےں نظر
اس ”صاحبِ نظر“© نے نہ دےکھا کہ مےں بھی ہوں
مےں اپنی دھن مےں کتنی بلندی پہ آگےا
کوئی نہےں ہے دےکھنے والا کہ مےں بھی ہوں

وقت نے کےسی کروٹ لی ہے سر والے سنگسار ہوئے
سر ہی نہےں تھا شانوں پہ جنکے پھر وہ سب سردار ہوئے
جتنے جواں تھے انکے ارماں اتنے ہی انکار ہوئے
جب یہ سےاست حسن کی سمجھے عشق سے ہم سرشار ہوئے
چلئے اب تحقےق ہی کر لےں مدت گذری وار ہوئے
پشت پہ خنجر کس نے مارا کےا اپنے غدار ہوئے
ڈال ہی لو تم آج کی شب سے وعدہ نبھانے کی عادت
جاگ اٹھا ہے رات کا جادو غافل پہرےدار ہوئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم سے کس نے کہا تھا کہ اتنا ہوا مےں دھواں چھوڑدو
اب چلو جنگلوں مےں رہو مدتوں کےلئے بستےاں چھوڑ دو
سےنہِ بحر پر اپنی جولانےوں کے نشاں چھوڑ دو
لاکھ طوفان سہی بادباں کھول دو کشتےاں چھوڑ دو
مےرے ہمدرد، محسن انہےں تم ےونہی خونچکاں چھوڑ دو
اسکی تصوےر مجھ کو بنا لےنے دو انگلےاں چھوڑ دو
کےسا آزاد ہوں سہہ تو سکتا ہوں مےں بول سکتا نہےں
قےد کر لو مجھے مےرا سب چھےن لو بس زباںچھوڑ دو

رکا تو مےری رگِ جاں پہ وار کرنے لگا
لہو لہو مجھے دل کا غبار کرنے لگا
پتہ چلا کہ بہت ہو چکا ہوں دولت مند
مےں دل کے زخموں کو جب سے شمار کرنے لگا
مےں اےسا اس کے تصور کی راہ مےں کھوےا
وہ آ گےا تو مرا انتظار کرنے لگا
کبھی تو اترے گا سر سے یہ زندگی کا نشہ
شراب پی کے مےں ردِّ خمار کرنے لگا
اسی گھڑی کا ہی تھا انتظار قاتل کو
وہی گھڑی کہ مےں جب اعتبار کرنے لگا
نہےں گلوں پہ، جڑوں پر نظر ہے اب اسکی
وہ اب ارادئہ قتلِ بہار کرنے لگا
جب اس نے کچھ نہ کہا مےری بدکلامی پر
مرا ضمےر مجھے شرمسار کرنے لگا

ےقےں آےا کہ دنےا مختصر ہے
جہاں جاتا ہوں مےں مےرا ہی گھر ہے
خداےا دل کو بےنائی عطا کر
نظر کی راہ مےں حدِّ نظر ہے
نہےں معلوم مجھ کو اس کی منزل
ہزاروں مےل تک وہ ہم سفر ہے
دےا ہے اس نے پھر آنے کا دھوکہ
ہمارے پاس پھر اک رات بھر ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لئے زندگی سے برہم ہے
آرزوئےں بلند قد کم ہے
مےں اگر مٹ گےا تو کےا غم ہے
زندگی تےری آنکھ کےوں نم ہے
وقت ہی گھا¶ بھی لگاتا ہے
وقت کے ہاتھ ہی مےں مرہم ہے
منتظر ہوں ترے اشارے کا
عشق کم ہے نہ حوصلہ کم ہے
کےوں درارےں دلوں مےں پڑتی ہےں
ےا الٰہی یہ کےسا موسم ہے

ُُُجثہُ¿ِ تحےر کو لفظ مےں جکڑتے ہےں
شعر ہم نہےں کہتے تتلےاں پکڑتے ہےں
کےوں ہمارے قبضے مےں کوئی جن نہےں آتا
اس چراغِ ہستی کو ہم بھی تو رگڑتے ہےں
برقراری¿ِ ظاہر کتنا خوں رلاتی ہے
اپنے جسم کے اندر ہم کسی سے لڑتے ہےں
قابلِ عبور اتنی ہے بدن کی صف بندی
تےر جتنے چلتے ہےں روح ہی مےں گڑتے ہےں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شنےد و دےد کی ماےا کا دھوکا ٹوٹ جاتا ہے
وہ دن جس روز یہ مٹی کا منڈوا ٹوٹ جاتا ہے
بہت پہلے سے ہو جاتا ہے احساسِ فنا اس کو
دہانے پر جب آتا ہے تو درےا ٹوٹ جاتا
ہماری سمت آتا ہے بہت شدت سے وہ اکثر
مگر ٹکرا کے ہم سے خود ہی صدمہ ٹوٹ جاتا ہے
یہ تارِ زندگی مسلم متاعِ عنکبوتی ہے
بالآخر اےک دن مکڑی کا جالا ٹوٹ جاتا ہے

گھوم پھر کر اسی آئےنے مےں دےکھا خود کو
اپنے ماحول سے انسان نے سمجھا خود کو
ہم کو منظور نہ تھی اپنی انا کی سبکی
ہم سمجھ بوجھ کے دےتے رہے دھوکہ خود کو
ذات اپنی ہی بہر حال مقدّم ٹھری
پردئہ الفتِ اغےار مےں چاہا خود کو
کسی صورت دلِ نادان بہلتا ہی نہ تھا
لورےاں دے کے ترقی کی سلاےا خود کو
مار ہی ڈالتی حق گوئی کی عادت مسلم
جھڑکےاں دے کے کئی بار دباےا خود کو

درےا ہے رواں خوں کا مرے قامت و قد مےں
لے جانا لہو جب بھی کمی پاو¿ رسد مےں
کمرے مےں ہوس کو تو چھپا سکتے ہو لےکن
یہ عشق ہے اور عشق ٹھہرتا نہےں حد مےں
اک وہ ہی نہےں شہر مےں مجرم تو بہت تھے
بس یہ ہے کہ وہ آگےا الزام کی زد مےں
کےا اس نے چھپا رکھا ہے اخلاص کے پےچھے
بو گل کی تو ہرگز نہےں گل پوش مدد مےں
سرخی سے دمکنے لگا اشعار کا چہرہ
کچھ خون کےا صرف جو اظہار کی مد مےں
تخلےق تو خود اپنی سند ہوتی ہے مسلم
نادان ہےں وہ لوگ جو الجھے ہےں سند مےں

افسانوی غزل
عصمت نے جب لحاف ادب کو اوڑھا دےا
عےنی نے بڑھ کے آگ کا درےا بہا دےا
منٹو مےں اور مےر مےں ہے قدرِ مشترک
دونوں نے اختصار کو جامع بنا دےا
بکواس لکھتے رہنے سے اچھا ہے کم لکھو
دانا تھا جس نے راز یہ ہم کو بتا دےا
’ننگی سڑک پہ‘ بےٹھ کے ہم نے بھی کچھ لکھا
قاری کو ×’سکھ کی نےند‘ سے واقف کرادےا
ابھرا ہے اور تےز دھماکے کا ساتھ وہ
اندر کے جس ادےب کو مےں نے دبا دےا
مسلم ہے مےرا نام مکمل ادےب ہوں
افسانوں کا غزل سے تعارف کرا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(× ننگی سڑک پر اور سکھ کی نےند مےرے افسانوں کے عنوانات ہےں۔)

آگ کے ساتھ ساتھ پانی ہے
جسم کی بھی عجب کہانی ہے
حال اس کا بےاں کروں کےسے
دل تو صدموں کی راجدھانی ہے
کردےں مسمار قصرِ ہستی کو
حادثوں نے یہ جی مےں ٹھانی ہے
پھول کی پنکھڑی مرا احساس
اور بادِ صبا روانی ہے
جو بھی گذرے ہےں حادثے ہم پر
سب تمہاری ہی مہربانی ہے
مےں اٹھاتا نہےں ہوں دےوارےں
دل کی بستی مجھے بسانی ہے
اتنی چھوٹی سی بحر مےں مسلم
تےرا اظہار داستانی ہے

اب لباسوں کا کےا ہی کہنا ہے
کچھ نہےں پہنا اور پہنا ہے
شوق ہے اس کو خوش لباسی کا
وہ مزاجاً مگر برہنہ ہے
زندگی خوفناک جنگل ہے
اور سانپوں کے ساتھ رہنا ہے
یہ عمارت بنی ہے مٹی سے
جسم کو اےک دن تو ڈھہنا ہے
اب یہ عادت سی بن گئی مسلم
شعر کہتے ہےں کےونکہ کہنا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوائے نوَ
قلمکاری مےں ماہر ہو گئی ہے
غزل پروےن شاکر ہو گئی ہے
نہاں تھے ہم سے جو عورت کے جذبے
وہ خود ان کی مصور ہو گئی ہے
قد اتنا بڑھ گےا ہے شاعرہ کا
کہ ہمدوشِ اکابر ہو گئی ہے
نہےں ہے اب وہ مردوں کا کھلونا
سےاست کی بھی شاطر ہو گئی ہے
ہمارے عہد مےں عورت بھی مسلم
مدبر اور مفکر ہو گئی ہے

جن پر منٹو گرجے ہے عصمت بےدی چلّائےں ہےں
آج وہی اونچی مسند پر بےٹھے ہےں اترائےں ہےں
طعنے، تشنے، جھڑکی، دھکّے، کےا کےا تحفے پائےں ہےں
تیری محفل سے ہم خالی ہاتھ بھلا کب آئےں ہےں
تم گھٹ گھٹ کر جئے، یہ عزّت دولت شہرت پائےں ہےں
غالب، مےر تمہارے لقمے شاعر آج چبائےں ہےں
بھرا ہے مےرے اندر لاوا مےرے مقابل مت آنا
مےں شاعر ہوں ساری بلائےں لےتی مری بلائےں ہےں
باطل سے سمجھوتہ نہ کرنا ظلم نہ سہنا سچ کہنا
تعزےراتِ شہر مےں مسلم شامل اب یہ خطائےں ہےں

مشاہدے کا ہے جمگھٹ مرے روئےے مےں
اسی کی پاو¿ گے کروٹ مرے روئےے مےں
پڑھا مےں نے بہت اس لئے در آئی ہے
اساتذہ کی سی آہٹ مرے روئےے مےں
بڑے سلےقے سے برتی ہے شاعری مےں نے
ہے اصل مےں تو سجاوٹ مرے روئےے مےں
مرے سہارے سے سچّائی ہو گئی بے باک
اٹھا رہی ہے وہ گھونگھٹ مرے روئےے مےں
قدم قدم پہ رےا اور مصلحت کوشی
نہےں ہے ےار یہ جھنجھٹ مرے روئےے مےں
بلا کا چلبلا، حاضر جواب اور فعّال
ابھی تلک ہے وہ نٹ کھٹ مرے روئےے مےں
نہ راج کی ہے، نہ ہے بال کی، نہ ترےا کی
صداقتوں کی ہے بس ہٹ مرے روئےے مےں
یہاں پر بھرتے ہےں پانی سبھی بڑے چھوٹے
ملا ہے ان کو تو پنگھٹ مرے روئےے مےں
کبھی ہے چاند، کبھی کہکشاں، کبھی سورج
نہےں ہے اےک بھی سلوٹ مرے روئےے مےں
اس عمر مےں بھی شگفتہ ہوں مےں جواں کی طرح
نہےں ہے چڑچڑا کھوسٹ مرے روئےے مےں
مےں چپکا رہتا ہےں ’کی۔بورڈ‘ سے بہت مسلم
اسی سے آگئی کھٹ کھٹ مرے روئےے مےں

خوشا کہ ختم ہوا بودوہست کا احساس
چبھے گا اب نہ کسی بندوبست کا احساس
یہ اس کی چےخ اچانک بتا گئی ورنہ
نہےں تھا مجھ کو خود اپنی گرفت کا احساس
یہ تھام لےتا ہے امکانِ فتحِ نو کے قدم
شکست سے بھی برا ہے شکست کا احساس
چہار سمت ہےں بس بے حسی کی چٹّانےں
مری صدا کو نہ ہو بازگشت کا احساس
غرض ہے لطفِ سفر سے ہمارے قدموں کو
نہ فکرِ جادہ و منزل نہ سمت کا احساس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وقت وہ ہے جب طلبِ جام بہت ہے
جانکاہ تری ےاد سرِ شام بہت ہے
اچھا ہے کہ ہم پر ہے ترے عشق کی تہمت
جےنے کے لئے بس یہی الزام بہت ہے
اندازہ یہ ہوتا ہے کہ کل عےد ہے شاےد
کےوں آج یہ اک نور لبِ بام بہت ہے
اب آو¿ چلو ہم بھی ذرا دےکھےں تماشہ
ہمسایہ کے گھر دےر سے کہرام بہت ہے
اپنے وطنِ ثانی مےں مسرور ہے مسلم
بھوپال مےں رہ کر اسے آرام بہت ہے

زندگی بندگی ہو گئی ہے
زندگی زندگی ہو گئی ہے
ےاد سے اس کی قلب و نظر مےں
دور تک روشنی ہو گئی ہے
مل گےا ہے ہدف اپنی جاں کا
ختم اب بے بسی ہو گئی ہے
تذکرہ تھا کتابوں مےں جس کا
یہ گھڑی وہ گھڑی ہو گئی ہے
دےکھئے ساتھ رہتا ہے کب تک
دوستی عارضی ہو گئی ہے
شور سےنے مےں کرتی تھی جو شئے
خامشی سے تری ہو گئی ہے
ٹھےک تھے تےرے آنے سے پہلے
بس یہ حالت ابھی ہو گئی ہے
چاند کےسا یہ ظلمت مےں نکلا
ضو فشاں تےرگی ہو گئی ہے
آج پستی بلندی پہ مسلم
کےسے ہنس کر کھڑی ہو گئی ہے

کسقدر بے خوف تھے ہم دشمنوں کے درمےاں
سازشوں مےں گھر گئے ہےں دوستوں کے درمےاں
ہے یہ اک مٹتی ہوئی تہذےب کا اندازِ عشق
وہ جو دو آنکھےں ہےں روشن جالےوں کے درمےاں
مدتوں سے اک جہانِ وہم بھی آباد ہے
ہم اکےلے ہی نہےں ہےں فاصلوں کے درمےاں
غےر سے منسوب تھی ساری پسند و نا پسند
چند لمحے تھے بس اپنے مدتوں کے درمےاں
امن ہے سستی کا باعث خواب آور ہے سکوں
ذہن کھلتا ہے جہاں کا حادثوں کے درمےاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاموشی سے ہر رازِ نہاں کھول رہا ہے
وہ صرف تبسم کی زباں بول رہا ہے
صےادو مبارک ہو چلو دام بچھا¶
سےنے مےں پرندہ کوئی پر تول رہا ہے
وہ زےست کے پےالے مےں کہےں زہر نہ بھر دے
کانوں مےں جو آواز کا رس گھول رہا ہے
تہذےب کی پوشاک سے جسموں کو سجا کر
بستی مےں درندوں کا کوئی غول رہا ہے
الفت بھی عجب شئے ہے، وہ خاموش ہے، لےکن
اس شوق کا ہر عضوِ بدن بول رہا ہے
الفاظ یہ کس کے ہےں خبر خوب ہے مجھ کو
یہ آپ نہےں اور بول رہا ہے

مجھے لگا کہ کوئی بلبلہ سا پھوٹ گےا
وہ کہہ رہے ہےں کہ تارِ حےات ٹوٹ گےا
جنون و عقل کے گرداب سے نکل آئے
جب اپنے ہاتھ ہے دامن ہمارا چھوٹ گےا
تھا انحطاط کا اعلان نقطئہ آغاز
وجود پاتے ہی انسان ٹوٹ پھوٹ گےا
وہ کام آےا کہ سہمے ہوئے تھے جس سے ہم
گمان جس پہ نہےں تھا وہ ہم کو لوٹ گےا
اک عمر ہم نے گذاری کہانےاں سنتے
نہ سچ کا بول ہی بالا ہوا نہ جھوٹ گےا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ اس طرح فرارِ غم کی راہ ڈھونڈتا رہا
مرا جنوں نئے نئے گناہ ڈھوندتا رہا
تمام آرزوئےں دوزخوں کی نذر ہو گئےں
تمام عمر جنتوں کی راہ ڈھونڈتا رہا
مصےبتوں سے ہارنا مرا مزاج ہی نہ تھا
مسرتوں کے لمحے گاہ گاہ ڈھونڈتا رہا
نئے نئے کھلونے چاہتا تھا قلبِ مضطرب
زمےں تو کےا نجوم و مہر و ماہ ڈھونڈتا رہا
اماں ملی ہے جب سے ہو گےا ہوں اسلحہ بکف
کہاں سکوں ملا کہ جب پناہ ڈھونڈتا رہا

اپنا سبک وجود بھی ہم پر گراں سا ہے
جےنے کا حوصلہ مگر اب بھی جواں سا ہے
ٹوٹی ہے گر کے چےز کوئی بارہا مگر
سر پر محےط اب بھی وہی آسماں سا ہے
کب تک یہ حفظِ لاشہِ بے جاں فراعنہ!
مستقبلِ وجود بہت بے نشاں سا ہے
روحوں کے اختلاط مےں مشکل نہےں کوئی
اس کا حسےن جسم مگر درمےاں سا ہے
دل ہے سرشتِ آدمِ خاکی سے با خبر
بدظن ہے سب سے خود سے بھی کچھ بدگماں سا ہے
محدود وسعتےں بھی مجھے دے گئےں شکست
صحرا بوجہِ لغزشِ پا بے کراں سا ہے

وہ ہےں خوش ےا خفا سمجھنے لگے
ان کی اک اک ادا سمجھنے لگے
آئےنے سے نہےں ہٹاتے نظر
خود کو کےا جانے کےا سمجھنے لگے
ان کو کےا دے دےا خدا نے کچھ
وہ تو خود کو خدا سمجھنے لگے
اس نے جو دےا سےاست سے
ہم اسی کو دوا سمجھنے لگے
اس کے بے ساختہ تبسم کو
مژدہِ سلسلہ سمجھنے لگے
منزلِ انتہا پہ آکر ہم
عشق ہوتا ہے کےا سمجھنے لگے
اپنا اقبال ہو رہا ہے بلند
شرحِ بانگ ِ درا سمجھنے لگے
مےر آکر تمہارے قدموں مےں
شعر ِ نشتر ہے کےا سمجھنے لگے
جاگو مسلم کہ یہ تو صحرا ہے
تم جسے راستہ سمجھنے لگے

سانسوں کے تانے بانے مےں نامطمئن سا ہے
دل اےسے سردخانے مےں نامطمئن سا ہے
کس دن بساطِ زےست پلٹ جائے کےا خبر
ہر مہرہ اپنے خانے مےں نا مطمئن سا ہے
ہر چند مٹ چکا ہے ہمارا وجود بھی
وہ ہم کو آزمانے مےں نا مطمئن سا ہے
ڈالے کمند کےوں نہ ستاروں پہ آدمی
قےدی ہے قےدخانے مےں نا مطمئن سا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج کو نگل جاتا ہے بدنام سمندر
ہوتا ہے خطرناک سر شام سمندر
انساں کی کہانی ہے کہ درےا کہ روانی
آغاز سمندر ہے اور انجام سمندر
ملاح کو کھےنے کا سلےقہ بھی نہےں تھا
کچھ یوں بھی ہے پہلے ہی سے بدنام سمندر
وہ بوند کہاں ہے جو مری پےاس بجھائے
صحرا ہے کہ بکھرا ہے بہرگام سمندر
کشتی مری ساحل سے ہم آغوش ہوئی جب
سر اپنا پٹکنے لگا ناکام سمندر

ختم ہو جائے گا سرمایہِ جاں کتنا ہے
اپنے ہونے کا مگر مجھ کو گماں کتنا ہے
راز جو دفن ہے سینے میں بیاں کتنا ہے
حال دل کا مرے چہرے سے عیاں کتنا ہے
قہقہوں میں نہ دبا اس سے جدائی کا الم
سب کو اندازہ ہے احساسِ زیاں کتنا ہے
استفادہ تپشِ دل سے کےا لوگوں نے
آگ دےکھی نہ یہ دےکھا کہ دھواں کتنا ہے
پہلے مرنے کا کوئی خوف نہےں تھا مجھ کو
تم کو پاےا ہے تو اندےشہِ جاں کتنا ہے
سب یہی کہتے ہےں روداد ہماری سن کر
بات مہمل ہے مگر زور بےاں کتنا ہے

دو غزلہ جو خواب میں وارد ہوا
کہےں سے دےکھو بدلتی نہےں جہاتِ وجود
ہزار آئےنے ہےں اور اےک ذاتِ وجود
نہ اختتام ہے اس کا نہ ابتدا کوئی
ازل سے جاری و ساری ہے کائناتِ وجود
جو اےک بار بنا پھر وہ مٹ نہےں سکتا
بدلتی رہتی ہےں اشکال و ماہےاتِ وجود
کتابِ جنبش و حرکت فضا مےں ہے موجود
ہر اک ورق پہ رقم ہےں نگارشاتِ وجود
وجود ہی سے تو آباد ہے جہانِ عدم
ہے اےک وقفہ جو ہے پردہِ مماتِ وجود
بقائے چشمہِ انسانےت حسےن سے ہے
بفےضِ تشنہ لباں ہے رواں فراتِ وجود
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ احتےاط و تکلف نہ انضباطِ وجود
وفورِ جذب اگر ہو تو ہے نشاطِ وجود
ہر اےک خلق کو بخشا گےا وجودِ محض
وہ ہم ہےں جن کو ملا کےف و انبساطِ وجود
جو ہے وجود وہی خالقِ وجود بھی ہے
بچھاتا رہتا ہے ہر دم نئی بساطِ وجود
خود اپنے آپ ہی ابنِ سبےل بھٹکا ہے
وگرنہ سےدھی تھی اور اب بھی ہے صراطِ وجود

تقاضے وقت کے پےہم بدلتے رہتے ہےں
ضرورےات کے موسم بدلتے رہتے ہےں
کبھی ہے طنز کبھی قہقہ کبھی آنسو
ہماری ےاس کے عالم بدلتے رہتے ہےں
کبھی سرور کبھی سےر اور ساز کبھی
ہم اپنے زخم کے مرہم بدلتے رہتے ہےں
ہے راگ دل کے تقاضے اےک ہی لےکن
وہ اپنے وعدوں کی سرگم بدلتے رہتے ہےں
ہمےشہ جےتنے والوں کی صف مےں رہنا ہے
اسی لئے تو وہ پرچم بدلتے رہتے ہےں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قربت ہمےں نہ بخشئے احسان کی طرح
منظور ہم کو پےار نہےں دان کی طرح
وہ کامےاب ٹھہرے تجارت مےں عشق کی
جو حسن کو سمجھتے ہےں سامان کی طرح
یہ آخری سہارا ہے ساقی ذرا سنبھل
پےمانہ ٹوٹ جائے نہ پےمان کی طرح
مخلص تھے جنّتوں سے کےا سب کو ہمکنار
محروم خود ہی رہ گئے رضوان کی طرح

مجھ سے زےادہ وہ مری پہچان سے ملا
جو آےا مےرے گھر مرے سامان سے ملا
جب بھی مےں اپنے وقت کے خاقان سے ملا
سر تھا بلند مےرا، مےں اس شان سے ملا
عاجز مےں اپنی جان سے وہ اپنی زلف سے
اک خستہ حال اےک پرےشان سے ملا
مدّت سے بحرِ شوق بہت پرُ سکون ہے
تو اس کو اپنے جسم کے طوفان سے ملا
رہ کر وہاں وہ اور بھی بے باک ہو گےا
الٹا ہی کچھ سبق اسے زندان سے ملا

وہ کسی شخص کی مجبوری بھی ہو سکتی ہے
لوگ جس چےز کو کردار سمجھ لےتے ہےں
ہے ہمارے ہی لئے خود کو سمجھنا مشکل
ہم کہ سرگوشیِ دےوار سمجھ لےتے ہےں
مسلے جانے سے تو بچ جاتے ہےں گل ہو کر بھی
توڑنے والے ہمےں خار سمجھ لےتے ہےں
مشغلہ زہرہ جبےنوں کا اداکاری ہے
اور اس کھےل کو ہم پےار سمجھ لےتے ہےں
وار تعرےف کا خالی نہےں جاتا ہے کبھی
سب منافق کو وفادار سمجھ لےتے ہےں
اہلِ باطن کبھی تقسےم نہےں ہو سکتے
سازشِ جبہ ¶ دستار سمجھ لےتے ہےں
ہم گوئےے ہےں مگر اپنے ترنم کے سبب
سننے والے ہمےں فنکار سمجھ لےتے ہےں
جلد کھل جانے کی کوشش جو کےا کرتا ہے
سب اسے اور پراسرار سمجھ لےتے ہےں
جےب کی کس کو خبر سب مری خوش پوشی سے
جھک کے مل لےتے ہےں، زردار سمجھ لےتے ہےں
اور جب موج مےں آتی ہے طبےعت مسلم
کسی قہار کو غفار سمجھ لےتے ہےں

معمول کی حدود سے نکلا نہ کےجئے
جےنے کی آرزو ہے تو سوچا نہ کےجئے
بچوں کو ہونے دےجئے احساس دھوپ کو
نشوونما نہ روکئے سایہ نہ کےجئے
ظالم پہ مہر ِعدل لگا دی عوام نے
چپ ہو کے بےٹھ رہئے تماشا نہ کےجئے
کھو جانے دےجئے مجھے باطن کے حسن مےں
نظرےں ذرا اٹھائےے پردا نہ کےجئے
ناقابلِ حصول کوئی شئے نہ دکھ پڑے
منظر کو دل کی آنکھ سے دےکھا نہ کےجئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خود اپنے ہی ہاتھوں سے دل مےں نشتر سے چبھو کر رہتے ہےں
رشتوں کے ہار مےں پھول نہےں کانٹے بھی پرو کر رہتے ہےں
گرداب سے لڑنا ہے آساں سےلاب سے بچنا ہے ممکن
ساحل سے جو طوفاں اٹھتے ہےں کشتی کو ڈبو کر رہتے ہےں
جےون کے کسی دوراہے پر تم ہمکو ملوگے کےا تھی خبر
تقدےر مےں جو کچھ لکھے ہےں وہ حادثے ہوکر رہتے ہےں
پھر آےا ہے رم جھم کا موسم ےادوں کی گھٹا گھنگھور ہوئی
یہ بادل جب بھی اٹھتے ہےں پلکوں کو بھگو کر رہتے ہےں
منزل پہ وہی تو پہنچےں گے ہو جن کا سفر منزل کے لئے
چلنا ہی جن کی منزل ہو وہ قافلے کھو کر رہتے ہےں

ےخ ہواو¿ں مےں تو وہ جاں سے گذر جائے گا
مےرے اندر یہ جو انسان ہے مر جائے گا
مےرے احباب جب آئےں گے ہوا کی زد پر
مجھ کو معلوم نہےں کون کدھر جائے گا
رہ مےں تنہائی کا احساس نہ ہوگا مجھ کو
مےرے ہمراہ مرا ذوقِ سفر جائے گا
کچھ دنوں کا ہے خدا اس کو بھلا کےا پوجےں
وہ تو چڑھتا ہوا سورج ہے اتر جائے گا
جمع کرتے رہو شےرازئہ اسبابِ حےات
اسکی تقدےر بکھرنا ہے بکھر جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقدےر کی مجھ سے یونہی تکرار چلے گی
مےں سائے مےں بےٹھوں گا تو دےوار چلے گی
چمنی سے ابلتی ہے وہ زنجےر دھوئےں کی
آزاد ہوا اب سے گرفتار چلے گی
تقدےر پہ انگلی کوئی ہرگز نہ اٹھائے
کس سمت ہوا کےا خبر اس بار چلے گی
سمجھوتے کی زنجےر نہ پہناو¿ انا کو
ہمراہ سدا طنز کی جھنکار چلے گی
جب پڑ کے اچٹ جائے گی دولت کی زرہ پر
مفلس ہی پہ حالات کی تلوار چلے گی
اے تشنہ لباں مژدہ ہے آرام سے بےٹھو
خود جوئے رواں سوئے طلبگار چلے گی

ہر گام پہ اندےشئہِ آزار بہت ہے
ہم کو بھی مگر نشہِّ کردار بہت ہے
چہرے کے تاثر کس یقےں کےسے کرےں ہم
اس دور مےں ہر شخص اداکار بہت ہے
انسان پہ کس درجہ حکومت ہے غرض کی
مطلب ہو تو دےوانہ بھی ہشےار بہت ہے
پھرتا ہے گلی کوچوں مےں وہ خاک اڑاتا
آزادی کے دھوکے مےں گرفتار بہت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں ہی جےنا اگر ہے مر مر کے
دےکھئے کوئی تجربہ کر کے
یہ حسےں بت ہےں سنگِ مر مر کے
آخرش ہےں تو بھی پتھر کے
ہونگے چرچے جہاں کہےں سر کے
نام آجائےں گے بہتّر کے
مےں کہاں اور آپ کس گھر کے
ہمنشےں کھیل ہےں مقدر کے
اک ذرا کےا تھکے مرے بازو
حوصلے بڑھ گئے سمندر کے!
آج کوئی ادھر نہےں آےا
کب سے ہم منتظر ہےں پتھر کے
کےا زمانہ تھا پارک مےں مسلم
ساتھ ہوتے تھے جب گلِ تر کے

دوست ےوں جلاتے ہےں، اےسے خوں رلاتے ہےں
محفلےں سجاتے ہےں، ہم کو بھول جاتے ہےں
ان کو شرم آتی ہے ہم کو جب بلاتے ہےں
منہ سے کچھ نہےں کہتے، چوڑےاں بجاتے ہےں
لوگ سب تھکے ہارے وقت ےوں بتاتے ہےں
داستان سنتے ہےں، داستاں سناتے ہےں
کےمپس کی ےادےں سب اپنے ساتھ لاتے ہےں
لوگ جب علی گڑھ سے ہم سے ملنے آتے ہےں
ہرطرف چلن ہے اب، جب بھی گھر سے جاتے ہےں
لوگ آستےنوں مےں اپنی کچھ چھپاتے ہےں
اپنی تو بہار آمد، اس کی آمد آمد ہے
جسم و دل کے دروازے آج ہم سجاتے ہےں
اب مزا ہے جےنے کا اس کے رنگ مےں رنگ کر
رنگ کچھ اڑاتے ہےں، رنگ کچھ جماتے ہےں
فطرتی تھے کتنے ہم مسلم اپنے بچپن مےں
جب بزرگ ملتے ہےں ہم کو سب بتاتے ہےں

چھوٹی سی رکاوٹ ہے دےوار نہ مانوں گا
مےں ہار نہےں مانا، مےں ہار نہ مانوں گا
اخبار کے باعث ہوں ہشےار نہ مانوں گا
مےں رہبرِ رہزن کو سالار نہ مانوں گا
دامن پہ، دہن پر کےا یہ دودھ کے دھبّے ہےں؟
کےوں وہم ہے پھر تم کو خونخوار نہ مانوں گا
آزارِ زمانہ کو آزار توسمجھوں گا
جوتم نے دئے ان کو آزار نہ مانوں گا
اس جگہ وہ صدیوں تک محبوب سے ملتا تھا
مسلم کے سوا اس پر حقدار نہ مانوں گا

تمہارے حسن کی تمثےل شاعری مےری
جنوں کے حکم کی تعمےل شاعری مےری
کوئی صحےفہ نہ تنزےل شاعری مےری
مگر ہے واجبِ ترتےل شاعری مےری
ہر اک خےال کی تصوےر اس مےں ملتی ہے
نگار خانہِ تخئےل شاعری مےری
ہے آبشار کبھی اور کبھی ہے جوئے رواں
بھی ہے ٹھہری ہوئی جھےل شاعری مےری
شراب اور بھی غم کو ابھار دےتی ہے
دکھوں کو کرتی ہے تحلیل شاعری مےری
غرض نہےںہے زمانے کی داد سے مسلم
مرے وجود کی تکمےل شاعری مےری

مصلحت اور برائی سے نبھانے والا
ہاں نہےں مجھ مےں یہ انداز زمانے والا
اس کو بھی مار گےا جذبہِ اےثاروخلوص
خود بھی تےراک نہ تھا مجھ کو بچانے والا
اس لئے خےمہِ سفاک مےں ہے جشنِ ظفر
گر گےا آج وہ گرتوں کو اٹھانے والا
کوئی دستک نہ کوئی شور نہ آہٹ، دل مےں
یوں دبے پاو¿ں چلا آتا ہے آنے والا
داستاں خود کو کہلواتی رہے گی یونہی
اےک جائے گا اک آئے گا سنانے والا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ اس خوبی سے ہم نے گل کھلائے
زباں چپ تھی، قلم نے گل کھلائے
گلستاں ہو گےا کانٹوں کا جنگل
ہمارے ہر قدم نے گل کھلائے
رواں تھی راہ پھر اک دن اچانک
مری قسمت کے خم نے گل کھلائے
ہزاروں آفتےں نازل ہوئی ہےں
یہ کےا تےرے کرم نے گل کھلائے
جدا ہےں شعر مےرے سب سے مسلم
نئے پن کی قسم نے گل کھلائے

جس جانب بھی قدم نکالا دشمن ہے
ہر کوچے مےں ہم نے پالا دشمن ہے
کچھ حکمت ہے ےا پھر کوئی مجبوری
بےٹھا اس بزم مےں بالا دشمن ہے
عرصے بعد ملا اک پنچنگ بےگ ہمےں
شکر ےہ ہے کہ وہ ہمت والا دشمن ہے
دن ڈستا ہے رات جراحت دےتی ہے
گورا دشمن ہے اور کالا دشمن ہے
راہ بری کرتا ہے نکتہ چینی سے
دوست سے بڑھ کر وہ متوالا دشمن ہے
دوری ہم نے ان سے قائم رکھی ہے
مئے ہے اپنی دوست نہ پےالہ دشمن ہے
ُاُس سے مسلم مجھے کوئی خوف نہیں
وہ تو مےرا دےکھا بھالا دشمن ہے

سمجھوتے کا قائل ہوں رہ رہ کے لچکتا ہوں
اتنا نہ جھکا مجھ کو مےں ٹوٹ بھی سکتا ہوں
جب اونچے پہاڑوں سے ٹکرا کے پلٹتا ہوں
مےدان ہی نےچا ہے امےداں پہ برستا ہوں
کھائے ہےں فرےب اتنے انسان سے ڈرتا ہوں
وحشت مےں خود اپنے ہی سائے سے بھڑکتا ہوں
ےخ بستہ ملاقاتےں رشتے بھی ہےں برفےلے
یہ آگ بھی کےسی ہے مےں جس مےں سلگتا ہوں
کچھ اور ستم اس نے اےجاد کئے ہوں گے
ظالم کے تبسم کو مےں خوب سمجھتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو اک بحرِ ہستی کا گرداب ہے
خواب تو اصل میں خواب در خواب ہے
بندگانِ ہوس کا تو سیلاب ہے
عشق نایاب ہے، انس کمےاب ہے
یہ تو اک بحرِ ہستی کا گرداب ہے
خواب تو اصل میں خواب در خواب ہے
بندگانِ ہوس کا تو سیلاب ہے
جس کو جو کچھ ملا اس پہ شاکر نہےں
سب کو کچھ پےاس ہے، کون سیراب ہے
صدق کا شوق ہو، شوق میں جوش ہو
عشق کے سامنے آگ بھی آب ہے
ٹین کا اےک ٹکڑا چمکدار تھا
ہم تھے ناداں یہ سمجھے کہ مہتاب ہے

عزےز درّانی
اک درِّ ناےابِ ادب، اک گوہرِ نادرویکتا تھا
جس کی جہاں نے قدر نہ کی درّانی اےسا ہےرا تھا
مست قلندر، بے پروا، سرشارِ رضائے مولا تھا
غوث، ولی،ابدال،قطب، اﷲ ہی جانے وہ کےا تھا
حسبِ حال کوئی اک شعر وہ مجھ کو دےکھ کے پڑھتا تھا
اس کو سارا حال پتہ ہے اکثر اےسا لگتا تھا
اس کا ہی بس ہو جاتاتھا جو بھی اس سے ملتا تھا
نام عزےزتھا اس کا بر حق ہر دل مےں وہ رہتا تھا
ستواں ناک تھی پتلے لب تھے، جن پہ تبسم رہتا تھا
لمبے لمبے گیسو اس کے اور مخروطی چہرہ تھا
۰۷ کے پےٹے مےں ہو کر بھی کافی پھرتےلا تھا
لمبے لمبے قدم اٹھا کر اعتماد سے چلتا تھا
اب بھی نظرےں ڈھونڈھ رہی ہےں اپنے مخلص رہبر کو
جمِّ غفیرِ انسانی مےں وہ انسان اکےلا تھا
داد نہےں دےتا تھا مجھ کو وہ دانائے شہرِ سخن
لےکن یہ بھی کےا کم تھا وہ شعر مرے سن لےتا تھا
تم کو نہےں معلوم کہ یہ اشعار لکھے مےں نے کےسے
حرف حرف تھا صرفِ گریہ، لفظ لفظ پر روےا تھا
پی ڈبلو ڈی مےں رہ کر بھی وہ بے داغ نکل آےا
اس کی دےانت اسکی ثابت قدمی کا کےا کہنا تھا
کون یہ کہتا ہے مسلم دنےا مےں نہےں ہے درّانی
اب بھی وہ مےرے دل مےں ہے پہلے بھی دل مےں رہتا تھا

منافعہ خوروں، ذخےرہ اندوزں اور کالہ بازارےوں کا ترانہ
ہر شخص کو منٹوں مےں پٹا لےتے ہےں ہم لوگ
باتوں سے جگہ دل مےں بنالےتے ہےں ہم لوگ
خاموشی سے پھر مال اڑا لےتے ہےں ہم لوگ
سرسوں کو ہتھےلی پہ جما لےتے ہےں ہم لوگ
بگڑی ہوئی ہر بات بنالےتے ہےں ہم لوگ

ہم لوگوں سے سےکھے کوئی جےنے کا قرےنہ
بوتے نہےں بے کار مےں ہم نخلِ تمنا
آتا ہے ثمر باری کا جس وقت زمانہ
اوروں کے درختوں کو گرا لےتے ہےں ہم لوگ
بگڑی ہوئی ہر بات بنالےتے ہےں ہم لوگ

کرتے ہےں کلرکوں کی شب و روز خوشامد
ہوتی نہےں گر پھر بھی کوئی خاص درآمد
کرلےتے ہےں پھر جےب سے کچھ نوٹ برآمد
روٹھے ہوئے بابو کو منالےتے ہےں ہم لوگ
بگڑی ہوئی ہر بات بنالےتے ہےں ہم لوگ
کردار سے کچھ خاص نہےں ہم کو لگاوٹ
ہے یہ بھی گنہ کوئی کہ کرتے ہےں ملاوٹ
جس چےز کی سپلائی مےں پاتے ہےں گراوٹ
اس چےز کو اس طرح بڑھالےتے ہےں ہم لوگ
بگڑی ہوئی ہر بات بنالےتے ہےں ہم لوگ

حالات سے سمجھوتے کو تےار ہےں ہر دم
ہم کو تو بہر حال فوائد ہےں مقدم
ذی جاہ و اثر جب کوئی ہوجاتا ہے برہم
اگلے ہوئے لقموں کو چبا لےتے ہےں ہم لوگ
بگڑی ہوئی ہر بات بنالےتے ہےں ہم لوگ

کےا فکر ہے چلتی رہےں لوگوں کی زبانےں
وزراءکے سہارے پہ ہےں قائم یہ دکانےں
ممکن ہے بھلا درد ہمارا وہ نہ جانےں
ان کو بھی ہمدرد بنا لےتے ہےں ہم لوگ
بگڑی ہوئی ہر بات بنالےتے ہےں ہم لوگ

اپنے لئے رحمت ہے تو ان کے لئے مہلک
وہ بھوک کہ ہے جس سے پرےشان یہ پبلک
سہ چند ہمےں نفع عطا کرتا ہے مالک
گوداموں مےں اجناس چھپالےتے ہےں ہم لوگ
بگڑی ہوئی ہر بات بنالےتے ہےں ہم لوگ

بھوپال گےس حادثہ
سنبھال لے کوئی مجھ کو دعا کے ہاتھوں مےں
مےں اک کھلونا ہوں پاگل ہوا کے ہاتھوں مےں
پلا دےا گےا موجِ صبا کو زہر کا جام
تھما دئےے گئے خنجر ہوا کے ہاتھوں مےں
لکھا تھا از سر ِ نو قصہِ حےات و ممات
بہت روانی تھی اس دن قضا کے ہاتھوں مےں
وبا وہ پھےلی کہ تشخےص ہو گئی بوڑھی
ےکاےک آگےا رعشہ شفا کے ہاتھوں مےں
وہی عزےز کہ جو جان سے بھی پےارے تھے
انھےں کو چھوڑ گئے سب فنا کے ہاتھوں مےں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظ جامد ہوگئے منظر ٹھہر کر رہ گےا
شعر مےں کےسے کہوں احساس ششدر رہ گےا
زہر گھولا تھا ہواو¿ں نے فضا مےں اس قدر
سانس جس نے زور کی لی آہ بھر کر رہ گےا
خوف کے ماحول مےں اہلِ عناں تھے بے لگام
سرد کارےں بھاگ نکلےں گرم بستر رہ گےا
ہے یہ سچ چنگےز و نادر تو نہےں آئے یہاں
ہاں مگر اس شہر مےں اک دورِ بربر رہ گےا
سونپ ڈالا موت کے ہاتھوں کسی نے لختِ دل
اور کسی گھر مےں کوئی ماہِ منور رہ گےا
آڑ مےں مارا گےا جو علم اور تحقےق کی
سینہ انسانےت مےں بس وہ خنجر رہ گےا

کلامِ مسلم سلیم حصہ دوم ©”باز۔آمد©©“

حمد
سارے مکان سارے مکینوں کا بادشاہ
افلاک برزخوں کا زمینوں کا بادشاہ
دن رات موسموں کا مہینوں کا بادشاہ
سارے خزانوں سارے دفینوں کا بادشاہ
دنےا کے کند ذہنوں ذہینوں کا بادشاہ
بے بس غلاموں، شاہ نشینوں کا بادشاہ
دینوں کا مسلکوں کا قرینوں کا بادشاہ
بے دینوں اوردیں کے امینوں کا بادشاہ
مسلم میں اس سے کچھ بھی چھپاو¿ں تو کس طرح
وہ شاہِ ذوالجلال ہے سینوں کا بادشاہ

نعت
گذاریں زندگی ہم لوگ آقا کے سلےقے سے
تو اترےں گی خدا کی رحمتےں ہر اک درےچے سے
براہِ راست بندے اور خدا کے درمےاں کےا ہے؟
ہداےت بھی وسےلے سے اطاعت بھی وسےلے سے!
وسےلہ زندگی مےں بھی ہمارے کام آتا ہے
بچےں گے حزن سے روزِ قےامت بھی وسےلے سے
مقدس شہر دنےا مےں بسے ہےں جا بجا لےکن
یہ راہِ امنِ عالم صرف نکلی ہے مدےنے سے
جہادِ زندگی لازم ہے مسلم جان لو لےکن
ملے گی کامےابی صرف آقا کے طرےقے سے

نعت
پھر کیوں نہ ہوں مسلم میری سانسو ںمیں محمد
جب رہتے ہیں اللہ کی” آنکھوں“ میں محمد
(حوالہ: سورة طور آیت ۸۴)
جنت اسے ملتی ہے وہ ہوتا ہے ”صحابی“
دیدار کرادیں جسے خوابوں میں محمد
اسلام کی ترویج بھلا کیسے ہو ممکن
شامل نہیں جب اپنے رواجوں میں محمد
گستاخی کا ہے دور عرب ہو کہ عجم ہو
مجبور ہیں جینے کو خرابوں میں، محمد
کچھ فکر نہیں حشر کی، اعمال نہیں گر
نکلیں گے وہاں اپنے حسابوں میں محمد

ایک حدیث
مانگ جو کچھ مانگنا ہے، جب نبی نے یہ کہا
اک صحابی نے کہا کر دیجیئے جنت عطا
بولے جا تجھ کو وہ بخشی اورہے کچھ مدعا؟
عرض کی خادم نے بیشک مجھ کو سب کچھ مل گیا
دیکھئے شانِ نبی اور اختیارِ بے کراں
آپ کی جودوعطا میں ہیں زمین و آسمان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ماخذ تمام مستند کتبِ حدیث)

نعت
رب نے جس کو آخری پےغامبر طے کرلےا
اس نے کچھ لمحوں مےں برسوں کا سفر طے کر لیا
اس کے لب کی جنبشوں کو معتبر طے کر لےا
اس کے فرمودات مےں ہوگا اثر طے کر لیا
نام اسکا ہر صحےفے مےںبتاےا اس طرح
عالمِ انسانےت کا منتظَر طے کر لیا
وہ عمارت جس سے تھی اسکو محبت بے پناہ
اس عمارت کو خدا نے اپنا گھر طے کر لیا
نور وہ جو باعثِ تخلےقِ دو عالم ہوا
چند نادانوں نے اس کو ہی بشر طے کر لےا
آخری خواہش جہاں والوں سے جب پوچھی گئی
سب نے جنت اور مےں نے ان کا در طے کر لیا
کےوں نہ اب اسکے سخن کی داد دے سارا جہاں
مدحتِ سرور ﷺ کو مسلم نے ہنر طے کرلےا

نعت
نعت گوئی کی اس عاجز کو سعادت دی ہے
ےعنی دنےا ہی مےں تحرےکِ شفاعت دی ہے
سب سے اچھی ہےں عبادات درود اور سلام
ان عبادات نے جنت کی ضمانت دی ہے
عظمت اسلام کو اور کفر کو لعنت دی ہے
اےک بندے نے کچھ اس طرح شہادت دی ہے
قابلِ رشک ہےں وہ لوگ جنہےں دنےا مےں
عالمِ خواب مےں آقا ﷺ نے بشارت دی ہے
لوٹ لے آج تو رحمت کے خزانے مسلم
آج اﷲ نے توفےقِ ندامت دی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعت
جو محمد سے کی ہے وفا دےکھ لے
کوئی دےکھے نہ دےکھے خدا دےکھ لے
در گذر کر خدا مےرے اعمال کو
مےری نیّت، مرا حوصلہ دےکھ لے
دےکھ سکتا ہے باطن بس ک تو خدا
دل یہ مےرا عقےدت بھرا دےکھ لے
ہے ثناءلب پہ یٰسین کی ہر گھڑی
ہے یہی رات دن سلسلہ دےکھ لے
سارے عالم پہ فرمانِ مسلم چلے
اےک دن یہ بھی دنےا ذرا دےکھ لے

نذرانہ¿ِ عقیدت بحضور حضرت خواجہ غریب نواز ( رح)
عقیدت یوں دکھاتی ہے اثر دربارِ خواجہ میں
کہ جھک جاتا ہے شاہوں کا بھی سر دربارِ خواجہ میں

ماں
مجھ میں زندہ ہے فنا ہی کب ہے
ماں مری مجھ سے جدا ہی کب ہے

والدہ مرحومہ ّبیگم امِّ حبیبہ کی ےاد میں
لگ رہا ہے یہاں ہے ، وہاں ہر طرف
جب نہیں ہے تو دکھتی ہے ماں ہر طرف
تو تھی جب تو مناظر تھے سارے دھلے
اب تو لگتا ہے مجھ کو دھواں ہر طرف
چاہنے والا کوئی نہ تجھ سا ملا
بعد تیرے جو دیکھا جہاں ہر طرف
ساتھ ہے ہرقدم اسکے تیری دعا
آج مسلم جو ہے کامراں ہر طرف

خراجِ تحسین برائے والدِ محترم ڈاکٹر سلیم واحد سلیم
زائیدہ¿ِ تہران تھے، پروردہ¿ِ لاہور
سب لوگ انھیں کہتے تھے شہزادہ¿ِ لاہور
نقّادوں کی نظروں میں تھے ُاس دور کے خےام
انمول رتن تھے وہ تراشیدہ¿ِ لاہور
لندن مےں ، علی گڑھ میں بھی کچھ سال رہے تھے
پھر پلٹے وہیں ، کیونکہ تھے گروےدہ¿ِ لاہور
تا عمر دےا علم کا دنےا کو اجالا
مصباحِ سخن تھے وہ جہاں دیدہ¿ِ لاہور
رخصت ہوئے دنےا سے ُاسی سال وہ مسلم
اکےاسی میں ہر شخص تھا نمدیدہ¿ِ لاہور

اردو
ہر کسوٹی پہ کھرا اترے وہ سونا اردو
کچھ بھی کھو دےنا مرے ےار نہ کھونا اردو
تا کہ ہر لفظ زبانوں سے مہکتا نکلے
اپنی نسلوں کے گلستان مےں بونا اردو
عشقِ غالب نے کےا جسکا ہے اقبال بلند
مےرِ ہر نطق زباں کےا ہے؟کہونا اردو
ہوں اٹل، نرغہ¿ِ دشمن سے نہےں گھبراتا
کچھ بھی ہو جائے مرے گھر مےں تو ہونا اردو
نوکری اپنی یہ مسلم نے سمجھ رکھّی ہے
سب کے گلدستہ¿ِ ہستی مےں پرونا اردو
(خاص طور سے ہند کے تناظر مےں)

علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی
مادرِ مہرباں ہے اے ایم یو©
مایہ¿ِ عز وشاں ہے اے ایم یو
میرا سارا جہاں ہے اے ایم یو
میں جہاںبھی ہوں جی رہا ہوں اسے
یعنی مجھ میں رواں ہے اے ایم یو
اس میں روشن ہیں سینکڑوں سورج
علم کی کہکشاں ہے اے ایم یو
اس کی شفقت میں بھید بھاو¿ نہےں
مادرِ مہرباں ہے اے ایم یو
نازشِ ملک، شانِ عالم ہے
جسم دنےا ہے، جاں ہے اے ایم یو
تو بھی مسلم خراج دے اسکو
کیونکہ تیری بھی جاں ہے اے ایم یو

غزل
دل جہاں لاکھوں پڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
ہم بھی اس رہ مےں کھڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
آپ کی مانند چلتے تھے اکڑ کر جو کبھی
خاک مےںوہ سب گڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
کھےل بچّوں کا نہےں ہے، عشق کا رستہ ہے یہ
مرحلے سارے کڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
گدڑےوں مےں رہ کے خدمت خلق کی کرتے ہےں جو
وہ سبھی انساں بڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے
بارہا مسلم کےا ہے ہم نے خونِ آرزو
خود سے ہم اکثر لڑے ہےں اطلاعاً عرض ہے

وہ دور کے ہوں دوانے، کہ ہوں قرےب کے لوگ
ہےں مدح خوان اسی پےکرِ عجےب کے لوگ
ہےں کار زار کئی اور بھی زمانے مےں
ہلال ہی سے الجھتے ہےں کےوں صلےب کے لوگ
سروں کی گنتی نے آخر کےا اسے رسوا
امےرِ شہر پہ بھاری پ©ڑے غرےب کے لوگ
جہاں مےں دھوم ہے جنکی ژرف نگاہی کی
دکھائی دےتے نہےں کےوں انھےں قرےب کے لوگ
گلِ خموش کا دےتا نہےں ہے ساتھ کوئی
ہےں سارے حاشیہ بردار عندلےب کے لوگ
نظر بچا کے ہم اس دلربا سے مل آئے
گلی مےں گھومتے پھرتے رہے رقےب کے لوگ
وطن سے آج چلا ہوں یہ سوچ کر مسلم
کہےں تو مجھ کو ملےں گے مرے نصےب کے لوگ

خدا سے مانگنے ہر اک تمنا ساتھ لے آےا
وہ مسجد مےں بھی جب آےا تو دنےا ساتھ لے آےا
وہ کہنے کو تو اک پل تھا مگر کےا ساتھ لے آےا
وہ لمحہ اسکی سب ےادوں کا صحرا ساتھ لے آےا
بڑا تقدےر والا ہے مرے اشعار کا قاری
بس اک غوطہ لگاےا اور درےا ساتھ لے آےا
نےا کہنا تھا مشکل سب زمےنےں پا فتادہ تھیں
مگر مسلم تھا مسلم، فکرِ تازہ ساتھ لے آےا
یہی رختِ سفر کافی ہے مسلم راہِ منزل مےں
خدا کا شکر ہے وہ ساتھ اپنا ساتھ لے آےا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنج مطلع غزل
نہ شکاےت نہ گلہ اور نہ تکرار کوئی
پھر بھی رشتوں پہ لٹکتی رہی تلوار کوئی
نہ کوئی عہد نہ پےمان نہ اقرار کوئی
پھر ہوا کےسے مرے دل کا طلبگار کوئی
دوڑتا ہے مری نس نس مےں اداکار کوئی
مےں بھی ہوں جےسے کسی فلم کا کردار کوئی
راہ سے گذرے گا سچائی کا سردار کوئی
ہوگا مےرا بھی زمانے مےں خرےدار کوئی
خود بھی وہ ہوگا بڑے درجہ کا فنکار کوئی
جسکا دعویٰ ہے کہ مسلم ہے سمجھدار کوئی

خبردار! سےنوں کے سچ کا پتہ ہے
ہمےں آستےنوں کے سچ کا پتہ ہے
مکانوں سے مرعوب ہوتے نہےں ہےں
کہ جن کو مکےنوں کے سچ کا پتہ ہے
ہےں خائن بہت رہنماےانِ ملّت
ہمےں ان ©©”امےنوں“ کے سچ کا پتہ ہے
ہے کس کے لئے اتنا بننا سنورنا
ترے سب قرےنوں کے سچ کا پتہ ہے
جو سجدے مےں جاتے ہےں انکے دلوں کو
خود انکی جبےنوں کے سچ کا پتہ ہے
فنونِ لطےفہ کا عامل ہے مسلم
اسے ان دفےنوںکے سچ کا پتہ ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے دور مےں یہ بھی عذاب ہوتا ہے
زےادہ نےک بھی ہونا خراب ہوتا ہے
اڑا کے اوروں کو خود کو بھی مار لےتے ہےں
وہ سوچتے ہےں کہ اس مےں ثواب ہوتا ہے
اے کشت و خون کے داعی ذرا بتا تو سہی
کہ ان دھماکوں سے کےا انقلاب ہوتا ہے
پےاسے سگ کو بھی پانی پلائے تو جنت
ہمارے دےن مےں ےوں بھی حساب ہوتا ہے
خدا کا وعدہ ہے مسلم کہ حق کی راہوں مےں
کرے جو صبر وہی کامےاب ہوتا ہے

ےاد ہے سارا جہاں بھول گئے ہےں خود کو
سوچتے ہےں کہ کہاں بھول گئے ہےں خود کو
جےت لے گا ہمےں دشمن بڑی آسانی سے
ہو گےا سب پہ عےاںبھول گئے ہےں خود کو
اپنے اسلاف سے کٹ جانا تھا نقصانِ عظےم
سب سے بڑھ کر یہ زےاں بھول گئے ہےں خود کو
پوچھتا ہے کوئی جب نام و نشاں ہنس ہنس کر
کھل نہےں پاتی زباں بھول گئے ہےں خود کو
ےاد مسلم کو دلائے کوئی بےتی باتےں
آج کل تو یہ مےاں بھول گئے ہےں خود کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آسان اتنا شاہ کا انصاف ہو گےا
جو راستے مےں آےا وہی صاف ہو گےا
دولت سے داغِ جرم ہر اک صاف ہو گےا
لو آج وہ بھی شاملِ اشراف ہو گےا
الفت مےں اپنے خون کا درےا بہا دےا
اب سوچتے ہےں ہم سے یہ اسراف ہو گےا
باقی نہےں ہے کوئی کدورت، نہ کوئی رنج
صوفی بنا تو قلب مرا صاف ہوگےا
نورِ ازل سے دھل گئی آلودگی تمام
شےشے کی طرح دل مرا شفّاف ہو گےا
اے وائے مصلحت کہ فقط بت بنا رہا
کےا کےا نہ کشت و خوں مرے اطراف ہو گےا
مسلم کی راہ اس لئے مسدود ہو گئی
متروک اب طرےقہ¿ِ اسلاف ہو گےا

اس لئے جےت کر ہر اک مےداں بڑھ گئے رزم گاہ سے آگے
ہم نے اپنی نگاہ رکھی تھی دشمنوں کی نگاہ سے آگے
پہلے تھا ملک مےں بس اک ظالم سب جسے بادشاہ کہتے تھے
اب تو اپنے ہےں سےنکڑوں آقا ظلم مےں عالی جاہ سے آگے
دھند پر کےوں نگاہ ٹھہری ہے کام لےں وسعتِ نظر سے ذرا
کارواں ہے رواں دواں کوئی دےکھئے گردِ راہ سے آگے
کوئی تنگی نہ جان کا خطرہ اصل مےں عےش اسکو کہتے ہےں
زندگی اپنی کتنی اچھی ہے مثلِِ سائل نہ شاہ سے آگے
ہم خطاکار تھے مگر رب نے ہم کو اپنی پناہ مےں رکھا
ہر قدم پر ملی ہمےں مسلم اس کی رحمت گناہ سے آگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناگاہ جاگ اٹھا وہ یہ ہم پر عذاب تھا
ہم خواب بُن رہے تھے وہ جب محوِ خواب تھا
وہ آخری رفیق بھی مثلِ سراب تھا
اپنی ہر آرزو کا مقدر خراب تھا
محشر مےں ہم نے دےکھا عجب ہی حساب تھا
ناکام جو یہاں تھا وہاں کامےاب تھا
پردا اٹھا کے دےکھا تو آنکھوں مےں تھی حےا
ےعنی کہ اس حجاب کے اندر حجاب تھا
جو کچھ ہے اس زمےں پہ علیؑ کا رہےن ہے
انکا اسی لئے تو لقب بو تراب تھا
امّےدوار کتنے ہی ناکام ہو گئے
مشکل تھا امتحاں کہ وفا کا نصاب تھا
نازاں بہت تھا اپنی محبت کی جےت پر
مسلم خود اس نظر کا مگر انتخاب تھا

کارواں کدھر جائے شور اک اٹھا سا ہے
جسکو تھا پتہ سب کچھ وہ تولاپتہ سا ہے
پاس ہو کے بھی ہم سے وہ خفا خفا سا ہے
دورےاں ہےں مےلوں کی فاصلہ ذرا سا ہے
اسکے گھر چراغاں ہے بے خبر ہے وہ ہم سے
جسکی ےاد مےں اپنا دل بجھا بجھا سا ہے
رنگ آتے جاتے ہےں کتنے اسکے چہرے پر
حسن اسکا اب دےکھو جب کہ وہ خفا سا ہے
کےا خبر تھی شوق اسکو ہے لہو بہانے کا
یہ سمجھ کے جاں دی تھی مےرا بھائی پےاسا ہے
مسلکوں کی بارےکی ہم نہےں سمجھ پائے
راستے کے اندر بھی اےک راستہ سا ہے
وہ کبھی نہ آئے گاخوعب ہے پتہ ہمکو
وہ پلٹ کے آئے گا یہ تو بس دلاسہ ہے
وہ وہی تھا لےکن کےوں بارہا لگا مجھکو
وہ نہےں ہے وہ مسلم کوئی دوسرا سا ہے

آسان ہر اک ممکنہ مشکل نظر آئے
گر ڈوبتے انسان کو ساحل نظر آئے
ہمدرد کا کیوں بھیس بنائے ہوئے گھومے
قاتل ہے اگر کوئی تو قاتل نظر آئے
محبوب سے منسوب ہر اک چیز حسیں ہے
میں چاند سمجھتا ہوں اگر تل نظر آئے
قدرت کے خزانے کا ہے بے جوڑ نگینہ
دلبر کا کوئی کیسے مماثل نظر آئے
مسلم تمھیں بتلاو¿ کہ ٹھکرایئں بھلا کیوں
صورت جو کوئی پیار کے قابل نظر آئے

وہ نہ بدنام ہو کہےں مسلم، بس یہی فکر ہم پہ بھاری ہے
اس کی خاطر گرےز ہے اس سے، دل پہ یہ جبر اختےاری ہے
کرتے ہےں ہم پہ وہ کرم پہ کرم، سلسلہ فےض کا یہ جاری ہے
شکرئےے کو بھی منع کرتے ہےں، یہ ادا انکی اور پےاری ہے
یہ ہے پنچھی کھلی ہواو¿ں کا، اس پہ کس کی اجارہ داری ہے
آپ کا جسم غےر کا ہے مگر ، آپ کی ےاد تو ہماری ہے
آج سے جوگ لے لیا ہم نے، تم ہو دےوی یہ دل پجاری ہے
جو متاعِ سخن ہماری ہے، آج سے سب وہ بس تمھاری ہے
نشّے کافور سارے ہو جائےں، سارے مےخانے بند ہو جائےں
سر سے لےکن نہےں اترتی ہے، عشق کی بھی عجب خماری ہے
عزتِ نفس چاہنے والے، جان لےں یہ عمل ہے دنےا کا
حسنِ بےباک سے ہے بے باکی، پردہ داروں سے پردہ داری ہے

وہی عبرت کا تازیانہ ہوا
جس کو پاسِ وفا ذرا نہ ہوا
دلِ شفّاف بھی ضروری تھا!
آئینہ ساز آئینہ نہ ہوا
کچھ تو ہوتا مثال دینے کو
کےوں کوئی اور آپ سا نہ ہوا
ہم نے مانا تھی دوستی بے فےض
دشمنی سے بھی کچھ بھلانہ ہوا
اذنِ گستاخی آج دے دیجے
پھر یہ موسم ہوا ہوا نہ ہوا
اس نے کیسے سمجھ لےا مسلم
وہ جو کہنے کا حوصلہ نہ ہوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکیلے تھے ہم، ایسے حالات میں
بنے انجمن اپنی ہی ذات میں
کوئی ہم سے جیتا نہ جذبات میں
رہے شاہ ہی ہم مگر مات میں
نہیں مال و زر کی تمنا کوئی
محبت ملے ہم کو خیرات میں
کہاں رہے گئے تھے؟ بہت دیر کی
سہمتا رہا دل یہ خدشات میں
یہ مشرک، وہ کافر، ہے مسلم کدھر
کہاں پھنس گئے ہم خرافات ہیں

ہو یہ دنیا ےا وہ دنیا امکان بڑا ہوجاتا ہے
گردن جو ذرا سی خم ہو تو انسان بڑا ہوجاتا ہے
لذّات کی ضربِ کاری سے ہیجان بڑا ہوجاتا ہے
انسان کا قد گھٹ جاتا ہے شیطان بڑ ا ہوجاتا ہے ہے
جب حاضری دینے پہنچیں تو چلتے ہیں اسکے اشاروں پر
وزرا سے وزیرِ اعظم کا دربان بڑا ہوجاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر پہ گرتے آسماں کو روک لیتا
کاش وہ اپنی زباں کو روک لیتا
دل ہی مےں جوشِ جواں کو روک لیتا
بنتے بنتے داستاں کو روک لیتا
سونے گھر مےں کہکشاں کو روک لیتا
مےں اگر اس مہرباںکو روک لیتا
اس کو اپنے شک پہ تھا پختہ یقیں
کےسے مےں اس کے گماں کو روک لیتا

وہ مجھ کو سمجھنے مےں جو ناکام رہا ہے
خود مجھ پہ ہی اس جرم کا الزام رہا ہے
وہ تےز ہوا ہے کہ مےں گر جاتا کبھی کا
اندےکھا کوئی ہاتھ مجھے تھام رہا ہے
ہرصبح کا ہوتا ہے ترے ذکر سے آغاز
اور تذکرہ تےرا ہی ہر اک شام رہا ہے
آزادی کی ےاد آتی ہے چڑےا کو، قفس مےں
وےسے تو ہر اک بات کا آرام رہا ہے
ہاں جنگ کے مےدان مےں اترا تو ہے مسلم
مقصود مگر امن کا پےغام رہا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شک سے بھرے سوالوں، جوابوں میں کھو گئے
الفت کے چند پل بھی حسابوں میں کھو گئے
محشر میں ہم تھے سایہ¿ِ حبِّ رسول میں
منکر تھے جو یہاں ، وہ عذابوں میں کھو گئے
آبِ حیاتِ عشق کی چاہت میں یوں ہوا
صحرائے آرزو کے سرابوں میں کھو گئے
کل رات بھر رہے تھے ترے ساتھ خواب میں
سو کر اٹھے تو پھر ترے خوابوں میں کھو گئے
چہرے پہ چہرے،چہرے پہ چہرے لگا لئے
حتّیٰ کہ اصل چہرے نقابوں میں کھو گئے
زندوں کو جو سراہیں وہ اب فیس بُک پہ ہیں
مردہ پرست سارے کتابوں میں کھو گئے

پری کا اسکے اندر سے نکلنا
جہانِ خواب بستر سے نکلنا
دہکتی رےت پر پھر مےں نے دےکھا
سمندر مےری ٹھوکر سے نکلنا
جو ممکن ہو بجھادے پےاس مےری
بجا ہے آب گوہر سے نکلنا
نہ جانے کس جگہ مل جائے دہشت
دعائےں پڑھ کے سب گھر سے نکلنا
بھرے گا پےکرِ تصوےر مےںِ خوں
محبت کا وہ منظر سے نکلنا
جو ممکن ہو تو پھر دنےا ہے جنت
ندامت نوکِ خنجر سے نکلنا
عجب اشعار مسلم نے کہے ہےں
کہ جےسے آب پتھر سے نکلنا

کس قدر پانی ہے پہلے اس کا اندازہ کےا
بند پھر اپنی مدد کا اس نے دروازہ کےا
اپنے اندر ہم نے اسکو اس طرح زندہ رکھا
زخم جب بھرنے لگے تو ےاد کو تازہ کےا
کوئی سمجھوتا نہےں قدروں سے شہرت کے لئے
اس لئے ہم نے سدا بطلانِ آوازہ کےا
داد کےا دوں یہ شفق مرہونِ حسنِ ےار ہے
آسماں نے لے کے اُس رخسار سے غازہ کےا
کوئی تو مسلم سبق سکھلائے اس نقّاد کو
بےر بل نے جےسے اک ملّا کو دو پےازہ کےا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تب مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے مخمل ےاد کا
سر پہ جب سایہ فگن ہوتا ہے بادل ےاد کا
جان و دل مےں جب مہک اٹھتا ہے صندل ےاد کا
سو غموں کو دور کر دےتا ہے اک پل ےاد کا
وادی و¿ دشت و چمن مےں لےکے پھرتے ہےں ہمےں
رےلا دےوانی ہوا کا، زور پاگل ےاد کا
ہو گئے ناکام سب دل بستگی کے مشغلے
سلسلہ تھمتا نہےں اسکی مسلسل ےاد کا
اک عجب عالم ہے مسلم کےا کہےں، کس سے کہےں؟
دور تک بس ہم ہی ہم ہےں اور جنگل ےاد کا

اےک قطعہ اور چند اشعار
آج صندوق سے دےرےنہ زمانے نکلے
ڈائری کھولی تو ےادوں کے خزانے نکلے
اےسے ماضی کی پھواروں نے بھگوےا ہم کو
جےسے بچہ کوئی بارش مےں نہانے نکلے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی اشعار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگ افسردہ تھے ہم ان کو ہنسانے نکلے
آج پھر زخم زمانے کو دکھانے نکلے
وعدہ¿ِ وصل کچھ اس طرح نبھانے نکلے
اپنے گھر سے وہ سہیلے کے بہانے نکلے
لوگ پھرتے ہیں یہاں بھیس بدل کر مسلم
شکلِ درویش میں اب کون نہ جانے نکلے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انداز ہیں ہاں کہنے کے آخر تو سبھی نا
میں ہاں ہی سمجھتا ہوں جو کہتا ہے کبھی نا
اے زیست مری تواسی امےد پہ جےنا
اترے گا حقےقت مےں کبھی خواب کا زےنہ
سےراب ہو یہ روح توپر نور ہو سےنہ
ہو مہرباں ہم پر بھی محبت کی حسےنہ
ہر دم ہو خےال اسکا مجھے روزوشبےنہ
ہر ماہ ہو اس ماہ کی الفت کا مہینہ
مسلم ترے مدّاح ہےں نابےنا و بےنا
خوب آتا ہے اظہار کا تجھ کو بھی قرےنہ

جنوں زدہ سی بدن اپنا ڈھک رہی ہے وفا
بچھڑ کے آپ سے در در بھٹک رہی ہے وفا
لہو لہان، درےدہ لباس ہےں لےکن
ہمارے چہرے پہ اب بھی چمک رہی ہے وفا
خبر ہے خوب وہ انساں نہےں ہے پتھر ہے
مگر سر اپنا اسی پر پٹک رہی ہے وفا
یہ کاغذی نہےں، اصلی گلِ محبت ہے
کچل مسل کے بھی دےکھا مہک رہی ہے وفا
ترے خےال سے پائی ہے وہ توانائی
نہ رک رہی ہے کہےں اور نہ تھک رہی ہے وفا
لہو ہے گرم محبت کی لوَ سے اے مسلم
الاو¿ بن کے رگوں مےں دہک رہی ہے وفا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہو اگر عاجز تو پھر حاجت روا بنتے ہو کےوں
کام ہے یہ تو خدا کا تم خدا بنتے ہو کےوں
درسِ رحمت بھول کر کےوں بن گئے بےدادگر
سب کے حق مےں پےکرِ جوروجفا بنتے ہو کےوں
ہر قدم کج فہمےاں ہےں، ہر قدم گمراہےاں
حق شناس و حق نگر اور حق نما بنتے ہو کےوں
ہو اگر مقدور رکھّو ساتھ کوئی راہبر
راہ گم گشتہ عزےزو! رہمنا بنتے ہو کےوں
فرض مسلم پر قےامِ امن ہے یہ جان لو
ےوں کھلونا بے جہت جذبات کا بنتے ہو کےوں

رات بھر چنتے ہےں اکثر لعل و گوہر خواب کے
صبحدم روتے ہےں ہم ٹکڑے اٹھا کر خواب کے
خواب کی جانب چلے پےغام لے کر خواب کے
ےوں اڑے دل کی منڈےروں سے کبوتر خواب کے
جان و دل اپنے ہےں صدقے اس منور خواب کے
جاگتی آنکھوں مےں رہنے دو وہ منظر خواب کے
کون دےتا ورنہ آنکھوں کے چھلاووں پر دھےان
آپ کے آنے سے جاگے ہےں مقدر خواب کے
زندگی مےں اتنی تلخی سہہ نہ پاتے ہم کبھی
یہ تو اچھا ہے کہ سب تھے تےرونشتر خواب کے
آنکھ کھلتے ہی حقےقت کی ہوئے کافور سب
تشنگی کےسے بجھا پاتے سمندر خواب کے
زندگی مسلم کی پھر شرمندہ¿ِ فردوس ہو
کاش ہوجائے حقےت بھی برابر خواب کے

اس لئے چہرہ¿ِ حسےں ہے زرد
جم گئی خواب کے سفر کی گرد
عام انسان کی طرح جےنا
نہ ہوا ہم سے ہر چہ خواہم کرد
اور بھی حوصلہ دےا مجھ کو
مےرے بدخواہ تھے مرے ہمدرد
گرم بازاری¿ِ ہوس کے سبب
ان دنوں عشق کی ہوا ہے سرد
درد کےا ہے یہ کوئی کےا جانے
وہی جانے جو سہہ رہا ہے درد
سامنے وہ ہےں کےا کرے مسلم
ذہن و دل مےں چھڑی ہوئی ہے نبرد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مغربی بازارےت کی دےن یہ ہےجان ہے
حسنِ نسواں اب فقط تفرےح کا سامان ہے
مکر آرائش ہے اسکی،جھوٹ اسکی شان ہے
مت بہک جانا، یہ گورا مےڈےا شےطان ہے
خود تو گوےا قتل و غارت، ظلم سے انجان ہے
ہر برائی کے لئے اسلام پر بہتان ہے
اُس کی ہرزہ گوئےوں پر مہرِ استحسان ہے
ہم نے گر کچھ کہہ دےا تو ہر طرف طوفان ہے
حق پہ جےنا ، حق پہ مر مٹنا ہی اسکی شان ہے
سچ تو یہ ہے دہر مےں مسلم ہی بس انسان ہے

آج ان کے ہی خلاف ہے ڈٹ کر کھڑا ہوا
جن کی نوازشوں سے وہ لڑکا بڑا ہوا
عرضی لگاو¿ اور کرو دوڑ دھوپ بھی
اعزاز کےا ملے گا سڑک پر پڑا ہوا
معلوم ہے اسے کہ غلط راہ پر ہے وہ
لےکن زمانہ ضد پہ ہے اپنی اڑا ہوا
دےوار و در بھی کانپتے تھے اسکے رعب سے
کونے مےں گھر کے ہے جو وہ بوڑھا پڑا ہوا
کردار ۔ اور ساتھ مےں حق گوئی کی ادا!
سونا کھرا ۔ اور اس پہ ہے ہےرا جڑا ہوا
وہ دورِ امتحان کا ساتھی نہےں، نہ ہو
کےوں دشمنوں کی صف مےں ہے آخر کھڑا ہوا
اس کو تو بس سہارا ہے خےر الانام ﷺ کا
مسلم ہے آندھےوں مےں بھی تن کر کھڑا ہوا

اس سے اکثر بات دل کی کہتے کہتے رہ گئے
مدتّوں درد نہاں پھر سہتے سہتے کہہ گئے
کےا خبر پھر کون سے رُت مےں ابھر آئےں گے وہ
ذہن کے گوشے مےںجو بھی کرب دب کر رہ گئے
ہے ہماری ہی خطا ہم اس قدر حسّاس تھے
ےاد کے نشتر ہمارے دل مےں تہہ در تہہ گئے
ناتواںتھے ہم، ہماری ہار طے تھی سر بہ سر
یہ بھی کےا کم ہے کہ اس ظالم کو دے کر شہہ گئے
گھومنا ممکن نہ تھا پہےا مخالف سمت مےں
وقت کے سےلاب مےںمسلم بھی آخر بہہ گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راکھ جذبوں کی خلاو¿ں مےں بکھر جائے تو
دل پہ جو اترا تھا وہ دل سے اتر جائے تو
دور تک اپنے تعلق کی خبر جائے تو
ان نوشتوں پہ زمانے کی نظر جائے تو
لذّتِ دےد سے تقدےر سنور جائے تو
گردشِ وقت ذرا دےر ٹھہر جائے تو
مےری مانند ہی وہ لطفِ سفر پائے گا
کوئی اس دشت مےں بے خوف و خطر جائے تو
تےرا مسلم بڑی امےد لئے آےا ہے
اور اگر بزم سے با دےدہ¿ِ تر جائے تو

وہ کاٹتے نہےں تارےکےوں کے جالوں کو
ہمارے دور مےں کےا ہو گےا اجالوں کو
مرے جنوں سے وہ صدمہ ہے خوش جمالوں کو
کوئی مثال ہی ملتی نہےں مثالوں کو
ذراسنبھل کے دلِ سادہ لوح رہنا تو
وہ آج ڈھونڈھنے نکلا ہے تر نوالوں کو
کوئی مذاق نہ تھا راہِ راست پر چلنا
مےں جھےلتا رہا ہر قسم کے سوالوں کو
زمانہ سازوں کے کانوں پر برق بن کے گری
مری غزل پسند آئی ضمےر والوں کو
رسائی ذہن کی اونچائی پر جب آئے گی
یہ لوگ سمجھےں گے مسلم ترے خےالوں کو

جی چاہا کئی بار کہ مےں خود کو گنوا دوں
پھر سوچا کہ پہلے ترا پردہ تو اٹھا دوں
ابلےسی شجر راکھ سے پھر ہوگا نمودار
کےا ہوگا اگر سارے زمانے کو جلا دوں
اس دشت کے سناٹے نے توڑے وہ عزائم
دشمن بھی نظر آئے تو مےں اسکو صدا دوں
نقاد یہ کہتا کہ کر مےری غلامی
شاعر تجھے مےں اوجِ ثرےا پہ بٹھا دوں
مسلم مجھے لےکن مری عزلت ہے گوارا
گھر بےٹھ کے خاموشی سے مےں فن کو جِلا دوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مےری آنکھےں، خواب تمھارے
ہر پل دےکھےں، خواب تمہارے
سوئی صبحےں، خواب تمہارے
جاگی راتےں، خواب تمہارے
اکثر کر کے چھوڑ گئے ہےں
بھیگی پلکےں، خواب تمہارے
جاگی آنکھےں دےکھ رہی ہےں
دل ہی دل مےں خواب تمہارے
مسلم کی نظروں کے آگے
بس لہرائےں خواب تمہارے

(فےس بک پر اےک گرافکس سے متاثر ہو کر)
خبر بھی ہے کہ محبت گلاب ہوتی ہے
لہو کے رنگ سے الفت گلاب ہوتی ہے
ہزار اسکو چھپاو¿ مگر مہکتی ہے
دلوں کی وادی مےں چاہت گلاب ہوتی ہے
یہ سہہ نہ پائےں گے بادِ سموم نفرت کی
تعلقات کی فطرت گلاب ہوتی ہے
خےال بن کے مری خار زار ہستی مےں
تم آتے ہو تو طبےعت گلاب ہوتی ہے
یہ آرزو کوئی مسلم پہ ہی نہےں موقوف
ہر اےک شخص کی حسرت گلاب ہوتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہے بات صرف مرے مہرباں ضرورت کی
زمانہ بول رہا ہے زباں ضرورت کی
نکل ہی جائےں گی سب گرمےاں ضرورت کی
گھری ہےں آج بہت بدلےاں ضرورت کی
ثواب دےدے تو یہ تےرا فضل ہے مولا
عبادتےں ہےں یہ اﷲ مےاں ضرورت کی
خوشی نہےں ہے پہ چلنے کو ساتھ ہےں مجبور
بندھے ہےں ڈور سے ہم سب یہاں ضرورت کی
لبھا رہے ہےں محبت کا نام لے لے کر
سجا رہے ہےں مگر کہکشاں ضرورت کی

آدمی کو ےوں بھی دےکھا جائے ہے
عقل کو پےسے سے ناپا جائے ہے
ڈھےر سا آنکھوں مےں پانی لے چلو
اس کے گھر صحرا سے رستہ جائے ہے
ہے عجب اس کے خزانے کا مزاج
جس پہ برسے بس برستا جائے ہے
خود نہےں ہے اس کو منزل کا پتہ
جس کے پےچھے ساری دنےا جائے ہے
دن کو تھوڑا کم لگے ہے تےرا غم
رات کو یہ درد گہرا جائے ہے
جتنی پا لےتا ہے وہ اونچائےاں
اصل مےں اتنا ہی گرتا جائے ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ جارحانہ سے تےور، نہ باغےانہ مزاج
ہمےں تو راس ہے اپنا قلندرانہ مزاج
ہمےں تو رحم ہی اسلام نے سکھاےا ہے
کہاں سے آگےا ہم مےں یہ آمرانہ مزاج
جہاں سے اتنے کھلے دل سے مت ملا کےجے
کہ ہو نہ باعثِ رسوائی والہانہ مزاج
عظےم شاعر و انساں سلےم واحد سے
ملا ہے ورثہ مےں مجھکو سخنورانہ مزاج
فنا خدا کی محبت مےں ہو اگر مسلم
سبھی مزاجوں سے بہتر ہے عاشقانہ مزاج

سب گناہوں سے اگرچہ دور ہے
جسمِ راہب سےکس سے مجبور ہے
جنگ کرتا ہے وہ فطرت کے خلاف
اس کا چہرہ اس لئے بے نور ہے
کچھ مرے اظہار مےں ہوگی کمی
کےسے کہہ دوں مےں کہ وہ مغرور ہے
دےکھئے حسنِ سےاست حسن کا
مےں بھی خوش ہوں، غےر بھی مسرور ہے
واہ مسلم بحرِ معنیٰ تےرا شعر
صرف دو سطروں مےں سب مستور ہے

کےا انکو پڑھےں اب یہ حقائق سے پرے ہےں
اخبار تو سب رےپ کی خبروں سے بھرے ہےں
کےا انکو ڈراتا ہے، کبھی وہ بھی ڈرے ہےں
ہر خطرہ کو تےار ہےں جو لوگ کھرے ہےں
معصوموں کی جانوں سے نہےں ملتی ہے جنت
سمجھائےں انھےں کےسے وہ نادان دھرے ہےں
تم مارنے والوں نے شہےد انکو کےا ہے
جنت مےں وہ جائےں گے کہ جو لوگ مرے ہےں
اوروں کی جراحت کے نشاں بھی نہےں باقی
کچھ زخم جو اپنوں نے دئے ہےں وہ ہرے ہےں
مسلم ہمےں خدشہ ہے فقط اپنے ہی شر سے
اوروں سے نہےں اپنے ہی سائے سے ڈرے ہےں

کےا ہے گر بے نقاب رہتا ہے
اس نظر مےں حجاب رہتا ہے
کوئی خوشےوں کے پل نہےں گنتا
آنسوو¿ں کا حساب رہتا ہے
کھوےا کھوےا سا مت سمجھ مجھ کو
فکر مےں انقلاب رہتا ہے
جو اہانت کرے بزرگوں کی
اس کا خانہ خراب رہتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(فےس بک پر اےک گرافکس سے متاثر ہوکر)
دل دُکھاتا ہے کےا کوئی غم جی
چشم کےوں آپ کی ہے پُر نم جی
بھےڑ ہے آج دل مےں ےادوں کی
کےوں کہ اک ےاد کا ہے ماتم جی
بخش دےجے خطائےں عاصی کی
آپ کےوں اس قدر ہےںبرہم جی
کچھ دنوں کی بہار تھی مسلم
آگےا پھر خزاں کا موسم جی

مقدر کو وہ کوسے کس بلا کو ہم بلا بےٹھے
چلےں جب ہم تو مسلم سر پکڑ کر راستہ بےٹھے
اسی پل لوگ اپنے راز کی عصمت گنوا بےٹھے
جو سننے کے لئے نا اہل تھا اسکو بتا بےٹھے
کبھی انکے خدا سوئے کبھی انکے خدا جاگے
کبھی انکے خدا اٹھّے کبھی انکے خدا بےٹھے
©بس اک محفل یہی امےد کی کرنوں سے روشن ہے
تو بس ہم دل کو چمکانے تری محفل مےں آبےٹھے
کبھی ممکن نہےں لےکن دلی خواہش ہے یہ اسکی
کہ جب بھی وہ چلے قدموں مےں آکے راستہ بےٹھے
محبت امن اور انصاف سے جےنا ہی جےنا ہے
وہ دل کےا خوب دل ہو جس مےں مسلم کی صدا بےٹھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الفت مےں مبتلا تھا تو مہلت نہےں ملی
نفرت کے واسطے مجھے فرصت نہےں ملی
آخر حےات پائی جہنم کی آگ مےں
خود کُش نے لاکھ چاہا ۔ شہادت نہےں ملی
آئے وہ بعد میں تھے جو تخلیقِ اولیں
آدم کو پہلے آنے پہ سبقت نہیں ملی
زاہد عمل پہ ناز نہ کر یہ بھی سوچ لے
شیطان کو جزائے عبادت نہیں ملی

بہار لائے تھے یہ انکا احترام کرو
خزاں رسےدہ درختوں کو بھی سلام کرو
یہ گھر تمہارا ہے اس دل مےں تم قےام کرو
ےہےں پہ صبح گذارو ےہےں پہ شام کرو
ہمارے دےن نے ہم کو یہی سکھاےا ہے
مٹاو¿ بےر، محبت کا ذکر عام کرو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے جان اور سپاٹ سے چہرے ہوئے ہےں لوگ
تج کر ضمےر جب سے سنہرے ہوئے ہےں لوگ
دل کی صداو¿ں پر کوئی ردِّ عمل نہےں
ےوں لگ رہا ہے جےسے کہ بہرے ہوئے ہےں لوگ
وہ بارہا ہوئے ہےں زمانے مےں سر بلند
جب بھی معاشرے مےں اکہرئے ہوئے ہےں لوگ
لگتا ہے ہو نہ پائے گا اب کوئی راز فاش
دلچسپی مےری دےکھ کے گہرے ہوئے ہےں لوگ
مسلم تو منزلوں سے بھی آگے نکل گےا
کےوں اےک ہی مقام پہ ٹھہرے ہوئے ہےں لوگ

عمر کا دشمن شور مچاتا رہتا ہے
دل مےں بچپن شور مچاتا رہتا ہے
لاکھ کرے وہ کوشش جرم چھپانے کی
اس کا دامن شور مچاتا رہتا ہے
ہے تخلےق سے عاری ناقد جانے دو
خالی برتن شور مچاتا رہتا ہے
دےکھ کے ےاروں کو اکثر یہ ناداں دل
دشمن! دشمن! شور مچاتا رہتا ہے
پےچھے پلٹو غوری پر بھی غور کرو
دل کا بلبن شور مچاتا رہتا ہے
مسلم کےسے دےکھےں رونق باہر کی
گھر کا بندھن شور مچاتا رہتا ہے

ہم بہت خوش ہےں ہمےں پہچانتا کوئی نہےں
ہم کو ہے سب کا پتہ اپنا پتہ کوئی نہےں
اب نہ موسیٰ ہےں نہ ہے ضربِ عصا کوئی نہےں
اس سمندر مےں بھی لےکن راستہ کوئی نہےں
منحصر ہے وقت پر سب چوکتا کوئی نہےں
یہ غلط فہمی نہ پالو دےوتا کوئی نہےں
اسکو زندوں مےںکرےں شامل تو ہم کےسے کرےں
جس سے کوئی خوش نہےں ہے اور خفا کوئی نہےں
اب نہ چھےڑو راگ گذرے وقت کا مسلم مےاں
اب بزرگوں کی نصےحت مانتا کوئی نہں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسروں کے لےے دھڑکتا دل
دے اگر دل مجھے تو اےسا دل
لاکھ جلوے ہےں اور تنہا دل
تب ہی رہتا ہے کھوےا کھوےا دل
دےکھ کر اس کو اتنا مچلا دل
کےا کہےں کس طرح سنبھالا دل
ےار کی بزم مےں سنبھل کر جا
کر نہ بےٹھے کوئی تماشا دل
اب تو مسلم یہ بات مان ہی لے
ہے گراں جسم ہے اور سستا دل

طرحی پنج غزلہ
 —Žمصرعہ ”دےکھنے کو تری آنکھوں مےں بصارت دی ہے©©“
(۱)
وقت نے جب کسی ظالم کو حکومت دی ہے
مجھکو حالات نے لہجے مےں بغاوت دی ہے
جذبہ و¿ جوش صداقت نے یہ حّدت دی ہے
آنچ الفاظ مےں اظہار مےں شدت دی ہے
پےش قدمی کی توقع تھی بہت، دشمن کو
ہم نے پسپائی کے حربہ سے حزےمت دی ہے
کچھ تو کام آگےا آخر کو مرا پاگل پن
مجھ کو پتھر دئے لےکن تجھے شہرت دی ہے
وہ لٹاتا ہے بہت انس و وفا لوگوں پر
رب نے دولت دلِ مسلم کو بکثرت دی ہے
(۲)
بر محل شعروں مےں الفاظ کی صنعت دی ہے
مجھ کو پروازِ تخےّل نے یہ حرفت دی ہے
آپ اردو کے مخالف ہےں مگر سچ یہ ہے
آپ کے لہجے کو اردو نے حلاوت دی ہے
ملک کو اس نے ہی تہذےب سکھائی ہے نئی
جس پہ نازاںہےں سبھی اےسی ثقافت دی ہے
دشمنوں کو بھی بھگانے مےں مددگار ہوئی
جنگِ آزادی کے نعروں کو بھی طاقت دی ہے
ناز مسلم کو ہے اردو پہ کہ سب پہلے
خطہ¿ِ ہند کو اس نے ہی صحافت دی ہے

(۳)
شکر کر رب کا کہ دےدار کی جنت دی ہے
©”دےکھنے کو تری آنکھوں مےں بصارت دی ہے©©“
ےار اٹھ کر نہ چلا جائے کہےں پہلو سے
اس لئے بات کو کچھ اور طوالت دی ہے
شرم سے ہونٹ سلے ہےں یہ پتہ ہے ہمکو
ہم نے کب آپ کو اظہار کی زحمت دی ہے
جو نظر بھر کے اسے دےکھے گا جل جائے گا
اسکے چہرے نے تو سورج کا تمازت دی ہے
جب بہت بول چکا وہ تو یہ مسلم سے کہا
شکر ہے رب کا کہ کم گوئی کی عادت د ی ہے
(۴)
سوچئے کس نے یہ سےلاب کی آفت دی ہے
ن حوادث کو خود انسان نے دعوت دی ہے
حشر ہوگا یہی فطرت سے اگر کھےلو گے
اتّراکھنڈ مےں قدرت نے نصےحت دی ہے
اپنے اعمال سے تو اس کو جہنم نہ بنا
تجھ کو اﷲ نے کہسار کی جنت دی ہے

ڈالی ڈالی کو وہاں اس نے ثمر بار کےا
سبزہ و¿ گل کی بھی سوغات نہاےت دی ہے
کچھ زےادہ نہےں اتنا ہی کہے گا مسلم
اسکو زحمت نہ بناو¿ کہ جو رحمت دی ہے
(۵)
اس حسےں پل مےں تری ےاد کو دعوت دی ہے
جب بھی ہم کو کبھی حالات نے مہلت دی ہے
گوشہ¿ِ قلب مےں بس جانے کی دعوت دی ہے
آج اُن آنکھوں نے ہم کو یہ اجازت دی ہے
عمر بھر عشق نے مصروف رکھا ہے ہم کو
آزمانے کے لئے حسن کو فرصت دی ہے
بات جب نکلی ہے ظالم کی ثنا خوانی کی
ہم نے چپ رہ کے بھی دنےا کو نصےحت دی ہے
دیکھتا ہے وہ جدھر تو ہی نظر آتا ہے
چشمِ مسلم کو ےہ الفت نے کرامت دی ہے

طرحی سہ غزلہ برائے فےس بک محبت گروپ
عالمی آن لائن مشاعرہ : ۵۲ مئی ۳۱۰۲
(۱)
نہ کچھ مزاج مےں نرمی نہ ہے لچک کوئی
تو اسکے ساتھ چلے کےسے دور تک کوئی
تھی لاشعور مےں آہٹ کسی کے قدموں کی
پلٹ کے دےکھا، نہ تھا دور دور تک کوئی
وہ صرف ےاد تھی لےکن شدےد تھی اتنی
کہ جےسے آ گےا پہلو مےں ےک بےک کوئی
بس اےک پل مےں تعلق تو ترک کر بےٹھے
تمام عمر ستاتی رہی کسک کوئی
شجر تو کاٹ دےا یہ مگر نہےں سوچا
سنائی دے گی نہ چڑےوں کی اب چہک کوئی
کسی زمانے مےں اسکو خلوص کہتے تھے
یہ شعلہ بجھ گےا اس مےں نہےں لپک کوئی
بہشت ملتی ہے دہشت سے اور تشدّد سے
نکال ڈالے دماغوں سے یہ سنک کوئی
ہے حق کا معرکہ، کوئی بلاو¿ مسلم کو
کہ صاف گوئی سے اس کو نہےں جھجھک کوئی
(۲)
جو چاند تاروں مےں ہے یہ بھی ہے دمک کوئی
دکھائے آپ سا چہرا ہمےں فلک کوئی

یہ چوڑےاں یہ دوپٹہ ےہ عارضِ گلگوں
چرا لے رنگ نہ انکے کہےں دھنک کوئی
نہ کوئی شور نہ آہٹ، کسی کے جانے سے
یہ دل کا کوچہ ہے سنسان سی سڑک کوئی
صدائےں کےسی اٹھی ہےں یہ اسکی پاےل سے
بتا رہی ہے ہمےں راز یہ چھنک کوئی
بھلا رہے تھے کہ پھر ذکر اسکا چھےڑ دےا
ہمارے زخموںپہ ملنے لگا نمک کوئی
(۳)
تمھارے آنے کی کےا مل گئی بھنک کوئی
”ابھر رہی ہے چراغوںمےں پھر چمک کوئی“
پرانے دور کی ہم کو دکھا جھلک کوئی
یہ کےا نوا ہے کہ جس مےں نہےں لپک کوئی
بس اےک شورنئے دور کی ہے موسےقی
کہ اب صداو¿ں مےں باقی نہےں کھنک کوئی
پھر اس کے بعد ان آنکھوں مےں کوئی بھی نہ جچا
کچھ اس ادا سے دکھا کر گےا جھلک کوئی
ہماری بزم مےں وہ نور بن کے کےا آئے
کھلی ہی رہ گئی، جھپکی نہےں پلک کوئی
کسی کو دوست بنانے کی ہو اگر خواہش
تلاش اس مےں کرو قدرِ مشترک کوئی
سبھی یہ کہتے ہےں مسلم ہے ان کا دےوانہ
یہ بات سچ ہے تو اس مےں نہےں ہتک کوئی

دو غزلہ کے دو رنگ
(۱) محبوب کے نام
یہ جسم کرتا ہے اکثر بہت سوال تر۱
رگوں مےں دوڑنے لگتا ہے جب خےال ترا
قدم بچا کے رکھوں مےں اگر تو کےسے رکھوں
ہر اےک سمت تو پھےلا ہوا ہے جال ترا
قرےب سے جو بچا کر نظر نکلتے ہےں
ذرا سنبھل، یہی پوچھےں گے حال چال ترا
چلا سفر پہ جو تو ان کی راہ سے ہٹ کر
تو آج دےکھ لے کےا ہوگےا ہے حال ترا
(۲)
دشمن کے نام
عروج ہونے کو بے شک ہے بے مثال ترا
وہ دن بھی سوچ کہ جب آئے گا زوال ترا
دہک اٹھے گا کسی روز خود ترا ہی بدن
تباہ تجھ کو کرے گا یہ اشتعال ترا
ابھی تو سےر ستاروں کی کر رہا ہے تو
زمانہ دےکھے گا اک دن مگر زوال ترا
الٹ دے مسلمِ خستہ کے دشمنوں کے نگر
جمال والے دکھا دے ذرا جلال ترا

محبت مےں انا کےا، نام کےا ہے
انا ہے تو وفا کا کام کےا ہے
سزاو¿ں پر سزائےں دے رہا ہے
بتائے تو سہی الزام کےا ہے
بچھڑ کر اس سے پھر ہم نے جانا
سکوں کےا چےز ہے، آرام کےا ہے
اگردےکھو، شکستِ دل کو دےکھو
نہ یہ دےکھو شکستِ جام کےا ہے
ؓکسی کی ےاد دفنانے چلے ہو
جہانِ دل مےں یہ کہرام کےا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملے گا نہ کچھ تم کو ہرجائی بن کر
رہو اےک ہی کے تمنّائی بن کر
اس عادت کی باعث تماشا بنوگے
تو دےکھےں گے ہم بھی تماشائی بن کر
سنبھل کر چلو راہِ الفت مےں مسلم
محبت نہ رہ جائے رسوائی بن کر

شاخِ امکان پر گل کھلا ہے
کوئی ہنس کر مجھے دےکھتا ہے
دورِ حاضر کا یہ ماجرا ہے
نطقِ شےطاں پہ نامِ خدا ہے
منتخب خود اندھےرا کےا ہے
اور پھر روشنی سے گلہ ہے
سانپ کا اب تو بچنا ہے مشکل
کوئی انساں اسے ڈس گےا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ رکی ہےں نہ تھکی ہےں آنکھےں
خواب کو ڈھونڈ رہی ہےں آنکھےں
آخرش سوکھ گئی ہےں آنکھےں
ہجر مےں اتنی بہی ہےں آنکھےں
کچھ نہےں پاےا بھٹکنے کے سوا
جب بھی اس در سے ہٹی ہےں آنکھےں
لوگ ششدر ہےں چمک سے ان کی
اس کے جلووں مےں پلی ہےں آنکھےں
تم بھی آنکھوں سے کہو کچھ مسلم
تم سے کچھ پوچھ رہی ہےں آنکھےں

نہ تھا وہ جسکے سب خوگر بہت تھے
وگرنہ خوشنما منظر بہت تھے
مروّت، حق پرستی، صاف گوئی
مرے دشمن مرے اندر بہت تھے
بہا بستی مےں پھر اس بات پر خوں
مدد تھوڑی سی تھی اور گھر بہت تھے
بہت تھا مےرے لب پر نام تےرا
جہاں کے ہاتھ مےں پتھر بہت تھے
وہی جےتا کہ جسکے ساتھ رب تھا
تھا مسلم اےک اور آزر بہت تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل مےں بالکل نئی زمےن
بےمارِ ہوس ہے ترا ارمان زدہ دل
اےمان کو کےا پائے گا شےطان زدہ دل
ابرو سے جگر زخمی تو مژگان زدہ دل
دےکھا جو اسے، ہو گےا طوفان زدہ دل
چھلنی ہے فرےبوں سے، رفےقوں کی دغا سے
مےں لے کے کہاں جاو¿ں یہ انسان زدہ دل
کےوں پےاس بجھاتا ہے تو اپنوں کے لہو سے؟
کہتا ہے مسلماں سے مسلمان زدہ ول
دنےا کی محبت بھی عجب روگ ہے مسلم
جس دل کو بھی اب دےکھو، ہے سرطان زدہ دل

بے اختیار بولے، دیوانہ وار بولے
ایسے بھی یار بولے، نظروں سے پیار بولے
جب پاس وہ نہ ہو تو، کٹتا ہے وقت ایسے
کچھ یاد گنگائے، کچھ انتظار بولے
جب گل وہ مسکرائے، غم پاس ہی نہ آئے
دے کر خزاں کو جھڑکی، دل میں بہار بولے
ہر چیز ہی ہے الٹی اس دورِ بوالعجب میں
صحرا میں پھول چیخے، گلشن میں خار بولے
چلتی ہے عقل مسلم ہر گام لڑکھڑا کر
اس نے وہ ہوش اڑائے،ہر دم خمار بولے
قطہ برائے بہن ریشما پرویز ، نےو ےارک
اس کا خلوص مہکے، اس کا دلار بولے
ہر جملہ اس بہن کا جیسے بہار بولے
شیریں رقم بھی ہے وہ ، شیریں دہن بھی ہے وہ
جی چاہتا ہے یونہی وہ بار بار بولے

اسے بےدار و خفتہ سوچتا ہوں
یہی بس لمحہ لمحہ سوچتا ہوں
محبت ہوگئی ہے مجھکو جب سے
تو سب کچھ مےٹھا مےٹھا سوچتا ہوں
سوا تےرے اگر کچھ بھی نہ دےکھوں
سمجھ لے تو کہ مےں کےا سوچتا ہوں
محبت سے مجھے سےراب کردے
مےں پےاسا تجھ کو درےا سوچتا ہوں
خود اپنی ذات کو گم کرکے مسلم
کسی کا مےں سراپا سوچتا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شور کرتی ہوئی ہر سمت ہواہے، میں ہوں
وہ جو اس دشت میں اک آبلہ پا ہے، میں ہوں
مجھ کو چٹانوں کی باعث یہ پتہ ہے، میں ہوں
لوٹ کر آتی ہوئی میری صدا ہے، میں ہوں
صاف گوئی کے سبب ہو گےا خود میں محصور
ایسی تنہائی کہ بس میرا خدا ہے، میں ہوں
میرے بدخواہوں کی ہر چال ہوئی ہے ناکام
خیر خواہوں کی مرے ساتھ دعا ہے، میں ہوں
وقت کے سانچے میں ڈھلتا ہی رہا ہوں مسلم
ہر قدم اک نئی جینے کی ادا ہے، میں ہوں

عشق کی حرمت ، وفا کی آبرو اشعار ہیں
ہم ہیںلب بستہ، ہماری گفتگو اشعار ہیں
جو رقیبوںکے لئے سب فالتو اشعار ہیں
ےار کی محفل میںسارے سرخرو اشعار ہیں
جابہ جا ،قریہ بہ قریہ ، کو بہ کو اشعار ہیں
الغرض اس دلربا کے چار سو اشعار ہیں
رازِ سر بستہ کبھی تو فاش ہی کر دیں گے یہ
فکرِسرگرداں کی پیہم جستجو اشعار ہیں
صاف اور شفّاف پانی کی طرح مسلم سلیم
میری فطرت کے مطابق ہوبہ ہو اشعار ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو کرتا ہے دن اور دن کو کرتا رات ہے
آج انساں سے پرےشاں گردشِ حالات ہے
جان لی جس نے کسی کی اس کو کو قاتل کہہ دےا
لیکن اس کو کےا کہیں جو قاتلِ جذبات ہے
لاکھ وہ پتّھر سہی اک دن پگھل ہی جائے گا
گرمی¿ِ جذبات آخر گرمیِ¿ جذبات ہے
کیا مجال اس کی کہ خود کو شاعِر اعظم کہے
خوب ہے ہم کو پتہ مسلم کی کیا اوقات ہے

دوستوں کو پکارو کہےں سے
وہ نکل آتے ہےں آستےں سے
آسماں مل رہا ہے زمےں سے
راہ مل جائے شاےد ےہےں سے
آگ بونے کا انجام ہے یہ
نفرتےں اگ رہی ہےں زمےں سے
اے رےا کار رکھ رب کو دل مےں
یہ صدا آ رہی ہے جبےں سے
جن سے ہم کر رہے ہےں محبت
بے وفائی کرےں گے ہمےں سے
مجھ مےں اچھا ہے جو وہ بھی دےکھو
بس کہوں گا یہی نکتہ چےں سے
فخر ہے فقر پر مجھ کو مسلم
کام چلتا ہے نانِ جوےں سے

کچھ تمھاری انا کچھ ہماری انا
پڑ گئی سارے رشتوں پہ بھاری انا
عاقبت کھوکے اس نے سنواری انا
آج انساں کو ہے اتنی پیاری انا
فیصلہ کیجےے کون ہے حکمراں
شاہ پر کرتی ہے شہسواری انا
خود گھمنڈی کو بھی کاٹ دیتی ہے یہ
ہے یہ تلوار بے شک دو دھاری انا
پاس مسلم کے ہرگز پھٹکنا نہیں
تو تو ہوتی ہے اک وجہِ خواری انا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جام سے تیرا نام ےاد آےا
شام سے تیرا نام ےاد آےا
چھت پہ کافی دنوں کے بعد چڑھا
بام سے تیرا نام ےاد آےا
جب بھی لوگوں کا کچھ ہوا مطلب
کام سے تیرا نام ےاد آےا
نام چاہے کسی کا ہو مسلم
نام سے تیرا نام ےاد آےا

دوستو بے کار کوشش مت کرو
سامنے آ جاو¿ سازش مت کرو
مدعی ہیں ہم، نہیں درےوزہ گر
حق ہمارا دو، نوازش مت کرو
کہہ رہا ہوں ضبط سے بھی کام لو
یہ نہیں کہتا کہ خواہش مت کرو
جو جہاں پر ہے ٹھہر جائے وہیں
جلوہ گر ہے حسن جنبش مت کرو
کل کہا مسلم سے اک مداح نے
خود نمایاں ہو، نمائش مت کرو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیں چٹانوں سے بھی بڑھ کر دیواریں
کیسے ٹوٹیں گی یہ تہتر دیواریں
چھت کی چھاو¿ں کسی کو کیسے مل پائے
خود کو سمجھیں جب پورا گھر دیواریں
یکجہتی کا ذکر اگر آجائے تو
چمکانے لگتی ہیں خنجر دیواریں
سب راہیں مسدود سی اب تو لگتی ہیں
ہوگئیں جیسے اپنا مقدر دیواریں
مسلم کاش وہ دن بھی آئے جب ہم سب
ڈھادیں مل کرساری خودسر دیواریں

برسے جو سبھی پر اسی ساون کی طرح سوچ
خاروں سے بھی نبھ جائے گی، گلشن کی طرح سوچ
تاریک سے کمرے کی فضا ذہن میں مت رکھ
گر وسعتِ قلبی ہو تو آنگن کی طرح سوچ
اپنی نہیں، اسکی بھی سمجھ حکمتِ عملی
ہے فتح جو مقصود تو دشمن کی طرح سوچ
سچ کہنے کی ہمت ہے تو کےا خوف ِ شکستن
تو سب کو دکھا آئینہ، درپن کی طرح سوچ
مسلم کو بھی جینے دے مرے دیش کے انساں
مت رام کی دھرتی پہ تو راون کی طرح سوچ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کےا ہوگئے وہ بھی مری سانسوں کے سوالی
یہ پوچھ رہے ہیں مری آنکھوں کے سوالی
اب چاہتے ہیں لوٹنا کُل میرا اثاثہ
ارباب ِ حقیقت، مرے خوابوں کے سوالی
عقبیٰ کے طلبگاروں کا گھر باغِ عدن ہے
دنیا کے طلبگار سرابوں کے سوالی
دنیا سے سبق سیکھ کے لکھ ڈالی کتابیں
ناکام رہے سارے نصابوں کے سوالی
سب نیٹ کی دنیا میں مگن ہوگئے مسلم
گنتی کے ہی باقی ہیں کتابوں کے سوالی

نظر میں اپنی کبھی یہ خوابِ عجیب جاگے
ہم اس کے گھر سوئیں اور باہر رقیب جاگے
سحرہوئی تو امیر جاگے غریب جاگے
مگر کہاں ہر کسی کے سوئے نصیب جاگے
ہے جاگنا تب کہ جو ہے دل کے قرےب جاگے
میں اٹھ گیا توضمیر بھی عنقریب جاگے
علاجِ ملت ہو کیسے ممکن عجب ہے مسلم
مریض سویا پڑا ہوا ہے طبیب جاگے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج چاند ستاروں پر اور سیاروں پر لکھتا ہوں
لیکن کب میں اپنی قوم کے غداروں پر لکھتا ہوں
کاش عطا ہو جائے مجھے بھی شاہ ظفر کی سی شہرت
قیدی ہوں میں جیل میں بیٹھا دیواروں پر لکھتا ہوں
لحنِ داو¿دی تو نہیں ہے لیکن شاید ہو مقبول
نام کسی کا تان اور لے سے کہساروں پر لکھتا ہوں
مسلمسب مجھ کو اس دم دیوانہ کہنے لگتے ہیں
تیرے نام کاجب بوسہ میں انگاروں پر لکھتا ہوں

تبصرہ مجھ سے نہ کرواو¿ کہ سچ کہتا ہوں میں
ہے یہی بہتر چلے جاو¿ کہ سچ کہتا ہوں میں
سیخ پا کیوں ہو گئے چھوٹی سی سچی بات پر
زور سے اتنا نہ چلّاو¿ کہ سچ کہتا ہوں میں
بات ہو جب ہو حسن سے تو جھوٹ باتیں ہیں روا
سوچ کر تم یہ نہ گھبراو¿ کہ سچ کہتا ہوں میں
کیوں یقیں کرتا نہیں ہے کوئی میری بات پر
تم ہی مسلم سب کو سمجھاو¿کہ سچ کہتا ہوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرق کچھ میرے نہ ہونے سے پڑا ہے یا نہیں
اس گلی میں پھر کوئی محشر اٹھا ہے یا نہیں
اس کو بھی نشتر محبت کا لگا ہے یا نہیں
ّآج تک بھی موم وہ پتھر ہوا ہے یا نہیں
اب کفِ افسوس مَلتا دلربا ہے یا نہیں
منقطع ظلم و ستم کا سلسہ ہے یا نہیں
مل نہیں سکتا کوئی مسلم سا مخلص دہرمیں
دل میں یہ احساس اس کو ہو گیا ہے یا نہیں

چڑھتا ہوا وفاو¿ں کا بازار دیکھنا
پژمردہ آرزوئے خریدار دیکھنا
ہوگا ضرور پست یہ مینار دیکھنا
اک روز قصرِ ظلم کو مسمار دیکھنا
قطعہ
فرقوں میں جب بٹے ہو تو ہر بار دیکھنا
خود سے ہی خود کو بر سرِ پیکار دیکھنا
اس اک خطا پہ شیخ سے جنت پھسل گئی
اپنے سوا سبھی کو خطاکار دیکھنا
سو بار قتل کرکے گیا ہے قتیل کو
ظالم کا بار بار وہ تلوار دیکھنا
اپنی جمی ہے منزلِ مقصود پر نظر
جب چل پڑے سفر پہ تو کےا خار دیکھنا
جاں کاہ واپسی کی گواہی قدم قدم
میرا پلٹ پلٹ کے رہِ ےار دیکھنا
کل کو خدا نخواستہ مسلم کو کچھ ہوا
دیوانہ پن میں بھی اسے ہشیار دیکھنا

بہت جن سے ملتے تھے بیتاب ہو کر
وہ اب رہ گئے ہیں بس اک خواب کر
سیاست ہوئی پست گرداب ہوکر
اٹھے رہمنا اتنے کذّاب ہوکر
بہانہ ملاکےا کہ سب بھول بیٹھے
ذرا ہم نے دیکھا جو کمیاب ہو کر
ہے مشکل بہت باز آبادکاری
کوئی دل سے گذرا ہے سیلاب ہوکر

…………….
مقّدرات پہ تحریرِ ماہ و سال بھی دیکھ
عروج دیکھ چکا ہے تو اب زوال بھی دیکھ
ترے جواب پہ بھاری مرا سوال بھی دیکھ
گھُٹا گھٹا مری سانسوں میں اشتعال بھی دیکھ
بچھائے بیٹھی ہے دنیا زرا وہ جال بھی دیکھ
بجا ہے زورِمحبت مگر مآل بھی دیکھ
پڑے گی کند یہ تلوار تیری نفرت کی
محبتوں سے بنی ہے ہماری ڈھال بھی دیکھ
کبھی چمکتے تھے سورج کی مثل گردوں پر
وہ زرہ ہائے زمیں بوسِ خال خال بھی دیکھ
ملانے نکلا ہے دنیا کے سُر سے سُر مسلم
تو ارد گرد ہراک تان اور تال بھی دیکھ

بہت ہی شوق سے کرتے ہیں نوش جامِ ردیف
ہمارا شعر نہیں ہے مگر غلامِ ردیف
بہت ضخیم ہے اپنا ذخیرہ¿ِ الفاظ
تبھی تو تھام کے رکھتے ہیں ہم زمامِ ردیف
یہ بِچھ سے جاتے ہیں خود ہی خیال کی رہ میں
نہ فکرِ قافیہ ہم کو نہ اہتمامِ ردیف
ہو کیوں نہ ناز سخن پراک ایسے شاعر کو
مطیعِ بحر ہو جو اور ہو شادکامِ ردیف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے اہتمام سب تکلفات برطرف
خدا کرے گا ایک روز کائنات برطرف
ضرور ہو گی مل کے گر بڑھاو¿ ہات برطرف
تم ہو دن ،اٹھو، کرو سیاہ رات برطرف
ثواب بھی ہمیشگی، عذاب بھی ہمیشگی
کوئی نہیںمرے گا ہوگی جب ممات برطرف
ظالموں کے خیمے سج رہے ہیں جشنِ فتح میں
خدائے ذولجلال کردے میری مات برطرف
مسلم آج ہوتے ہوتے دور یہ بھی آگیا
ساتھ رہ رہے ہیں جوڑے اور برات برطرف

منجمد وقت کی رفتار کریں
آو¿ لمحوں کو گرفتار کریں
شغلِ نفرت تو بہت آساں ہے
پیار کا کارِ گرانبار کریں
ہر طرف رنگِ لہو چمکے گا
اپنی آنکھوں کو نہ خونبار کریں
پھر سے چمکیں گے برنگِ ماضی
اپنے کردار پہ پھر دھار کریں
کھل کے لڑتے ہیں بہادر مسلم
سازشیں کیوں پسِ دیوار کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم کو بھی چلنے کی چاہ تھی
دشت میں راہ ہی راہ تھی
اک نئی شان ہر گاہ تھی
مہر تھی وہ کبھی ماہ تھی
خود ہی منزل پہ پہنچایا اس نے
جستجو جس کی ہمراہ تھی
ہو گیا قتل چالوں سے خود ہی
منکشف مرضی¿ِ شاہ تھی
جس کو منزل سمجھتا تھا مسلم
وہ محض اک گذرگاہ تھی

مضطرب ہوکے پوچھا پتہ شہر میں
ہے کدھر امن کا راستہ شہر میں
کھائیں اے سی کی بے شک ہوا شہر میں
کےا ملے گا صبا کا مزہ شہر میں
کالی سڑکو ں کی ندیاں یہاں ہیں رواں
دشت ہے اک عمارات کا شہر میں
ُاب پڑوسی پڑوسی سے واقف نہیں
چل پڑی ہے کچھ ایسی ہوا شہر میں
ہو گئے لیس وہ جھوٹ سے مکر سے
اب تو بن جائے گا دبدبہ شہر میں
سب کی الفت کا محور بس اک آپ ہیں
کیوں نہیں آپ سا دوسرا شہر میں
دوربینوں سے ڈھونڈا گےا ہر طرف
تب کہیں جاکے مسلم ملا شہر میں

چہرے ہمیں جو دور سے پر نور سے لگے
دیکھا قریب سے تو بہت دور سے لگے
کچھ ایسے پردہ پوشی¿ِ ح±زن و ملال کی
محفل میں سارے لوگوں کو مسرور سے لگے
میرے بس اک سوال نے کیا کر دیا ا±نہیں
با اختیار لوگ بھی معذور سے لگے
دیرینہ دوستی پہ ہوا جب وہ طعنہ زن
ہلکے سے کچھ کھرونچے بھی ناسور سے لگے
مسلم میاں کو پاس رفاقت تھا اِس قدر
اسکی عطائے شر پہ بھی مشکور سے لگے
( مطلع کا مصرعہ اول خواب میں ہوا تھا . دوسرا
مصرعہ لگا رہا تھا کہ آنکھ کھل گئی )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلمن کے پار دیکھا جو شہزادہ¿ِ انا
اس دن کھلے گا اس کا بھی دروازہ¿ِ انا
لاکھوں پڑے ہیں دہر میںدرماندہ¿ِ انا
چلنا سنبھل سنبھل کے بہ اندازہ¿ِ انا
ٹکرا نہ جاو¿ اور کسی کی انا سے تم
دیکھو بہت خراب ہے یہ جادہ¿ِ انا
انجام خود سروں کا ہماری نظر میں ہے
اک دن بکھر ہی جائے گا شیرازہ¿ِ انا

دیکھیں وہ اور کرتا ہے کےا حوصلے کے ساتھ
تا عمر چھیڑ چھاڑ رہے راستے کے ساتھ
دشمن سمجھ رہا ہے کہ ہم زیر ہوگئے
دیں گے شکست اس کو نئے ولولے کے ساتھ
ہوگا پرانا یہ جو نےا لگ رہا ہے آج
پھر لو پرانے چھوڑ کے کچھ دن نئے کے ساتھ
دیکھیں جو سازشیں وہاں، اوروں کی غیبتیں
مسجد کوچھوڑ ہو لئے ہم میکدے کے ساتھ
میدان ہو سخن کا ، صحافت کا ہو جہاں
مسلم رہا جہاں بھی، رہا دبدبے کے ساتھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شور کرتا ہوا ہر فکر کا دریا آیا
ہم کو جب خود میں اترنے کا سلیقہ آیا
لوٹنے کا نہ کبھی دل میں ارادہ آیا
راہ میں جتنے نشاں تھے وہ جلاتا آےا
جب خیالوں میں اچانک ترا چہرہ آیا
ہر گماں خیز تصور کو پسینہ آیا
خود کو سوچا تو نظر ہم کو کچھ ایسا آیا
مسکراتا ہوا معصوم سا بچہ آیا
مل نہ پائی ہمیں مسلم کبھی لہروں سے نجات
ابھی ابھرے ہی تھے موجوں سے کہ صحرا آیا

فاتح ہو ہر خوشی کا ہر اک غم کو جیت لے
گر تجھ میں یہ صفت ہے توعالم کو جیت لے
لا اعتبار بخت کے ہر خم کو جیت لے
دل گر بدلتے رنگ کے موسم کو جیت لے
کیا ذکر دوستوں کا اک عالم کو جیت لے
شیریںدہن تو دشمنِ برہم کو جیت لے
میدان ہم نے چھوڑ رکھا ہے کھلا ہوا
ہم خود یہ چاہتے ہیں کوئی ہم کو جیت لے
رہتا ہے اس کا گھاو¿ تروتازہ ہر گھڑی
مسلم ہے یہ وہ زخم جو مرہم کو جیت لے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سوچ کرہی اشک ہر اک پی رہا ہوں میں
وہ خوش رہیں کہ جن کے لئے جی رہا ہوں میں
کچھ سوچ کر حدوں سے نکلتا نہیں کبھی
یعنی خود اپنے آپ کا قیدی رہا ہوں میں
باطل سے کچھ بھی حال ہو ممکن نہیں نباہ
ہر چند ٹوٹ جاو¿ں وہ ضدّی رہا ہوں میں
اظہار عشقِ ےارِ مسلسل تو دیکھنا
سّری کبھی رہا کبھی جہری رہا ہوں میں
اے شاعرو! ادیبو! یہ کترانا کس لئے
ےارو تمہارے شہر کا شہری رہا ہوں میں
خاکسترِ بدن سے یہ ثابت نہیں ہے کیا؟
مسلم کسی زمانے میں بجلی رہا ہوں میں

مستقل تقدیر ہی اپنی بنالی شاعری
خوانِ قسمت جب سجا ہم نے اٹھالی شاعری
کچھ کے دل اور کچھ کی جیبوں دوالی شاعری
شوقیہ ہے کچھ یہاں اور کچھ ہے مالی شاعری
چند کش سگرٹ کے اک چائے کی پیالی شاعری
ایسے ہوتی ہے ہماری بھولی بھالی شاعری
دردِ دل دردِ جگر کی ہے سوالی شاعری
تب کہیں تخلیق ہوتی ہے نرالی شاعری
کچھ بھی تم کرنا، نہ کرنا خالی خالی شاعری
وزن ہو کچھ ،ورنہ بن جائے گی گالی شاعری
درد کو بھی کر لیا مثبت طریقے سے کشید
کرب کی تاریک راتوں میں اجالی شاعری
خوشہ چیں ناکام نقّالی کی کوشش مت کریں
مسلمِ بے مثل کرتا ہے مثالی شاعری

ہمیں ہو رنج تو چہرے پہ کرب لاو¿گے
مگر پتہ ہے کہ تم دل میں مسکراو¿گے
نکل کے سامنے خود اپنے آ ہی جاو¿گے
تلاشِ ذات میں خود کوکہاں چھپاو¿گے
ضرر جو دو گے ہمیں کچھ بھلا ہی پاو¿گے
چراغ روشنی دے گا اگر جلاو¿گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر ادا بھولی ہر بات معصوم ہے
اس حسیں کی ہر اک گھات معصوم ہے
کھوٹ ہے دیکھنے والے کی آنکھ میں
ورنہ اپنی ملاقات معصوم ہے
ابنِ آدم کے کھاتے میں ہیں جرم سب
رات کو کچھ نہ کہہ رات معصوم ہے
جس نے اکسایا تھا، اصل ہے سرغنہ
وہ جو ملزم ہے ، وہ ہاتھ معصوم ہے
سارے مجرم ہیں آزاد اس دور میں
اور شکارِ حوالات معصوم ہے

پتھر کی کیا ہے شمع، پگھلتی نہیں ہے رات
ہو ےاد کا عروج تو ڈھلتی نہیں ہے رات
شب بھر تپاتی رہتی ہے بس ایک آنچ پر
مانا کہ دن کی مثل ابلتی نہیں ہے رات
شاید تمھارے آنے سے قابو میں آئے یہ
ہم سے کسی بھی طرح سنبھلتی نہیں ہے رات
مسلم نظامِ قدروقضا ہے بہت اٹل
دن لاکھ سر کو پٹکے پہ ٹلتی نہیں ہے رات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کو جب بھی اتاریں حضور شیشے میں
تو خود بھی جھانک کے دیکھیں ضرور شیشے میں
رفیق چاہئے اک جھوٹ بولنے والا
دکھائے جو مرے چہرے پہ نور شیشے میں
کسی کے عکس کے خاطر وجود ہے اسکا
تو پھر ہے کس لئے اتنا غرور شیشے میں
پتہ جو اس کو ہے ، ان پتھروںکو کیا معلوم
نزاکتوں کے سبب ہے شعور شیشے میں
چمک ہو لاکھ مگراصل کی ہے بات کچھ اور
نہیں دکھے گی تجلی¿ِ طور شیشے میں
نشہ سما گیا مسلم کی ہر رگ و پے میں
نظر سے اس کی وہ اترا سرور شیشے میں

نہ رک جانے کو جی چاہے نہ تھک جانے کو جی چاہے
کسی کی جستجو میں دور تک جانے کو جی چاہے
اڑاتے پھرتے ہیں جو دھجیاں اوروں کے کاموں کی
کریں جب جرم خود اپنے تو ڈھک جانے کو جی چاہے
حضورِ یار میں ہیں گوش بر آواز و لب بستہ
غیابِ یار میں کیا کیا نہ بک جانے کو جی چاہے
ہمیں اے ماہ رو اندازہ ہے تم ہی سنبھالو گے
جو رخشِ عشق کا اک دن بدک جانے کو جی چاہے
نہیں ہے جانِ محفل تو مزہ کیا رہ گیا مسلم
وہ اٹھّے ہیں تو محفل سے سرک جانے کو جی چاہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قتل کا مقصد نہیں پر خوں بہانا چاہتا ہے
ٹھیک کرنا اصل میں اپنا نشانہ چاہتا ہے
دشمنی کچھ بھی نہیں ، بس ذات ہی سے بیر ہے
صرف اتنی بات پر ہم کو مٹانا چاہتا ہے
دورِ حاضر کا شکاری ہے بہت شیریں دہن
جال چھوڑا، اب تو باتوں سے پھنسانا چاہتا ہے
پہلے خود کو بیچ کر پایا تھا خوابوں کا نگر
آج سپنے بیچ کر خود کا بچانا چاہتا ہے
اے خدا مسلم کو اس فتنے سے تو محفوظ رکھ
بھول کر خود کو کوئی مہتاب پانا چاہتا ہے

۔ مختلف قوافی کے ساتھ ایک ہی زمیں اور ردیف
کے ساتھ دو غزلیں
جوابِ جاہلاں ہے یہ، انھیں زندیق بولی ہے
جہاں چپ رہ گیا ہوں میں، مری تحلیق بولی ہے
انھیں کو نامزد کرکے ہر اک تصدیق بولی ہے
ابو بکرِ رضی اللہ کو صدیق بولی ہے
کسی صورت بھی اسکو نذرِ آتش کر نہیں سکتے
ہمارے حق میں در آتشکدہ تحریق بولی ہے
یقینا ساتھ مسلم کے کوئی تائیدِ غیبی ہے
کہ اسکے شعر میں اللہ کی توفیق بولی ہے
(۲)
وہ ہم سے ہار کر، لمبی لگا کر چیخ بولی ہے
یہ انساں جل نہیں سکتا ہے ہر اک سیخ بولی ہے
سبھی آداب ِ دین و زندگی ہم نے سکھائے ہیں
فسانے لاکھ گڑھ لو، سچ مگر تاریخ بولی ہے
ملامت کی ہے اجرام ِ فلک نے اسکی جی بھر کر
کسی کی مصلحت سورج کو جب مرّیخ بولی ہے
بلند و بانگ دعوے پھسپھا کر رہے گئے مسلم
خموشی نے مری وہ کہہ دیا جو چیخ بولی ہے

بانٹ سب کوخلوص کی دولت مال و زر چاہے تیرے پاس نہ ہو
ہو سکے گر تو اتنی کوشش کر تجھ سے مل کر کوئی اداس نہ ہو
وحشت ِ عشق اس قدر نہ بڑھے کہ کسی چین کی بھی آ س نہ ہو
دل نہ بہلے ہمارا محفل میںاور عزلت بھی ہم کور اس نہ ہو
آو¿ ایسا جہاںبنائیں ہم ہر طرف خوف اور ہراس نہ ہو
نرک میں ساری نفرتیں جائےں،الفتوں کا سورگ واس نہ ہو
اس ضیا پاش ایک جلوے میںہم کہیں اس قدر نہ کھو جائیں
ہوکے رہ جائے منجمد احساس کیسا موسم ہے یہ قیاس نہ ہو
ساتھ رہ کر بھی ہم سے وہ اکثر پوچھتا ہے کہ کون ہے مسلم
اس سے بہتر تو میرا دشمن ہے ےار اتنا بھی ناشناس نہ ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوکے دریا میں بھی ہیں ساحل پہ ہم
آ گئے ہیں آج اس منزل پہ ہم
پس گئے ےوں زندگی کی سل پہ ہم
ہم پہ دل حاوی رہا اوردل پہ ہم
حق بجانب ہے جو برہم ہے رقیب
بزم اس کی، چھا گئے محفل پہ ہم
دیکھئے تو انتہائے اعتماد
مسکرا اٹھتے ہیں ہر مشکل پہ ہم
تھا پریشاں ، نذر ہم نے جان کی
رحم کر بیٹھے تھے بس قاتل پہ ہم
شعرِ مسلم وہ سمجھ سکتا نہیں
کیوں کریں غصّہ کسی جاہل پہ ہم

کوئی عمل کی راہ دکھائے تب ہم نکلیں زنجیروں سے
قوم کی حالت کیا سدھرے گی لمبی لمبی تقریروں سے
اب تو ہم حالات کے رخ کو بدلیں گے تدبیروں سے
باز آئے ہم خوابوں سے اور ان کی الٹی تعبیروں سے
کچھ تو وجہِ سکوں حاصل تھی خوش قسمت محروموں کو
چاند کے ٹکڑے ہاتھ نہ آئے کام چلایا تصویروں سے
نوکِ قلم تو کام آئی ہے ہاتھ میں گر تلوار نہیں
مسلم صاحب جہدِ مسلسل کرتے ہیں تحریروں سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر طرف یوں اپنے افسانے گئے
بھیڑ میں بھی صاف پہچانے گئے
اس کی الٹی سمت پر ہم چل پڑے
جس طرف شہرت کے دیوانے گئے
بے غرض الفت، خلوصِ مستقل
دوستی کے اب یہ پیمانے گئے
عاشقی صحرا ہے تپتی ریت کا
جس طرف مسلم سے دیوانے گئے

کہاں آنسو بہانا ہے کہاں پر مسکرانا ہے
جسے یہ مشق ہو جائے اسی کا یہ زمانہ ہے
فریب و مکر دل میں اورحلیہ مخلصانہ ہے
چھپے دشمن کا ظاہر میں رویہ دوستانہ ہے
مسلسل فکر رہتی ہے ہمارے رہنماو¿ں کو
برابر چل رہے ساتھی کو کب ، کیسے گرانا ہے
ہمارے دور میں مردم شناسی ہو گئی مشکل
بہت چہروں پہ اب لکھا ہوا الٹا فسانہ ہے
کبھی بھی رم نہ پائے گرگٹی تہذیب میں مسلم
نہیں پرواہمیںہے جیتنا یا ہار جانا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئنوںکی گھر سے رخصت کا بہانہ ہو گیا
جب سے اپنے خواب کا چہرہ پرانا ہو گیا
بجلیوں، طوفان کا یہ دل ٹھکانا ہو گیا
آپ کا کیا؟ آپ کا تو مسکرانا ہو گیا
دل لگا کر ان کا لہجہ عاجزانہ ہو گیا
پتھروں کا بھی رویہ فدویانا ہو گیا
جب سے دلبر کا کسی کے ساتھ جانا ہوگیا
دل ہمارا وسوسوں کا کارخانہ ہو گیا
اصل میں وہ حق کے پردے میں کوئی باطل ہی ہے
حق نہیں، باطل سے جس کا دوستانہ ہو گیا
کچھ حوادث نے بھی کھولی چشمِ مسلم اور ادھر
کچھ صحافت سے نظریہ طائرانہ ہوگیا

یہ دنیا دار ہر اک راستہ بدل دیں گے
اگر مراد نہ پائی خدا بدل دیں گے
علاج عشق کا یہ چارہ گر کریں گے کیا
مرض رہے گا وہی بس دوابدل دیں گے
ہمیشہ فکر میں گھلتے رہیں گے بے چارے
جو سوچتے ہیں مرا حوصلہ بدل دیں گے
غرض ہے داد و ستائش سے انکو محفل میں
جو جیسا چاہے گا وہ ماجرا بدل دیں گے
ہے سرد مہری کا ماحول اگر تو کیا مسلم
یہ گرم جملے ہمارے ہوابدل دیں گے

ہو لاکھ سنگ محبت کی تھرتھری کے بغیر
گلی سے تیری نہ گذرے گا سنسنی کے بغیر
نبھائی رسمِ وفا ایسے دل لگی کے بغیر
تمام عمر رہے ساتھ دوستی کے بغیر
ہوا طلوع مدینے کا شمس مکہ میں
ؓبھٹک رہا تھا جہاں پہلے روشنی کے بغیر
وہی کتابِ شجاعت کا بابِ زرّیں ہیں
یہ داستان مکمل نہیں علی کے بغیر
چھپا کے رکھا ہے مسلم نے دولتِ غم کو
ہمیشہ بزم میں شاداں رہا خوشی کے بغیر

گر یہ ممکن نہیں دکھ مٹا دیجئے
خودکشی کا تو مت مشورہ دیجئے
حوصلے اپنے اتنے بڑھا دیجئے
آندھیوں کو بھی رنگِ صبا دیجئے
مٹ گئے ہوگی اب ساری ناراضگی
کر چکے قتل! اب مسکرا دیجئے
مٹ نہیں سکتیں تاریخ کی ذلتیں
سب کتابوں کو چاہے جلا دیجئے
رہ گیا ہے بس اک آئینہ شہر میں
اپنے دشمن کو مسلم دعا دیجئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکوہ نہیں ہے، جشن ہے تاخیر ِےار کا
آنکھوں کو لگ گیا ہے مزہ انتظار کا
ذہنوں میں گل کھلائے رہو اعتبار کا
شاید پلٹ کے آئے زمانہ بہار کا
چاہو اگر کسی کو تو لٹنے کی حد تلک
الفت میں کام کیا ہے حساب و شمار کا
جس پر ہے طیش اس پہ تو چلتا نہیں ہے بس
کمزور ہی نشانہ ہے دل کے غبار کا
جمہوریت کا عیب نہ مسلم سے پوچھئے
لوہار کام کرتا ہے اس میں سنار کا

عقبیٰ ہے بے کنار بہ میعاد ہے جہاں
بھولے ہیں آخرت کو مگر ےاد ہے جہاں
آدم سے جو ہوا وہ مشیےت خدا کی تھی
فردوس کے گناہ سے آباد ہے جہاں
جاہ و جلال اس کا نظر پر ہے منحصر
خود اپنے آپ شاہ نہ شہزاد ہے جہاں
جذبے کی آنچ اور بڑھاتے چلے چلو
پگھلے کا ایک دن جو یہ فولاد ہے جہاں
کھیلے گا یونہی آنکھ مچولی ستم کے ساتھ
مسلم وہیں وہیں ہے کہ صےاد ہے جہاں

اونچائی خود کو اور سبھی کو ڈھلان دی
جس رہنما کے ہاتھ میں ہم نے کمان دی
غفلت کی نیند اور بھی چہرے پہ تان دی
کانوں میں اس کے جب بھی سحر نے اذان دی
قومی ذبیحہ آپ ہی چٹ کر گیا امیر
ہم کو دےے نہ پائے سِری اور نہ ران دی
اک دوسرے کو مارے ہیں ناپاک کہہ کے ہم
کیسی یہ اے خدا ہمیں جائے امان دی
مسلم ہے وہ جو بات پہ اپنی ڈٹا رہا
وعدہ نبھادیا جو کسی کو زبان دی

جسم و جاں، دل جگر بدلتے رہے
درد کے مستقر بدلتے رہے
وحشتوں سے کہاں نجات ملی
بس ہو ا یہ کہ ڈربدلتے رہے
لاکھ چہروں کی ہے بدعنوانی
دھڑ وہی ایک، سر بدلتے رہے
واقعہ کچھ کا کچھ بےان کیا
ٹی وی والے خبر بدلتے رہے
منزلوں تک نہ ہم کو پنہچاےا
صرف سمتِ سفر بدلتے رہے
خیر جیسے پرانا کپڑا ہو
لوگ کیوںاس سے شربدلتے رہے
کرکے مجبوریوں سے سمجھوتا
ہم ادھر ، وہ ادھر بدلتے رہے
اب نہ پہچان پائے گا بچپن
اس قدر عمر بھر بدلتے رہے
عمر کے ہر پڑاو¿ پر مسلم
آرزوو¿ں کے گھربدلتے رہے

اونچے نیچے ٹیرھے میڑھے راستے ہیں زیست میں
لطف ہچکولوں کا ہم کھاتے رہے ہیں زیست میں
سینکڑوں کردار ناٹک کر چکے ہیں زیست میں
کچھ نہ سیکھا، اب بھی دھوکے کھا رہے ہیں زیست میں
آ ہنی جن کے عزائم کو بنایا تھا کبھی
بن کے وہ دیوارِ آہن اب کھڑے ہیں زیست میں
چھوٹے موٹے رنج و غم کو زیرِ پا رکھتے ہیں ہم
فکر اعلیٰ ہے، حدف اپنے بڑے ہیں زیست میں
مل کے غازہ مسکراہٹ کا رخِ محزون پر
سب کو اس دھوکے میں رکّھا ہے مزے ہیں زیست میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنبھل ناداں، نہ ڈھائے قہر پھر خلّاق آیت کا
نہیں ہے کفر سے کچھ کم غلط اطلاق آیت کا
زمانے کی قیادت سے ہمیں پھر کون روکے گا
اتاریں ہم اگر کردار میں اخلاق آیت کا
وہی تو گامزن ایمان ِ کامل کی طرف ہوگا
وہ جس کو کھینچ لے اپنی طرف چقماق آیت کا
تلاوت جب کروگے ڈوب کر دل کی نگاہوں سے
ملادے گا تمھیں بھی رب سے یہ برّاق آیت کا
کہاں پھر روح میں اترے گی اک نورانیت مسلم
بجائے دل اگر ہوگا ٹھکانہ طاق آیت کا

سارے سازشی چہرے گھرگئے سوالوں میں
لا کھڑاکیا ان کو ہم نے جب اجالوں میں
سادہ دل تو تھے لیکن ہم پھنسے نہ جالوں میں
لوگ خود الجھ بیٹھے اپنی اپنی چالوں میں
آپ اپنی نسلوں کو پائےں گے اجالوں میں
گر حلال روزی کو رکھ دیا نوالوں میں
بس و ہی حسیں چہرہ بس گےا خیالوں میں
ذکر جس کا ملتا ہے سینکڑوں حوالوں میں
سخت دل ہی اچھّے تھے،چین سے تو رہتے تھے
دل ذرا سا کیا پھسلا، پڑ گئے وبالوں میں
اپنی زندگانی میں موڑ اتنے آئے ہیں
ہم بھی اک کہانی ہیں، چھپ گئے رسالوں میں
لوگ جان جائیں گے راز ایک دن مسلم
عشق کو چھپا رکھئے چاہے سات تالوں میں

عدالت میں وفا کیشی کی اک نالش تو بنتی تھی
تھکی ہاری سہی ہمت مگر کوشش تو بنتی تھی
تھا آئے دن کا شب خوںاس پہ کچھ بندش تو بنتی تھی
پلٹ کر وار ہم نے بھی کیا، یورش تو بنتی تھی
ہمارے پیٹھ پیچھے کے عمل سے آپ منکر ہیں
مگر سچائی یہ ہے دوستو! سازش تو بنتی تھی
ارے ظالم کبھی لفظِ مکرر کہہ دیا ہوتا
تمھارے نام کے تھے شعر فرمائش تو بنتی تھی
یہ مسلم ہم نے مانا دوستی جیسا نہیں تھا کچھ
شناسائی ہماری از رہِ رنجش تو بنتی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب دوا کام نہ آئے تو یہ شافی ہوگی
آپ کی اک نگہ¿ِ لطف ہی کافی ہوگی
شانِ محبوب میں گستاخی کم از کفر نہیں
جرم یہ وہ ہے کہ جس کی نہ معافی ہوگی
لاکھ سجدے بھی برا¿ت کا نہ ساماں ہونگے
دل سے توبہ ہی گناہوں کی تلافی ہوگی
فرشِ رہ بن گیا نظروں کا مقدر مسلم
جانے کب ختم تری وعدہ خلافی ہوگی

وہ جو روٹھا ہوا سا لگتا ہے
سارا عالم خلا سا لگتا ہے
بارہا سن کے وہ یہ کہتے ہےں
یہ فسانہ سنا سا لگتا ہے
حسن اےسا کہ شاعرِ اعظم
اس کے آگے گدا سا لگتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کام میں ہنر لاتے، آسماں زمیں کرتے
کوستے ہیں قسمت کو جو عمل نہیں کرتے
لے کے صاف پیشانی گھر کو لوٹ آئے ہم
در نہ تھا جب اس قابل پست کیوں جبیں کرتے
دشمنوں سے لڑنے میں گھر کو بھول بیٹھے تھے
کاش وقت رہتے ہم فکرِ آستیں کرتے
اس کو لے کے دنےا کی سیر پر نکل جاتے
وہ حسیں جو مل جاتا کام یہ حسیں کرتے
وقتِ معرکہ مسلم یار تھے تماشائی
شور ہی مچا دیتے گر مدد نہیں کرتے

اس کو بھی اپنے حسن کا بسمل بنا دیا
پتّھر بھی چھو لیا تو اسے دل بنا دیا
رسوائیوں کو زیست کا حاصل بنا دیا
عیّاشیوں نے قوم کو بزدل بنا دیا
سفّاک قاتلوں کو بچانے کے واسطے
منصف نے بے گناہ کو قاتل بنا دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلیاروں میں سڑکوں پہ چلیں گرم ہوائےں
سنّاتی ہیں اس دور میں بے شرم ہوائیں
غصّے سے کبھی اور کبھی پیار سے ماریں
ہوتی ہیں کبھی تند کبھی نرم ہوائیں
دھرتی کی اپج ذات کسانوں نہ پوچھے
انسانوں کا پوچھیں نہ کبھی دھرم ہوائیں
کردار میں مسلم وہ بلندی ہو کہ ہم سے
بیباک سہی پھر بھی کریں شرم ہوائےں

تم کو کےا خبر یہ تو بے قرار کی شب ہے
انتظار کی شب تو انتظار کی شب ہے
ٹوٹتے بکھرتے سے اعتبار کی شب ہے
بے سبب امیدوں پر انحصار کی شب ہے
میکدے نہ جاکر بھی، جام کو نہ چھو کر بھی
بن پئے جو ہوتا ہے اس خمار کی شب ہے
ےادِےار سے فرصت مل نہ پائی اے مسلم
دن کہاں نصیب اپنا بار بار کی شب ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے سبب تم نے یہ سمجھا غم سے بن جائے گی بات
کرکے دیکھو، کوششِ پیہم سے بن جائے گی بات
دیکھ کر حالت ہماری الٹے قدموں پھر گیا
تھا مسیحا کو گماں ، مرہم سے بن جائے گی بات
ہے اگر روٹھا صنم ہم بھی تو پُر امیّد ہیں
آنے دو برکھا کی رُت موسم سے بن جائے گی بات
دیتے ہیں مسلم کو دعوت محفلوں میں اس لئے
سب سمجھتے ہیں کہ اسکے دم سے بن جائے گی بات

یہ کبھی ہم نے سوچا نہیں تھا، دل میں ایسے بھی مر جائے گا وہ
ہم پہ کوئی اثر ہی نہ ہو گا، سامنے سے گذر جائے گا وہ
صبح ہوگی تو پھر اگلی شب تک سب سے چھپ کر کدھر جائے گا وہ
ہے اندھیرا تو آخر اندھیرا روشنی میں بکھرجائے گا وہ
طفلِ ناداں کو ہوش آئے گا جب، کچھ نہ سوجے گا ڈرجائے گا وہ
زندگانی کے اندھے کنویں میں آخرِکار اتر جائے گا وہ
یاد کا اک ہیولا جو مسلم رات بھر خواب بن کر جیا تھا
دن میں گھٹ گھٹ کے مر جائے گا وہ، جب بھی ہوگی سحر جائے گا وہ

َََََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
َََََََََََََََََََََ
دن میں یوں خود کو بچا پاتی ہے رات
سایہ بن کر ہم میں چھپ جاتی ہے رات
نور اس رخ سے چرا لاتی ہے رات
روزِ روشن خود ہی بن جاتی ہے رات
ایسے بدلا موسمِ حرص و ہوس
دن ہوئے بے شرم ، شرماتی ہے رات
خواب، بے خوابی، اذیت، ابتلا
جیسے تیسے بس گذر جاتی ہے رات
رات کو مسلم نہ تو الزام دے
کب ہر اک انساں کو بہکاتی ہے رات

یہ حال اب ہے کہ جنجال ہو گیا ماضی
میں کیا کروں کہ مرا حال ہو گیا ماضی
اڑائے پھرتا ہے ہر وقت اپنے کاندھوں پر
میں راجہ بن گیا بیتال ہو گیا ماضی
کسی کے ماضی نے چمکا دیا ہے حال اس کا
کسی کے حال سے پامال ہو گیا ماضی
مچا ہے شور وہ مسلم کہ دور ِ حاضر میں
سرودونغمہ کی سُرتال ہو گیا ماضی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگانی کا دِکھاتی ہے ہر اک منظر غزل
ساتھ میرے آ گئی ہے کس بلندی پر غزل
ظربِ کاری زنگ آلودہ دماغوں کے لئے
گرچہ ہے شیشے سے نازک، توڑ دے پتھر غزل
خون جب جمنے لگے گا انجمن کے جسم کا
برف پگھلے گی، اٹھادے گی کوئی محشر غزل
نیند کی گولی اگر لوری نہ دے پائے تمھیں
گنگنا لینا ہماری کوئی خواب آور غزل
کچھ بھی مسلم کا تعلق میر صاحب سے نہیں
ان کے نشتر شعر ہونگے، ہے مری نشتر غزل

مقابل یار ہے تو خود کو ہم محدود کر لیں گے
بڑھو آگے، ہم اپنا راستہ مسدود کر لیں گے
مصور مَیں، میری تصویر پر شاطر جہاں والے
مجھے کافر کہیں گے اور اسے معبود کر لیں گے
برائے علم ہم نے مدرسے بھیجا تھا بچوں کو
خبر کےا تھی کہ اپنے جسم کو بارود کر لیں گے
نہ ہو خوفِ خدا ان کو تو پھر دعویٰ خدائی کا
کہیں شداد کر لیں گے، کہیں نمرود کر لیں گے
محبت کا ہے سودا نفع اور نقصاں نہ دیکھیں گے
اگر کوشش ہے یہ بے سود تو بے سود کر لیں گے
کسی کے حسن کی جلوہ گری کو دیکھ کر مسلم
مناظر حسن اپنا نیست و نابود کر لیں گے

بہت ہی قیمتی سامان ہو گیا چوری
ہمارے سینے سے انسان ہو گیا چوری
سکون پانے کی خاطر کیے تھے سمجھوتے
بہت سکون سے ایمان ہو گیا چوری
یہ کس نے رکھ دیا ہم کو تہس نہس کرکے
بچے ہیں فرقے، مسلمان ہو گیا چوری
مٹے اثاثے تو کچھ غم نہیں، الم یہ ہے
ہماری فتح کا امکان ہو گیا چوری
بٹھایا پہرے پہ مسلم جہاں بھروسے سے
خود اس مکان کا دربان ہو گیا چوری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مستقبل کس نے دیکھا ہے
بس حال کی سب کو پروا ہے
تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے
انسان کو مل کر رہتا ہے
محروم رکھے گا کیوں ہمکو
وہ پالنے وال سب کا ہے
سہہ لیں گے تری خاطر یہ بھی
مانا کہ زخم یہ گہرا ہے
تو لاکھ چھپا لے جرم اپنا
اک روز تو پردا اٹھنا ہے
مسلم بیباک صحافی ہے
کرلے جو تجھ کو کرنا ہے

کہیں بولتا ہے رتبہ، کہیں نام بولتا ہے
میں خموش اس لےے ہوں، مرا کام بولتا ہے
میں پڑا ہوں اپنے گھر میں ، ہے رسائی اُس کی اونچی
میں حلال بولتا ہوں، وہ حرام بولتا ہے
کوئی مصلحت تو ہوگی کہ چھپا کے دل میں سچ کو
یوں زباں پر اپنی ڈر کی وہ لگام بولتا ہے
وہ رکے تو سارا منظر پڑھے حسن کے قصیدے
جو چلے لہک لہک کر تو خرام بولتا ہے
نہیں کوئی خوف اُس کو، ہو جو بات حق کی مسلم
سرِ بزم بولتا ہے، سرِ عام بولتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس غزل کا حسن یہ ہے کہ مونث الفاظ جیسے صبح، رات، بارات اور جمع حالات وغیرہ کو ردیف ”ہوتا ہے“ کے ساتھ باندھا گیا ہے جو شاید اردو غزل میں ایک نادر مثال ہے
تماشہ یہ بوجہِ گردشِ حالات ہوتا ہے
کوئی دن صبح ہوتا ہے، کوئی دن را ت ہوتا ہے
کہاں اسدرجہ لطف آگیں کسی کا ساتھ ہوتا ہے
تمھارا ساتھ تو خوشیوں کی اک برسات ہوتا ہے
وہی انسان کو ہر وقت رکھتا ہے تروتازہ
وہی بس ایک پل جو عشق کی سوغات ہوتا ہے
کوئی جیتے، کوئی ہارے غرض اس سے نہیں ہم کو
ہمارا مشغلہ ہر وقت شہہ اور مات ہوتا ہے
غضب کا چست ہے، کیسی توانائی ہے مسلم میں
کسی انساں پہ جیسے سایہ¿ِ جنّات ہوتا ہے

اور کسی کے حسن و ادا کو حسن و ادا کہنے سے پہلے
یاد تجھے سو بار کریں گے جانِ وفا کہنے سے پہلے
تلوے چاٹو لیکن کوئی حد ہو چمچہ گیری کی
کچھ تو شرم کروآندھی کو بادِ صبا کہنے سے پہلے
ماہر ہے یہ دنیا کتنی بہلانے پھسلانے میں
زہر کی کتنی تعریفیں کیں اسکو دوا کہنے سے پہلے
میخانے میں بھیڑ لگی ہے نئے نئے میخواروں کی
مے چکھنا ہے ان کو تری آنکھوں میںنشہ کہنے سے پہلے
اوروں پر انگلی نہ اٹھاو¿ یاد رہے تم بھی انساں ہو
اپنی خطا بھی یاد کرو کچھ اس کی خطا کہنے سے پہلے
مجھ سے ایسی بات نہ کرنایاد رہے میں مسلم ہوں
تجھ کو جہنم پہنچا دوں گا تجھ کو خدا کہنے سے پہلے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رہنا مگن اُسی میں سمجھنا نہ سوچنا
کچھ اور زندگی میں سمجھنا نہ سوچنا
نکلے ہیں سر کو لے کے سروں کی تلاش میں
مدہوش سرکشی میں سمجھنا نہ سوچنا
کیا دے دیا ہے، بدلے میں ہمکو ملا ہے کیا
ایسا تو دوستی میں سمجھنا نہ سوچنا
علم و ہنر کے نور سے جگ مگ ہیں راستے
اب ایسی روشنی میں سمجھنا نہ سوچنا
جنت کے عیش، حوروںکے جلوے سلیم جی
اخلاصِ بندگی میں سمجھنا نہ سوچنا

جا بخش دیا تجھ کو سکوں ، آئی ندا یوں
مٹی سے سنے ہاتھوں نے مانگی تھی دعا یوں
سونے کی رکابی میں رکھا چاندی کا چمچہ
غربت کی محبت کا جواب اس نے دیا یوں
سب جان گئے میں بھی ہوں دیوانہ کسی کا
پردہ مرے کردار سے اک روز اٹھا یوں
جیسے کسی محبوب کے بدلے ہوئے تیور
بدلے نہ مرے شہر تیری آب ہوا یوں
ہَم سینے کے پتھر کی حفاظت میں مگن تھے
مسلم وہ پگھل ہی گیا طوفان اٹھا یوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توانا تھے ترے ارمان سے ہم
اکیلے لڑ لیے طوفان سے ہم
یہ سچ ہے کہتے ہیں ایمان سے ہم
تمھیں پر ہیں فدا جی جان سے ہم
نہ سید سے نہ شیخ اور خان سے ہم
نبھا لیتے ہیں ہر انسان سے ہم
اٹھے ہیں ارضِ ہندوستان سے ہم
یہیں کے ہیں، جئیں گے شان سے ہم
ہمیں کیسے ہرا پائے گی دنیا
ہیں بالاتر ہر اک امکان سے ہم
بتادے گا ہمیں وہ راہ سیدھی
اگر پوچھیں کبھی قران سے ہم
اگر مسلم ہو محفل جاہلوں کی
تو بن جاتے ہیں بس نادان سے ہم

بھٹکے کہاںکہاں سب روشن چراغ والے
منزل کوپا گئے ہیںشاطر دماغ والے
ویراں پڑی ہوئی ہیں سچائی کی دوکانیں
بازار پر ہیں حادی اب سبز باغ والے
ووٹر کو صاف ستھرے انساں نہ راس
وہ پھل چنے ہیں سب نے جو پھل تھے داغ والے
اتری ہے رب کی رحمت تخلیق بن کے ہم پر
ہم کوبھی کچھ پتہ ہے،ہم ہیںسراغ والے
مسلم تو ہے عقابی، ہے یہ بڑی خرابی
اس سے گھلیں ملیں کیوں روباہ و زاغ والے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسانے مت سناو¿ وصل و فراق والے
عنقا سے ہوگئے ہیں اچھے مذاق والے
جن میں بسی تھی خوشبو مہماں نوازیوں کی
وہ گھر کہاںرہے اب محراب و طاق والے
برسا رہا ہے ظالم شعلے وہ آسماں سے
نا حق جھلس رہے ہیں شام و عراق والے
ہے مصلحت نبھانا، آخر کو ہم بڑے ہیں
کرتے ہیں کام بچے ہر چند عاق والے
دیکھیں گے جب کہ ہم تم نزدیک آرہے
جملے اچھال دیںگے وہ پھرنفاق والے
بس سچ کو سچ کہا ہے، معتوب اس لئے ہیں
مسلم کبھی نہیں تھے ہم طمطراق والے

روزوشب اپنی ہی ذات کو، مات کرنے کو جی چاہتا ہے
کیونکہ کچھ کام ایسے بھی ہیں ساتھ کرنے کو جی چاہتا ہے
آپ پلکیں اٹھا لیجئے، مجھ سے نظریں ملا لیجئے
گفتگو کو ترستی ہیں آنکھیں، بات کرنے کو جی چاہتا ہے
لیٹ کر مخملی ریت پر، باغ میں، گاو¿ں کے کھیت پر
چاندنی میں نہاتے ہوئے، رات کرنے کو جی چاہتا ہے
پیار سے پیار کی چھیڑ ہو، میں بھی کچھ بولوں تم کچھ کہو
تم رضامندی اپنی بھی دو، گھات کرنے کو جی چاہتا ہے
قاتلِ جذبِ ایثار ظالم، سچ بتائیں تمھیں ہم کہ مسلم
ایسی بیدرد دنیا سے دو دو ہاتھ کرنے کو جی چاہتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کب وہ ہر منظر میں اچھی لگتی ہیں
گھر کی چیزیں گھرمیں اچھی لگتی ہیں
دن میں جن باتوں پر دھیان نہیں دیتے
رات میں وہ بسترمیں اچھی لگتی ہیں
یوں بھی چمیلی دل کو بھاتی ہے لیکن
کلیاں اس کے سر میں اچھی لگتی ہیں
وہ جو اترتی ہیں تھوڑی مے نوشی پر
تصویریں ساغر میں اچھی لگتی ہیں
وہ چیزیں تم مسلم میں بھی پاو¿گے
جو چیزیں گوہرمیں اچھی لگتی ہیں

قدرت کے بنائے ہوئے شِہکار کھلونے
ہوتے ہیں کھلونوں کے خریدار کھلونے
مسند پہ سیاست کی ہیں عیار کھلونے
افسوس کہ محکوم ہیں ہشیار کھلونے
اس دور میں خود اپنی لگاتے ہیں یہ بولی
ہر دام میں بکنے کو ہیں تیار کھلونے
تب دیکھ خریدار کی ناکامی کاعالم
جب ہوتے ہیں ہم جیسے انادار کھلونے
بالکل بھی زرومال کی پروا نہیں کرتے
مسلم ابھی کچھ باقی ہیں دلدار کھلونے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نگاہوں میں نظارہ تھام کر ہم
بڑھے آگے اشارہ تھام کر ہم
ہمیں کرنی تھی موجوں پر سواری
پلٹ آئے کنارہ تھام کر ہم
ہیں اندر مختلف محراب و منبر
بہت خوش ہیں منارہ تھام کر ہم
حسد کی آگ میں جھلسے ہزاروں
جو نکلے خط تمھاراتھام کر ہم
بلندی پربہت پہنچے ہیں مسلم
غزل میں استعارہ تھام کر ہم

شجرکی شاخ پہ گرگٹ اداس رہتا ہے
ہر ایک رنگ اب انساں کے پاس رہتا ہے
چلو ملیں کہ ہجومِ مصاحباں سے پرے
دبا چھپا کوئی احساں شناس رہتا ہے
شکست خوردگی صدیوں کی بھولنے کے لئے
وطن کے لوگوں کوہر جھوٹ راس رہتا ہے
یہ کیسا امن ہے مسلم کہ جسکی پرتوں میں
جدھر بھی دیکھئے خوف و ہراس رہتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے احسان اسے یاد ہیں ، میرے احساں؟
شوقِ تحسین سے آزاد ہیں میرے احساں!
جس سے ملنا تھا صلہ، اس سے نہیں مل پایا
غیر لوگوں کے سبب شادہیں میرے احساں
ہے حوادث میں بھی سرسبز شجرنیکی کا
میںہوں دلشاد تو آبادہیں میرے احساں
اتنی کثرت سے پرندے ہیں کہ پکڑے کیسے
باعثِ حیرتِ صیاد ہیں میرے احساں
یہ تواچھا ہے ورق صاف ہے دل کا مسلم
نہ اسے اورنہ مجھے یادہیں میرے احساں

مصرعہ¿ِ طرح : ©”چراغ جل نہیں سکتا کبھی ہوا کے بغیر“
ملی جو خونِ شہیداں سے اس جِلا کے بغیر
ہمارا دین ادھورا تھا کربلا کے بغیر
اماں کہیں نہیں محبوبِ کبریا کے بغیر
بہشت میں بھی نہ جائےں گے مصطفی کے بغیر
قدم بڑھایئے اندیشہ¿ِ بلا کے بغیر
کہ ہو نہ پائے گا انجام ابتدا کے بغیر
ہم اس کی خوشبو سے اسکو تلاش کرلیں گے
دیارِ غیر میں ہمدرد و آشنا کے بغیر
یقین راہ دکھاتا ہے ہر قدم ہم کو
اگرچہ قافلہ اپنا ہے رہمنا کے بغیر
بچ آندھیوں سے اگرچہ یہ بات بھی سچ ہے
©”چراغ جل نہیں سکتا کبھی ہوا کے بغیر“
یہ کتنی بار ہوا لگ گئی دعا ماں کی
افاقہ ہو گیا مسلم کسی دوا کے بغیر

تنہائی
ستاتا ہے نفاق آمیز آوازوں کا سنّاٹا
مری تنہائی کچھ تو بول کچھ تو بات کر مجھ سے
تو ہی تو گوش بر آوازِ ہے، دمساز ہے میری
فقط اک تو ہے جس سے دل کی میں ہر بات کرتا ہوں
تری سرگوشیاں سن کر سکونِ قلب پاتا ہوں
یہی کچھ ایسے لمحے ہیں میں جن میں مسکراتا ہوں
چلی آ! بات کر مجھ سے! کہ میں پھر آج اکیلا ہوں
مری تنہائی کچھ تو بول کچھ تو بات کر مجھ سے

در مدحِ غزل
بہت عریض و سبک رو ہے آبنائے غزل
کوئی کبھی نہ کہے اس کو تنگنائے غزل
یہ ماہئے، یہ ثلاثی ، یہ ہائیکو کیا ہیں
یہ سب ہیں مانداگر کوئی گنکنائے غزل
گویئے گاتے ہیں مانا کہ گیت اور دوہے
مگر غنائے غزل تو ہے پھر غنائے غزل
تمام جذبوں کو خود میں سمیٹ لیتی ہے
یہ سب کے دل کی زباں ہے، کرو ثنائے غزل
دوئی کا فرق یہاں مٹ گیا ہے اے مسلم
غزل ہے ہم میں فنا اور ہم فنائے غزل

آزادی کی قید
تاریکیوں میں ابھری آواز سسکیوں کی
تھی فرش سے فلک تک پرواز سسکیوں کی
دیکھا جو پاس جا کر، آزادی رو رہی تھی
کل تک جو تھی سبھی کی شہزادی، رو رہی تھی
پوچھا جو ماجرا تو بولی کہ قید ہوں میں
پھوٹا مرا مقدر اب تم سے کےا کہوں میں
سارے فدا ہیں جس پر، میرا مجسمہ ہے
عاری ہے روح سے وہ، لیکن وہی سجا ہے
اس کو سجا دھجا کر سب رقص کر رہے ہیں
اور اصل جو کہ ہم ہیں گھٹ گھٹ کے مر رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوست یوگیش شرما کی ےاد میں
بیڑی جو کوئی سلگائے تو شرما جی بہت ےاد آتے ہو
اور چائے کی چسکی لگائے تو شرما جی بہت ےاد آتے ہو
اس نفسا نفسی کے یگ میں ، تم جیسی پیار کی چھاو¿ں تلے
مخلص جو کوئی مل جائے تو ، شرما جی بہت ےاد آتے ہو
بیکنٹھ کے تم اب واسی ہو، کےا تم کو سنائےں حال اپنا
دل اپنا کبھی گھبرائے تو ، شرما جی بہت ےاد آتے ہو
انسان کی عظمت غالب ہو، کےا ہندو ہے اور کےا مسلم
یہ بھید جہاں مٹ جائے تو ، شرما جی بہت ےاد آتے ہو

مسلم سلیم ۔ خراجِ عقیدت برائے خالد ہ بلگرامی
صحافت کا روشن ستارہ تھیں وہ
قلمکار بے مثل و یکتا تھیں وہ
ان اخباروںپر ان کا احساں عظیم
ہوئے فیضیاب ”آفتاب©©“ و ”ندیم“
اگرچہ قلم ان کا تھا نغمہ گر
دِکھاتی تھیں مطبخ میں بھی وہ ہنر
پکاتی تھیں پکوان جب روزِ عید
تو مہمان کہتے تھے ہل من مزید؟
عجب ان کے ہاتھوں میں تھا ذائقہ
ضیافت کا انداز بھی تھا جدا
کھلاتی تھیں یوں بن کے وہ میزباں
ہو جیسے کوئی مادرِ مہرباں
لبوں پر تبسم ہمیشہ رہا
اگر چہ بہت دورِ مشکل سہا
عزائم تھے ان کے بہت آہنی
نہ چھوٹی کبھی ان سے زندہ دلی
بس اوصاف ان کے گنائےں گے اب
کہاں خالدہ جیسی پائےں گے اب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(”آفتاب©©“ و ”ندیم“ بھوپال کے دو اردو اخبارات ہیں) مطبخ: کچن
ہل من مزید: اور کچھ ہے کےا؟)

بیاد شاگرد محمد عباد خاں شمس بھوپالی(انتقال
۵۲ اکتوبر ۵۱۰۲)
تم تو فردوس میں رہو گے شاد
عمر بھر ہم کریں گے تم کو ےاد
کرکے بھوپال کو گئے ناشاد
ہم ہیں نوحہ کناں اے شمس عباد
تم کو بھی لے اڑی عدم کی طرف
تیز اتنی چلی اجل کی باد
دن تھا پچیس، ماہ اکتوبر
سال پندرہ نے کردیابرباد
مسلم اس صدمے سے ابھر آئے
اے خدا اس میںتو ہی کر امداد

یونس مخمور کی ےاد میں
دل جسکا تھا اخلاص و وفا سے معمور
نعمات سے کر دیتا تھا سب کو مسحور
بھوپال! تجھے ےادبہت آئے گا
اک گوہرِ نایاب تھا یونس مخمور

محترم عزیزالدین خان خضری صاحب (کراچی ) سے فیس بک دوستی کا ایک برس مکمل ہونے پر
ہوں مبارک دوستی کے ماہ وسال
ذہن و دل کا ہے یہ رشتہ لا زوال
فاصلہ ہے گو ہزاروں میل کا
پاس رہتا ہے مگر ہر دم خیال
قریہ¿ِ حبّ و شناسائی میں اب
ملتے ہیں ان جیسے مخلص خال خال
جوش کے گلشن میں ان سے ہے مہک
مشک و عنبر غنچہ غنچہ، ڈال ڈال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسلم سلیم ۔ سہیل کاکوروی کی ۷۳۱ اشعار پر مشتمل
غزل کو خراج انھیں کی زمین میں
یہ غزل ہے بوئے گل، ہے ہو بہ بہو تصویر ِگل
اس سے بہتر ہو نہیں سکتی کوئی تفسیر ِگل
اس کی جانب بڑھ نہ پائے کوئی دستِ بوالہوس
خار کو رکّھا ہے درباں دیکھئے تدبیرِ گل
ہو گدازِ دل کا حامل دیکھنے والا اگر
پھول کی ہر پنکھڑی ہوتی ہے اک شمشیر ِ گل
کوئی بھی مٹی ہو مہکائے رہو ماحول کو
صرف صورت ہی نہیں پیدا کرو تاثیرِ گل
تم بھی مسلم کچھ کہو ایسا کہ ہو تابِ گلاب
مثلِ بوئے گل ہی پھیلے ہر طرف تنویرِ گل

اردو کی بقا ءمیں مجلسوں کا حصہ
اپنے مولا کے عاشقوں کے سبب
اردو زندہ ہے مجلسوں کے سبب
کوئی اس کو مٹا نہیں سکتا
ایسے دلدار دوستوں کے سبب
عظمتِ مرثیہ انیس و دبیر
اور ایسے ہی شاعروں کے سبب
کچھ شعاعیں پڑی ہیں مسلم پر
ان سے اس کی محبتوں کے سبب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے حسی
اتنے بے حس ہیں کہ پیغامِ ِ محبت سن کر
چونکتے بھی نہیں قرآن کی آیت سن کر
مان لیتے ہیں جہالت میں یہ کیا کےا باتیں
مسلکی فکر کی ہر ایک روایت سن کر
اپنے راگوں پر ہی سر دھنتے ہیں ایسے حضرات
کچھ نہیںہوتا اثر نغمہ¿ِ وحدت سن کر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قطعات

سرکار ِ دو عالم
سرکارِ دو عالم تھے مگر اتنے تھے سادہ
پہنا نہ کبھی قیمتی حضرت نے لبادہ
مل سکتی تھی ہر چیز اگر کرتے ارادہ
کھائے نہ کبھی گیارہ نوالوں سے زیادہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جتنی تعریف کی جائے کم، مصطفی مجتبیٰ محترم
آپ کے ہیں غلاموں میں ہم، مصطفی مجتبیٰ محترم
مطمئن ہیں بہت زندگی سے، راہ روشن ہے نورِ نبی سے
ڈگمگاتے نہیں ہیں قدم ، مصطفی مجتبیٰ محترم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے میں کیسے مردہ مان لوں بیشک وہ زندہ ہے
قیامت تک کی نسلوں کی ہدایت جس کا ذمّہ ہے
کہ ”لمّا یلحقو“ نے راز ظاہر کردےا سارا
کہاں کوئی پہیلی ہے، کہاں کوئی معمّہ ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجھ نہ عمرِ طبیعی میں شارحِ ناداں
سمجھ ہماری طرح نکتہ¿ِ ظہورووصال
خدا کی اولیں تخلیق قبلِ لفظِ کن
مرے رسولکی عمرِ رواں ہے اربوں سال

ٓٓاردو
صحیفوں، ٹی۔وی۔ پہ خبروں کی جان اردو ہے
تمام ہند میں ہونٹوں کی شان اردو ہے
جو دفتروںمیںلکھی جاتی ہے وہ ہندی ہے
جو بولی جاتی ہے گھر میں زبان اردو ہے

دن میں سورج جلا اور دی روشنی
رات میں چاند بھی دے گیا روشنی
ہاں مگر ہر گھڑی ذہن روشن کرے
ایسی ہے میرے اشعار کی روشنی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کب وہ انعام کریں کب وہ خفا ہو جائیں
جب بھی جی چاہے ملیں اور جدا ہو جائیں
ان سے بھاگو تو ملیں بندہ¿ ِ عاجز کی طرح
ان کو چاہو تو اچانک سے خدا ہو جائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پےامِ امن
ہر طرف یہ پےام دےنا ہے
امن کا اذنِ عام دےنا ہے
مےرے نزدےک مقصدِ اسلام
رحمتوں کا نظام دےنا ہے

جائے گا جو بھی وہ اللہ کی رحمت کے سبب
کوئی جنت میں نہ جائے گا عبادت کے سبب
اور ہم جیسے گنہگار بھی ہونگے مسلم
بخشے جائےں گے محمد سے محبت کے سبب
(مطلع بخاری شریف کی ایک حدیث کا قریب ترین منظوم مفہوم ہے)

حدیثیں چھوڑ کر کچھ تجھ کو حاصل ہو نہیں سکتا
بنا حبِّ نبی ایمان کامل ہو نہیں سکتا
کہ جو قرآں کو مانے اور منکر ہو حدیثوں
منور نورِ ایمانی سے وہ دل ہو نہیں سکتا

معجزہ ایسا کہ دیکھا ہے جسے صدیوں نے
ےاد رکھتے ہیں جسے پیروجواں آج تلک
چاند پر جاکے خلابازوں نے دیکھا مسلم
ٹوٹ کے جڑنے کے باقی ہیں نشاں آج تلک

یومِ مادر مبارک
معجزہ بے مثال مولا کا
ماں کی ممتا کمال مولا کا
بارہا ماں کو دیکھ کر مسلم
آگیا ہے خیال مولا کا

وہمِ منظر رہا اندھیروں کو
رات بھی ڈر رہا اندھیروں کو
نورِ ذکرِ مدام سے مسلم
دل ہرا کر رہا اندھیروں کو

فیس بک
اب شکایت یہ نہیں کافی زمانہ ہو گیا
©”وال“ پر ہر وقت اپنا آنا جانا ہو گیا
دوستوں سے رات دن ملنا ملانا ہو گیا
فیس بک سے کام اب یہ غائبانہ ہو گیا
”وال©“ = Facebook wall

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیطاں ہے کوئی، نہ کوئی دیوتا ہے
قدروں کا یہاں عجب ہی ماجرا ہے
میدانِ سیاست ہے یہ ، یہاں پہ مسلم
اچھا ہے وہی جو سب سے کم برا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھول کر ساری تفرقہ بازی
صرف اسلام ہی کی بات کریں
کوئی فرقہ نہیں رہے گا تب
آو¿ مہدیؑ کا انتظار کریں

زورِ طغیان ہے سچائی کے عازم کے خلاف
غیر اعلان شدہ جنگ ہے مسلم کے خلاف
بے سبب کیوں یہ کٹہرے میں کھڑا کرتے ہو
کوئی الزام تو عائد کرو ملزم کے خلاف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منت سے، عاجزی سے پگھلتا نہےں ہے اب
ہے مستقل ، پتہ یہ بدلتا نہےں ہے اب
دل میں بسا لیا تھا اسے شوق شوق میں
یہ قبضہ دار گھر سے نکلتا نہےں ہے اب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خراجِ عقیدت برائے مرحوم پروفیسر آفاق احمد
وہ ٹوٹا آج جو آفاق کا روشن ستاراتھا
وجود اس کاخلوصِ بیکراں کا استعارہ تھا
مبرّیٰ ذات تھی جسکی گروہوں کی سیاست سے
ادب کے بحر کا مسلم وہ اک ایسا کنارہ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عےد الاضحی ۔مسلم سلیم
گاو¿ اور بز کی کیوں نمائش ہے
اصل مےں دل کی آزمائش ہے
سب سے محبوب چےز ہے مطلوب
گوشہ¿ِ قلب مےں جو ہے محجوب
عےدِ قرباں پہ تازہ ہو اےمان
آو¿ اپنی انا کرےں قربان

محمد رفےع
کہےں ساےہ کہےں کھلی ہے دھوپ
اےک آواز اور ہزاروں روپ
کوئی نغمہ کسی بھی راگ مےں ہو
انکی آواز نے دےا سوروپ

ہولی
پیار کی آج ہولی میں گھاتیں ہوئیں
خوب رنگوں کی رنگوں سے باتیںہوئیں
راگ اور رنگ کا ایسا سنگم ہوا
رنگ دن بھر اڑے راگ راتیں ہوئیں

عاشق کی عےد
جو آپ کی خاطر ہوئی تنقےد ، مبارک
دو بارہ نہےں ملنے کی تاکےد ، مبارک
دشنام پہ، جھڑکی پہ ہمارا یہ عمل ہے
ہر حال مےں کہتے ہےں یہی، عےد مبارک

نوجوانوں کی عےد
جشنِ الفت کا انتظام کےا
عےد کا اےسے اہتمام کےا
چھت پہ جاتے ہی بس یہ کام کےا
ؑعےد کے چاند کو سلام کےا

پہلے تو اس حسےںکے خےالوں مےں گم رہا
پھر اس کے بعد سب کے سوالوں مےں گم رہا
تشبےہ کس سے دوں اسے کےسے بےاں کروں
بے مثل دلربا کی مثالوں مےں گم رہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمندر نے تسلسل کا عجب چکر چلایا ہے
گیا ہے جس طرف پانی اسی میں لوٹ آیا
وہ چھپنا چاہتا تھا روپ لے کر برف و باراں کا
مگر حاصل ہوا ہے کیا اسی میں جا سمایا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھسلا جو مرے ہاتھ سے وہ دستِ حنائی
اک وعدہ¿ِ فردا بھی کےا وقتِ جدائی
اس نے یہ کہا تم کو بہت ےاد کرےں گے
پھر ےوں بھی ہوا اسکو مری ےاد نہ آئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعر کہتے ہےں جس حسےں کے لئے
سب سے پہلے اسے سناتے ہےں
جب وہ کہہ دے کہ ہاں بہت اچھا
خوب دنےا سے داد پاتے ہےں

نئے آقا ملے ہیں، اتنی بس تقدیر بدلی ہے
غلامی اب بھی باقی ہے فقط زنجیر بدلی ہے
ہمارے ساتھ چھل کرنے کی ہر تدبیر بدلی ہے
کبھی دعدے سے پلٹے ہیں، کبھی تحریر بدلی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نذرِ سرسید
پلائی ہے جو سید نے وہی مے پی رہا ہوں میں
علی گڑھ بولتا ہوں میں، علی گڑھ جی رہا ہوں میں
مشن ان کا بھی تھا خدمت، مہم میری بھی ہے خدمت
انھیں سے درس لے کر چاکِ اردو سی رہا ہوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم اک کرن ہو جو شمےں جلائے رہتی ہے
تم اک خوشی ہوجو دل مےں سمائے رہتی ہے
خبر یہ خوب ہے مسلم کہ دشمنِ جاں ہو
یہ جاں تمہےں سے مگر لو لگائے رہتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نام نہاد دھارمک رہنما
موّدبانہ طرےقے سے بولتے بھی رہے
مگر نظر سے بدن کو ٹٹولتے بھی رہے
نظےرِ فقروقناعت بنے رہے لےکن
بٹن ہوس کے لبادے کے کھولتے بھی رہے

ندا فاضلی مرحوم کو خراجِ عقیدت
جاتے ہیں سب ہی، وہ بھی فنا کی گلی گئے
کرکے جہاں کو ترک ندا فاضلی گئے
فلموں، مشاعروں سے ، رسائل سے ہر طرح
اردو ادب کو دے کے نئی زندگی گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی اب بے سبب ملتا نہےں ہے
وہ آےا ہے تو کوئی کام ہوگا
لبوں پر ےا کوئی فرےاد ہوگی
نہےں تو کچھ نےا الزام ہوگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برما نظر نہےںآتا
عجےب روگ لگا مغربی ممالک کو
جو دےکھتے ہےں وہ پورا نظر نہےں آتا
دکھائی دےتا ہے سب کچھ انھےں زمانے مےں
بس اےک خطّہ¿ِ برما نظر نہےں آتا
جہاں پہ راج ہے چنگےزی بربرےّت کا
کسی کے دل مےں بھی بدھّا نظر نہےں آتا
جہاں مےں فوج کشی کے لئے انھےں لےکن
سوائے مسلمِ خستہ نظر نہےں آتا
برما :© مےانمار
بُدھّا: گوتم بدھ امن کے علم بردار

اےک قطعہ ۔ بےکار سا
کچھ نہ پاےا، مفت کا سودا کےا
لوگ کہتے ہےں یہ ہم نے کےا کےا
تھی یہ اک بے کار سی شئے جسم مےں
دل کسی کو دے دےا اچھا کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت کم لوگ مجھ کو جانتے ہےں
مگر جو جانتے ہےں، مانتے ہےں
مےں ہوں صورت گرِ افکارِ تازہ
یہ سب اچھی طرح پہچانتے ہےں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہنامہ امکان کی نذر
ماےوسےوں کے دور مےں امےد کا نقےب
مژدہ سنا رہا ہے انھےں جو ہےں فکرمند
حق گوئی، حق پرستی ©کا ”امکان“ ہے ابھی
ہوتی ہے لکھنﺅ سے یہ آوازِ حق بلند

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الفت سے انھےں سخت عداوت ہے تو بس ہے
ہم کو بھی مگران سے محبت ہے تو بس ہے
روٹھے ہےں کچھ اےسے کہ منائے نہےں منتے
بے وجہ انھےں ہم سے شکاےت ہے تو بس ہے

(اےک فےس بک دوست کی تسلی کے لےے فی البدےہہ آن لائن
دعا یہ ہے کہ تری زندگی اداس نہ ہو
مسرتےں ہی ملےں،تو کبھی اداس نہ ہو
ہر دن کے مقدر مےں رات ہوتی ہے
جو ہو گےا سو ہوا، روشنی اداس نہ ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(فےس بک پر اپنی پوسٹ پر اےک دوست کا
معاندانہ تبصرہ دےکھ کر)
دشمنی خوب کرے گا یہ پتہ تھا لےکن
ہاتھ دشمن سے ملا لے گا یہ معلوم نہ تھا
پہلے رنجےدہ تھا مسلم سحروشام مگر
اسکی ےادوں کے سبب اتنا بھی مغموم نہ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حافظ شیرازی کے شعر پر تضمین
صلحِ کُل سے کام لے دامن رواداری کا تھام
اس زمانے میںقیامِ امن ہے مسلم کا کام
©”حافظا گر وصل خواہی صلح کُن با خاص و عام
با مسلماں اللہ اللہ، با برہمن رام رام “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریب پھر کوئی خواب دے گا
دکھا کے گلشن سراب دے گا
حقیقتوں سے نظر نہ پھیرو
عمل ہی بس آب و تاب دے گا

سیاسی مشروم
یہ وہ ہیں کہ بس قوم ہی خوراک ہے ان کی
ہم ان کے سبب دہر ہم محروم بہت ہیں
جن کی نہ جڑیں ہیں نہ ہرے جنکے ہیں پتّے
امّت کی ہر شاخ پہ مشروم بہت ہیں

تین مسلسل قطعات
مجھے اس کے بارے میں سب کچھ پتا ہے
مگرکیا کروں دل اسی پر فدا ہے
زمانے کی نظروں مےں کچھ اور ہے وہ
وہ مےری نظر مےں کوئی دوسرا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چلا میں ا±دھر ، تو جدھر چل دیا ہے
ترا راستہ ہی مرا راستہ ہے
ہو محبوب کیسا بھی ا±س سے نبھانا
یہی ہے محبت یہی تو وفا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پسِ پردہ کیا ہے ہمیں کیا پتا ہے
خدا دیکھتا ہے خدا جانتا ہے
خدا کے بھروسے پہ ہم چل رہے ہیں
اگرچہ یہ پر پیچ سا راستہ ہے

خوش فہموں کے نام
کچھ اےسے لوگ جو خود کو خدا سمجھتے ہےں
زمانے والے انھےں سر پھرا سمجھتے ہےں
سوال یہ نہےں تم خود کو کےا سمجھتے ہو
سوال یہ ہے تمہےں لوگ کےا سمجھتے ہےں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزماتے کچھ تو مےری آرزو کا سلسلہ
ےک بےک کےوں توڑ ڈالا گفتگو کا سلسلہ
بارہا بدلی ہےں راہیں، ہاں قدم جب بھی اٹھے
تم پہ ہی جا کے رکا ہے جستجو کا سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وےلنٹائن ڈے پر
جب عشقِ سرمدی مےں گذرتے ہوں ماہ و سال
ہر روز روزِ عشق ہے ہر شب شبِ وصال
مخصوص دن ہی کےوں کرےں اظہارِ حالِ دل
باقی دنوں مےں کےا نہےں محبوب کا خےال؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعری کا تاج محل
عظےم اےسی عمارت بنا نہ پاو¿ں گا
مےں کوئی شاہجہاں تو نہےں ہوں جانِ غزل
مگر یہ شعر جو مےں نے کہاہے تےرے لےے
کہےں گے لوگ اسے شاعری کا تاج محل

عزت بنام محبت
وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور اسکو عزت کہتا ہے
مےں اسکو عزت دےتا ہوں اور اسکو محبت کہتا ہوں
کےسے بھی کہو، کےسے بھی سنو، ہے بات دلوں کے ملنے کی
کچھ وہ بھی حقےقت کہتا ہے، کچھ مےں بھی حقےقت کہتا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور کا پےکر ہے مرا ےار
مت کہئے کہ اک ماہِ منور ہے مرا ےار
بے مثل ہے وہ، نور کا پےکر ہے مرا ےار
ہر شے¿ مےں وہی اب تو نظر آتاہے مسلم
آنکھوںمےں جواترا ہے وہ منظر ہے مرا ےار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہہ چکے آپ بہت، کہےے تو بولےں اب کچھ
اےک ہی وقت مےں ملتانہےں سب کو سب کچھ
ٹکٹکی باندھ کے بس آپ کودےکھا ہی تو تھا
آپ کےوں روٹھ گئے ہم نے کہا ہے کب کچھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کو ہی روز دیکھیں، تمھیں سے ہو گفتگو
افسوس یہ سپاہ بھی زیرِ کماں نہیں
اس پر بھی راج چلتا ہے تحت الشعور کا
اقلیمِ خواب کے بھی تو ہم حکمراں نہیں

پھر اسکے بعد اور کہےں کم گئی نگاہ
جلوہ تھا بے پناہ ، وہےں جم گئی نگاہ
اب ختم ساری دےد کی آوارہ گردےاں
اک منزلِ مراد پہ جب تھم گئی نگاہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مےری کوئی خطا نہےں تھی مگر
زندگی سے نکل گےا ہے کوئی
جےسے پکڑی تھی رےت مٹھی مےں
ہاتھ سے ےوں پھسل گےا ہے کوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہِ رمضاں
پھر ہو گےا ہے ہم کو دےدارِ ماہِ رمضاں
اترےں گے خوب دل پر انوارِ ماہِ رمضاں
اس ماہ مےں جو سےکھےں ، دہرائےں پھر اسی کو
اے کاش سال بھر ہو کردارِ ماہِ رمضاں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں وہی جس سے مہکتے تھے کبھی شام و سحر
اسی خوشبو کو سرک جاتے ہوئے دیکھا ہے
آپ کو پھول کے مرجھانے پہ حیرت کےوں ہے
ہم نے رشتوں کو بھی مرجھاتے ہوئے دیکھا ہے

چل پڑا تھا کسی کے ساتھ مگر
چلتے چلتے مجھے خےال آےا
دور تک کوئی بھی نہ تھا مسلم
تھا اگر کوئی تو مرا سایہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذہن کے نہاں خانے کب انھیں بھلاتے ہیں
ہم شعوری کوشش سے جن کو بھول جاتے ہیں
کچھ تو ان میں تھا ایسا جس کی ہے کسک مسلم
بے وفائی کے پیکر اب بھی ےاد آتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہدیہ¿ِ خلوص برائے محمد نسیم، بھوپال
سچ ہے کہ تری ذات ہے زیبائشِ بھوپال
سر خم ہے ترے سامنے اے نازشِ بھوپال
اخلاصِ مجسم ہے، تمدن کا امیں ہے
تجھ جیسے ہی لوگوں سے تو ہے تابشِ بھوپال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہدیہ¿ِ خلوص برائے شاعر مظفر طالب
حسنِ اخلاق کی پہچان مظفر طالب
شہرِ بھوپال کی ہیں شان مظفر طالب
شعر گوئی میں بھی یکتا ہے بہت ان کا مقام
ہے اگر جسم سخن، جان مظفر طالب

الفاظ ادا ہوتے نہےں نطقِ وفا سے
شرےانوں مےں سناٹاہے ےوں اس کی دغا سے
دےکھا تو کسی اور کے آنگن مےں تھی رم جھم
ساون کا ستم دےکھئے ہم رہ گئے پےاسے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو کبھی مذموم تھے لوگ ان کے شائق ہو گئے
داغ تھا جن پر وہ ممدوحِ خلائق ہو گئے
جھوٹ کی بیساکھیوں کے بل پہ مسلم آج کل
جتنے نا لائق زمانے میں تھے لائق ہو گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انصاف کا نہ حقّ و صداقت کا فیصلہ
ہوگا عجیب و طرفہ حماقت کا فیصلہ
پھر ہر دراز قد کو پکاریں گے پستہ قد
بونے کریں گے جب قدوقامت کا فیصلہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاےا نہ کوئی ہمسر، خود سے مقابلہ ہے
ہے یہ عجیب منظر، خود سے مقابلہ ہے
کرنا مزید بہتر، خود سے مقابلہ ہے
مسلم زرا سنبھل کر، خود سے مقابلہ ہے

ہیرے موتی بھی چن کر کیا کرنا ہے
یہ ہیں سب کنکر پتھر کیا کرنا ہے
سجنا ہے تو اپنے ہنر کو چمکاو¿
سوچو یہ کل سے بہتر کیا کرنا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دشتِ خرد کی خاک یہ کیوں چھاننے لگے
کیوں شب کو شب سحر کو سحر جاننے لگے
غفلت میں کٹ رہی تھی خوشی سے یہ زندگی
یہ کےا ہوا کہ ہم اسے پہچاننے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابر الفت کا جب بھی نمودار ہو
بوندا باندی نہیں موسلا دھار ہو
ساری دنیا پہ الفت کے چھینٹیں پڑیں
جس طرف دیکھئے پیار ہی پیار ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بھی کام ہو ممکن ہو یا ہو نا ممکن
بس ایک نام لیا اور ہو گیا ممکن
جہاں تھی آندھی وہاں اب ہوئی صبا ممکن
ہے اسکے بس میں جو چاہے کرے خدا ممکن

جہاں میں پھرتے ہیں لیکن ادھر نہیں آتے
بس اس گلی میں کبھی بھول کر نہیں آتے
یہ کیسا عارضہ¿ِ چشم ہے کہ سب تو دِکھیں
بس ایک ہم ہیں جو ان کو نظر نہیں آتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طویل عمرمیں مرمر کے اس جہاں میں جیا
خود اپنے سائے سے ڈر ڈر کے اس جہاں میں جیا
تڑپتے رہ گئے راحت کو اس کے روح و بدن
بنا ضمیر، بنا سر کے اس جہاں میں جیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری شاعری کس کے لےے؟
کوئی خلوص و محبت کا داغ ہے تو سنو
تمھارے پاس بھی دل کا سراغ ہے تو سنو
شعوروفکر کا رہبر چراغ ہے تو سنو
ہماری شاعری، روشن دماغ ہے تو سنو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیا حوصلہ، نئی اڑان
قفس سے چھوٹ گئے کیوں نہ مسکرائیں ہم
نئی اڑان کے منصوبے پھر بنائیں ہم
خزاں کا مرثیہ پڑھنے سے فائدہ کیا ہے
چلو چلو کہ نئے بال و پر اگائیں ہم

سازشی تھے، ہیں اب فسردہ لوگ
میرے ہاتھوں شکست خوردہ لوگ
جسم قتلِ ضمیر سے بوجھل
زندہ ہو کر بھی ہیں یہ مردہ لوگ

انگریزی ااخبارنیشنل میل کے ساتھی جناب صغیر بیدار کے سانحہ¿ِ ارتحال پر
ساتھی مرے، صحافی¿ِ بیدار تھے صغیر
سب کی مدد کے واسطے تیارتھے صغیر
میکیپ سے جلائی تھی اک شمعِ آگہی
بے لوث ایک قوم کے معمار تھے صغیر
جناب صغیر بیدارمرحوم نے میرے ساتھ انگریزی ااخبارنیشنل میل طویل عرصہ تک کام کیا۔ بعد میں استعفیٰ دے کر قوم کی تعیر کے لئے ادارہ ”مسلم ایجوکیشن پروموشن سوسائٹی(میکیپ) قائم کی۔ اس ادارے کی کوششوں کے سبب مدھیہ پردیش میں مسلم طلبہ نے امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

مفرداشعار

ملا تھا نور، نوری سے جنھیںنبےوں کا سب سرتاج کہتے ہیں
اجالے لے کے جو آئی ہم اس شب کو شبِ معراج کہتے ہیں

کچھ ایسے شرک کے فتووں کو رد اللہ کرتا ہے
پکارو مصطفی کو تو مدد اللہ کرتا ہے

بفیضِ اولیا وہ انبیا کے تاج تک پہنچا
ہے یہ معراج دل کی صاحبِ معراج تک پہنچا

جہنم بغض، جنت ہے محبت
علیؑ ایمان کا میزان ٹھہرے

کثرتِ علم سے کم ظرف بہک جاتا ہے
اصل ایماں بھی اسے شرک نظرآتا ہے

گالی ہی سہی لب کھولے تو
ہے شکرِ خدا کچھ بولے تو

عشق کی ہر موسم میں چاندی ہوتی رہے
پیار کی یونہی بوندا باندی ہوتی رہے

عید
یہ تو رفاہِ عام کا روزِ سعید ہے
چاہو بھلا سبھی کا یہی جشنِ عید ہے

دیتا ہے جو سبھی کو اکیلاخدا ہی ہے
داتا کوئی بھی ہاتھ ہو دیتا خدا ہی ہے

بچھڑنے کا اس اے ہمےں غم بہت ہے
سنا ہے مگر وقت مرہم بہت ہے

محسن کشوں کے خوف مےں ےوں مبتلا ہوں مےں
احسان کرکے دور کھڑا ہو گےا ہوں مےں

اے جانِ جہاں اسکی یہ فطرت ہی نہےں ہے
مشروط اگر ہے تو محبت ہی نہےں ہے

تری ہی مہربانی تھی کہ تجھ مےں کھو گےا تھا مےں
تری ہی مہربانی ہے کہ خود مےں لوٹ آےا ہوں

جب تجزیہ کےا کہ وہ کےوں مجھ سے دور ہے
پاےا کہ اس مےں میری انا کا قصور ہے
آسماں پر ہےں ہمےں اےسا لگا
آپ گھر آئے بہت اچھا لگا

گوروں کی بستی مےں گورے، کالوںکی بستی مےں کالے
بستی بستی گھوم رہے ہےں گرگٹ رنگ بدلنے والے

تحفہ جہاں چھپا تھا ہمارے نصےب کا
پہنچے وہاں پہ ہاتھ پکڑ کر رقےب کا

مےری کوشش تو ہو گئی ناکام
تو دعا کر کہ بھول جاو¿ں تجھے

جو خطا کی ہے کبھی اےسی خطا مت کرنا
قتل کر دےنا مگر قتل وفا مت کرنا

اب اس سے بڑھ کے مسرت کی بات ہی کےاہے
خوشی یہ پوچھ رہی ہے ہمےں خوشی کےا ہے

اس سے خود ڈر رہا ہے آدمخور
آدمی ہو گےا ہے آدمخور
زور چلتا نہیں ہواو¿ں پر
منحصر ہو گئے دعاو¿ں پر

یکم مئی ۷۱۰۲کے
بعدکے اشعار

ادھر بھی تم ہو، اُدھر بھی تم ہو، یہاں بھی تم ہو وہاں بھی تم ہو
جہانِ دل کا عجب ہے عالم،یقیں بھی تم ہو گماں بھی تم ہو
تمھیں ہو ناظر تمھیں ہو منظر، بیاں ہوئی داستاں بھی تم ہو
سرائے کی شوخ نازنیں بھی،رکا ہوا کارواں بھی تم ہو
چھپا کے رکّھا ہے تم و دل میںہمارا رازِ نہاں بھی تم ہو
مگر کریں وحشتوں کا کیا ہم،بنا کہے کچھ بیاں بھی تم ہو
یہ امتزاجِ حسین مسلم،جو تم میں دیکھا کہیں نہ پایا
روایتوں کے ہو تم محافظ، جدید طرزِبیاں بھی تم ہو

عشق کاپیکان سوچا جا رہا ہے
دل میں ہے طوفان سوچا جا رہا ہے
ان کے آنے کی خبر کیا مل گئی
آج ہر ارمان سوچا جا رہا ہے
ؒخونِ نا حق کا بہانہ چاہئے
قتل کا فرمان سوچا جا رہا ہے
ان دنوں دلہن کے چہرے کو نہیں
ساتھ کا سامان سوچا جا رہا ہے
ارض پر وہ بھی تھی مخلوقِ خدا
حلیہ¿ِ انسان سوچا جا رہا ہے

وجہِ ناراضگی کیا ہے ےارو، کھل کے وہ کچھ بتاتے نہیں ہیں
بجتی رہتی ہے گھنٹی مسلسل، فون بھی اب اٹھاتے نہیں ہیں
اب وہ لائک بھی کرتے نہیں ہیں ، کچھ کمنٹ ان کے آتے نہیں ہیں
کیاہوا اب کہ اشعار میرے ان کا دل گدگداتے نہیں ہیں
گر نہ ہو کام کوئی کسی سے، اس کو اپنابناتے نہیں ہیں
سوچا سمجھا ہے ہر کام ان کا، بے سبب مسکراتے نہیں ہیں
یہ گواہی چمن دے رہا ہے، آپ کیوں مان جاتے نہیں ہیں
زور پر جب پرندے جواں ہوں، کون سا گل کھلاتے نہیں ہیں
دورِ حاضر میں بے کار شئے ہے، سوگ اسکا مناتے نہیں ہیں
دل کا شیشہ ہی ٹوٹا ہے مسلم، شوراتنا مچاتے نہیں ہیں

بھول کروہ ہمارا بڑکپن، خودکواونچا سمجھنے لگاہے
ہم نے جس کوبڑا کہہ دیا ہے، ہم کو چھوٹا سمجھنے لگاہے
بے وفا کی وفا یاد کرکے وجہ تھی کیا سمجھنے لگاہے
دل ہے ہمرازِ آئینِ فطرت، رسمِ دنیا سمجھنے لگاہے
منہ کی کھائے گا اک دن یقینا گر وہ ایسا سمجھنے لگاہے
ہم کھلاڑی ہیں نادان دشمن ہم کو مہرہ سمجھنے لگاہے
سوچ لیتا جوپہلے نتیجہ بچ نکلتاکئی سانحوں سے
سانحوں سے گذر کر زمانہ اب نتیجہ سمجھنے لگاہے
جس کوآنا ہے میداں میں آئے، ایسے پردے میں منہ مت چھپائے
جھیل کر مار کھیلوں کی مسلم ہر تماشا سمجھنے لگاہے

ہوں بہت خوش جب سے مجھ پر راز یہ افشا ہوا
سب خدا کی مصلحت تھی، جو ہوا اچھا ہوا
رحمتِ رب کا مجھے تب خوب اندازہ ہوا
کوئی کھڑکی کھل گئی گر بند دروازہ ہوا
کر گیا پوشیدہ سب، جذبات کا پردہ ہوا
ایک آنسورہ گیا پلکوں پہ جو ٹھہرا ہوا
میںعجب تیراک ہوں سب ہے مرا دیکھا ہوا
جوبھی سطحِ آب پر جو کچھ تہہِ دریا ہوا
جب کبھی آزار کا دنیا سے اندیشہ ہوا
خودمیں مسلم چھپ کے میں نظروں سے پوشیدہ ہوا

ظاہرتو دکھ رہا ہے ہوا کس کے ساتھ ہے
اب دیکھنا یہ ہے کہ خداکس کے ساتھ ہے
کیسے سیاسی شخص کا کردار طے کریں
دم بھر رہا ہے کس کا، کھڑاکس کے ساتھ ہے
سب کو خبر ہے جال بچھایا تمھیں نے ہے
لیکن بتاو¿ جال بُناکس کے ساتھ ہے
تاریکیو! سنبھلنا کہ اب آرہا ہوں میں
دیکھو یہ ذوالفقارِ ضیا کس کے ساتھ ہے
مسلم،کہ جس کے آپ پہ احسان ہیں بہت
کچھ سوچئے یہ طرزِ جفا کس کے ساتھ ہے

ہرگز ایساکھیل نہ کھیلو، دیکھو دیکھو جل جاو¿گے
الٹے پیروںآگ چلے گی گرچنگاری بھڑکاو¿گے
وار ہمارا ایسا ہوگا جیتے جی ہی مر جاو¿گے
اٹھتے بیٹھتے روتے گاتے زخموں کو سہلاو¿گے
کےا تھی خبر کہ دیکھ کے تم کو اور نہیں کچھ سوجھے گا
آنکھوں کے آگے ہر دم تم سایہ بن کر لہراو¿گے
بڑے ہوئے تو کار کھلونے والی کام نہ آئے گی
بچّے! کب تک کاغذ کی کشتی یونہی تیراو¿گے
صحرا صحرا گھومو تم بھی چمن چمن کی سیر کرو
مسلم سے کچھ سیکھو بیشک تم بھی شاعر بن جاو¿گے

یوں میری تشنگی کو تماشا بنادیا
کاغذ پہ اس نے منظرِ دریا بنادیا
سورج کی کیا مجال تھی، ہم ہی تھے رحمدل
خود ہم نے ریگراز پہ سایہ بنادیا
جذبوں کی آگ تیز ہوئی ، تیز تر ہوئی
دہکا کے ہم نے سنگ کو شیشہ بنادیا
دِکھتی ہیں جس میں صاف لکیریں نفاق کی
مسلم حکومتوں کا یہ نقشہ بنادیا
مسلم کو تلخ گوئی سے کچھ واسطہ نہ تھا
کچھ حادثوں نے اسکا یہ لہجہ بنادیا

ماں اور خدا
نہ آدم کی ماں تھی نہ حوا کی ماں تھی
بتائے کوئی پھر کہ ممتا کہاں تھی
کرو شکر رب کا کہ ماں کو بنایا
جہاں میںہے ہرشخص اب ماں کا جایا
اسی کے توسط سے رب کی عطا ہے
خدا کی محبت کا وہ آئینہ ہے
یہ نعمت ملی ہے ہمیں بھی تمھیں بھی
یہ سوچو کہ کیا قدر بھی اس کی کچھ کی؟
چڑھے بامِ شہرت پہ اشعار کہہ کر
بھنایا ہے ممتا کو یوں تم نے اکثر

دوست احد پرکاش کی بیٹیوںکے نام
گھر سے باہر بھی منور ہو گئیں
بیٹیاں بیٹوں سے بڑھ کر ہو گئیں
اُن کی بھی تقدیر چمکی دم بدم
زیست میں جن کا مقدر ہو گئیں
ہیںمثالی کارنامے، کیا کہوں
کامیابی کا یہ پیکر ہو گئیں
ہے دعا مسلم رہیں آبادوشاد
یہ جو لڑکوں کی بھی رہبر ہو گئیں

ذہینہ صدیقی نئی دہلی کی پوسٹ سے متاثر ہو کرمسلم سلیم پر
وقار احمد وقار (جونپور ) کے تاثرات
سچ کا ہی اعلان ہیں مسلم سلیم ۔۔۔ صاحبِ ایمان ہیں مسلم سلیم
ظاہروباطن ہےں ان کے ایک سے ۔۔ صاف دل انسان ہیں مسلم سلیم
علم و عرفان و ادب کے ملک میں ۔۔۔ بے شبہ سلطان ہیں مسلم سلیم
خواب میں بھی شعر کہہ لیتے ہیں جو ۔۔۔ شاعرِعرفان ہیں مسلم سلیم
اپنے اخبار و رسائل کے لئے ۔۔۔ آنکھ ، ناک اور کان ہیں مسلم سلیم
ٹیڑھے لوگوں کے لئے مشکل ترین ۔۔ سیدھے کو آسان ہیں مسلم سلیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاروں بھرے رستے کو کمخاب بنا دے گا
اللہ مسبّب ہے،اسباب بنا دے گا
تیرے لےے سب دلکش القاب بنا دے گا
تیرایہ ہنر تجھ کو نایاب بنا دے گا
یہ نغمہ زمانے کوبیتاب بنا دے گا
تم سازبناو¿، وہ مضراب بنا دے گا
ہے چور اگر افسر، کاغذ پہ رجسٹر میں
سوکھے ہوئے گڈّھے کو تالاب بنا دے گا
اردومیںہے گر دقّت، مسلم سے پڑھو جاکر
لو ُلفظ ہے یا لَو ´ ہے اعراب بنا دے گا
وہ شوخ گل اندام ہے، نازک ہے بدن بھی
چبھ جاتی ہے اکثر اسے بستر کی شکن بھی
وہ لالہ¿ و گل، سنبل و نرگس بھی ، سمن بھی
وہ جسمِ چمن، بوئے چمن، روحِ چمن بھی
صحرا بھی مہک جاتے ہیں، کھِل اٹھتے ہیں بن بھی
تکتا ہے اسے رشک سے خود باغِ عدن بھی
آزادی کے احساس پہ طاری ہے گھٹن بھی
اس موڑ پہ آپہنچا ہے اب میرا وطن بھی
اشعار میں مسلم کے ہیںسب رنگ نظارے
چسکا ہے زباں کا بھی یہاں فکر بھی فن بھی

آدمیّت بہت کراہی ہے
کیسا یہ دور یا الٰہی ہے
قطع
جرم ہےں سارے اپنے کھاتے میں
ان سے حصے میں بے گناہی ہے
امن کی بات کر رہے ہیں وہ
جن کے باعث یہ سب تباہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک زرا بخت کو چمکنے دو
دیکھنا پھر کہاں سیاہی ہے
جیت رکّھا ہے جس نے ایک جہاں
دل وہ ہارا ہوا سپاہی ہے
کچھ نہیں رازِ عظمتِ مسلم
یہ تو دنیا کی خوش نگاہی ہے

جوڑ گھٹانا پیار نہیں ہے
جیون دو دو چار نہیں ہے
اپنوں پر تو وار ہے لیکن
دشمن پر یلغار نہیں ہے
پُرکھوں کی تلوار ہے گھر میں
لیکن اس پر دھار نہیں ہے
کاٹ ہے اس کی اور زیادہ
یہ ہے قلم تلوار نہیں ہے
ناخن، بال پہ کب ہے قابو
انساں خودمختار نہیں ہے
اسمیں سکوں ہے اسمیں وفاہے
یہ گھرہے بازار نہیں ہے
کارگہِ قدرت میں مسلم
کوئی بھی شے¿ بیکار نہیں ہے

اُسی کے ساتھ خوشی کے سحاب میں اترا
جو اک خیال شبِ اضطراب میں اترا
میںنکتہ چینوںکے ایسے جواب میں اترا
کہ درسگاہوں کے اعلیٰ نصاب میں اترا
پری نہ آئی کبھی سامنے حقیقت میں
اڑن کھٹولا ہمیشہ ہی خواب میں اترا
اڑان بھر لی مگر یہ بھی سوچ کیا ہوگا
ترا جہاز اگر آفتاب میں اترا
خدا کو ماننے والا تھا منکرِ آدم
ثواب جاتے رہے سب، عتاب میں اترا
بنا کشید کے دوآتشہ بنا مسلم
کسی کا عکس جو اک روز آب میں اترا

تہ بہ تہ آواز در آواز ہے
میری خاموشی وہ گہرا راز ہے
پست اس کے سامنے آواز ہے
کیا کروں میں وہ مرا ہمراز ہے
اُس بلندی سے میں بھرتا ہوں اڑان
غیر کی جتنی حدِ پرواز ہے
ایک جیسے ہو نہیں سکتے ہیں سب
حسنِ قدرت کا یہ اک انداز ہے
تان اور لے صفحہ¿ِ قرطاس پر
دل میں جو اترے غزل وہ ساز
اس کو لوگوں کی حمایت مل گئی
کل تلک جو زاغ تھا اب باز ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوابی حملے کے خنجر سنبھال کر رکھنا
جو گھر میںآئیں وہ پتھر سنبھال کر رکھنا
جو دلنشیں ہیں وہ منظر سنبھال کر رکھنا
کہاں نصیب مقدر سنبھال کر رکھنا
بھرا جو زخم توپھر زخم کھانے آئیں گے
جو سب سے تیز ہو نشترسنبھال کر رکھنا
کوئی بتائے کہ یہ کوئی ہوشیاری ہے؟
بہانا مے کو پہ ساغر سنبھال کر رکھنا
نہ رکھناکھول کے دل کو یوں ہر جگہ مسلم
اسے تو سینے کے اندر سنبھال کر رکھنا

اک چھلکتا ہوا ساغر مری آنکھوں میں رہا
عمر بھر بس ترا منظر مری آنکھوں میں رہا
تھا کوئی ایسا جسے بھولنا ممکن ہی نہ تھا
ہو کے اوجھل بھی برابر مری آنکھوں میں رہا
ضبطِ غم ایسا کہ اک بوند بھی چھلکی نہ کبھی
یوں تو کہنے کو سمندر مری آنکھوں میں رہا
جاگنے سونے میں کچھ فرق ہی باقی نہ بچا
رات دن خواب کا پیکرمری آنکھوں میں رہا
جتنے وقفے وہ رہا سامنے میرے مسلم
اتنے وقفے دلِ مضطرمری آنکھوں میں رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نصیب تو سارا آسماں ہے
زمیں کا اس میں گذر کہاں ہے
دلیری دل، حوصلہ زبان ہے
ہو عمر کچھ بھی وہی جواں ہے
ہے ذکر اس کا مرا بیاںہے
تبھی تو مقبول داستاں ہے
قدم جنوں کے اگر اٹھے تو
بہت ہی محدود یہ جہاں ہے
خدا کرے آئیں ڈھونڈتے خود
کہ مسلمِ خستہ جاں کہاں ہے

کتنی موجیں کتنا ساحل طے کر لو
قسمت پر مت بیٹھو منزل طے کر لو
چل کر دیکھو پیار کا رستہ کیسا ہے
کتنا آساں کتنا مشکل طے کر لو
ڈیموکریسی کا مطلب یہ ہوتا ہے
مرضی سے خود اپنا قاتل طے کر لو
دشتِ جنوں کی سیر پہ جب تم نکلو گے
عقل بنے گی رہبر یا دل طے کر لو
ننھے مُنّوں سے اب دنیا کہتی ہے
بچپن ہی سے اپنا حاصل طے کر لو
دنیا والو سن لو مسلم جیتے گا
اس کے لےے تم کوئی بھی مشکل طے کر لو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غلام و شاہ و بیگم اور اکّے کھول دیتے ہیں
بہت نادان ہیں جو سا رے پتّے کھول دیتے ہیں
ہوئے ہوں گھر کے اندر جو تماشے کھول دیتے ہیں
گلی میں جا کے سب کچھ گھر کے بچّے کھول دیتے ہیں
حساب ان سے اگر مانگو، بہت چالاک ہیں حاکم
ترقّی کو بھلا دیتے ہیں، دنگے کھول دیتے ہیں
اُدھر بھی آگ الفت کی لگی ہے ورنہ کیوں آخر
گلی سے جب بھی ہم گذریں جھروکے کھول دیتے ہیں
چھپا کچھ بھی نہیں مسلم زمانہ آگیا ایسا
حسیں اپنے بدن کے سارے جلوے کھول دیتے ہیں

یہ جینے کی گذرگاہیں بہت ہیں
محبت بس تری باہیں بہت ہیں
اگر ناقص ہو قوّت فیصلے کی
بھٹکنے کے لےے راہیں بہت ہیں
مری عظمت کے قصّوں پر نہ جانا
مرے بارے میں افواہیں بہت ہیں
محبت میں یہ حالت ہے دہن کی
سکوں کی سانس کم آہیں بہت ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ورق ماضی کے الٹوں گا میں ڈھوندوں گا گلی تیری
بہت دیکھی ہوئی سی شکل ہے اے اجنبی تیری
ہزاروں دشمنوں کی دشمنی ہے دوستی تیری
ہے سب منظور جس کے منہ لگی ہو چاشنی تیری
کلی نوخیز ہو جاناں کہ کوئی نوشگفتہ گل
نہ پائی تیری صورت اور نہ پائی تازگی تیری
خدا کے بعد پیچیدہ تریں ادراک ہے تیرا
کسی پر کب حقیقت صنفِ نازک کھل سکی تیری
بھنور میں پھنس گیا مسلم تو اب تو ہی سنبھال اسکو
بہت ہی تند اور گہری ہے الفت کی ندی تیری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضرور کرنا، کہا کب کہ پےار مت کرنا
مگر ہماری طرح بے شمار مت کرنا
بنے ہو دوست سے دشمن چلو مبارک ہو
کھلاہے کھیل تو اب چھپ کے وار مت کرنا
تمھارے فن کویہ دیمک سی چاٹ جائیںگی
یہ شہرتیں ، انھیںخود پر سوار مت کرنا
ہے زخم کافی بس اک نامراد الفت کا
جو بھول کی ہے اسے بار بارمت کرنا
خدا کے نام سے تم ہوگے سرخرو مسلم
کسی مدد کے لےے انتظار مت کرنا

ذہنِ دشمن اس کا مقتل ہو گیا
وہ مری شہرت سے پاگل ہو گیا
اس سے بڑھ کر اور اجلا کون ہے
جو تری آنکھوں کا کاجل ہو گیا
ےار کے کوچے میں اب برسے گا وہ
تھا غبارِ دل جو بادل ہوگیا
جو غزل لکّھی ہے تیرے نام کی
اس کا اک اک لفظ صندل ہو گیا
مسلماس کا حسنِ کامل دیکھ کر
دل توآخر دل ہے بیکل ہو گیا

پارکھی نگاہوں کے سامنے یہ منظر ہے
ذرّے میں زمانہ ہے بوند میںسمندر ہے
ہیں تراش کے جلوے کون کس سے بہتر ہے
جسکو کہتے ہیں ہیرا وہ بھی ایک پتھر ہے
لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، ساتھ میں پرنٹر ہے
خواب گاہ بھی میری جیسے کوئی دفتر ہے
چھاو¿ںہے درودوںکی،آگ ہے گناہوں کی
یہ ہمارامحشر ہے، وہ تمھارا محشر ہے
کہتا ہے زمانہ بھی، لکھتی ہیں کتابیں بھی
شعرِ فکروحکمت کامسلم آج محور ہے

پرانے بام و در ڈھونڈا کےے ہم
نئے گھر میں وہ گھر ڈھونڈا کےے ہم
ہزاروں ساتھ رہ میں چل رہے تھے
تو پھر کیوں ہمسفر ڈھونڈا کےے ہم
فقط دیکھے نہیں، پہچانتی ہو
نظاروں میں نظر ڈھونڈا کےے ہم
عمل کو طاقِ نسیاں میں چھپا کر
دعاو¿ں میں اثر ڈھونڈا کےے ہم
فروکش تھا دلِ مسلم میں وہ تو
سماءو بحر و بر ڈھونڈا کےے ہم

جہاں نے ساری توانائی خرچ کر ڈالی
ہمیں مٹانے میں دارائی خرچ کر ڈالی
منائیں گے غمِ جانانہ بھیڑ میں جاکر
کہ اب تو ساری ہی تنہائی خرچ کر ڈالی
پھر آنکھ میچ کے ایمان لے ہی آئے ہم
نہ پایا آپ سا، بینائی خرچ کر ڈالی
لبھا نہ پائی یہ دنیا، حسینہ¿ِ عیّار
ہراک ادا،ہر اک انگڑائی خرچ کر ڈالی
یقین اٹھ گیا مسلم کا اب تو رہبر سے
کہ اس نے جھوٹ پہ سچائی خرچ کر ڈالی

دولت نہ تخت وتاج نہ شہزادی چاہئے
ہم کو تو صرف خوف سے آزادی چاہئے
بدلے ہزاروں سال کے لیتے نہ ہوں جہاں
سلجھی ہوئی عوام کی آبادی چاہئے
منزل کی جستجو میں ہے گر عزمِ آہنی
خطرے ہیں ہر قدم ، دلِ فولادی چاہئے
منصف کو ہیں پسند مری گڑگڑاہٹیں
ظالم کو استغاثہ¿ِ فریادی چاہئے
مسلم یہ پوچھتا ہے فسادی ۔مزاج سے
کیا تجھکو اپنے ملک کی بربادی چاہئے

تا حدِّ نظر عشق کے زندان میں اترے
اللہ یہ ہم کیسے بیابان میں اترے
دلدارتھے،اس شان سے میدان میں اترے
طوفان نہیں، ہم دلِ طوفان میں اترے
اوروںپہ اچھالا نہ کرے سنگِ ملامت
کچھ شرم اگراس کے گریبان میں اترے
جب بزم میںانسان کی عظمت کی چلی بات
کیا کیا نہ بہانے دلِ شیطان میں اترے
ہرایک کوجاں کہنے کے قائل نہیں مسلم
وہ جان ہے جو جان مری جان میں اترے

سائے آتے ہیں سائے جاتے ہیں
آدمی کم ہی پائے جاتے ہیں
ہم اِدھر زخم کھائے جاتے ہیں
وہ اُدھر مسکرائے جاتے ہیں
قتل و غارت ، فریب کے قصے
شان سے اب سنائے جاتے ہیں
رہنما کی قبا پہ داغِ لہو
جیسے تمغے سجائے جاتے ہیں
کیونکہ مسلم ہیں ہم اسی کے سبب
سارے فتنے اٹھائے جاتے ہیں

قسمیں وعدے پیار وفائیں
کہئے تو کچھ یاد دلائیں
کتے بھونکیں اور غرّائیں
منزل تک ہم چلتے جائیں
دِل میں خود کو دہراتے ہیں
وہ بھولا، ہم بھول نہ جائیں
کب اور کس کو وہ پھل دے گا
یہ مت سوچیں، پیڑ لگائیں
مسلم کا کردار نہیں یہ
پشت میں خنجر، لب پہ دعائیں

میسر یاد کا ہے شامیانہ
مجھے لگتا ہے ہر موسم سہانا
گنوا کر دل دلوں کو جیت پانا
مرا سب سے بڑا ہے کارنامہ
اسے کب یاد آیا یاد کرنا
مجھے کب یاد آیا بھول جانا
وہ مجرم ہم کو ٹھہرا کر رہیں گے
انھیں بس چاہئے کوئی بہانہ
یہی بس مشغلہ ہے اب تو مسلم
لکیریں کھینچنا اور پھر مٹانا

اس ادا سے وہ راستوں میں چلی
پےار کی بات پتھروں میں چلی
جس ڈگر اور جس گلی میں چلی
ہر طرف سرسری سروں میں چلی
دیکھ کر نبض جان لے اے طبیب
دل میں اتری ہے دھڑکنوں میں چلی
بتِ ساحر بتوں میں کیا پہنچا
بات اس کی بس بتوں میں چلی
ذکر نکلا بہادری کا جب
فخر کی بات بزدلوں میں چل
رنگِ مسلم کا فیض تو دیکھو
اب قدامت بھی جدّتوں میں چلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بعد مدت کے جب سامنا ہوگیا
میں تو بندہ رہا وہ خدا ہوگیا
اس سے ٹکرانا ہے یاد اب بھی ہمیں
گو کہ قصہ بہت سال کا ہوگیا
محوِ حیرت تھا میں وقت بدلا تو پھر
ایک ہی شخص تھا دوسرا ہوگیا
توڑتے رہتے ہیں وہ کھلونے بہت
دل ہمارا جو ٹوٹا تو کیا ہوگیا
رنگ کس کا چڑھا آئے مسلم میاں
کچھ ہی دن میں یہ کیا ماجرا ہوگیا

غزل
وقت کومیں نے باندھ رکھا ہے ےادوں کی زنجیروں سے
اکثر باتیں کرتا ہوںمیںالبم کی تصویروں سے
باکس میں رکھّے کاغذ کے ہر پرزے کویوں پڑھتا ہوں
شاید کوئی بچھڑا ساتھی مل جائے تحریروں سے
نئے دور کے ہتھیاروں میں کوئی شعری حسن نہیں
اب بھی تشبیہیں دی جاتی ہیں تلواروں سے تیروں سے
میں تھا بھنور میںتب تو میرے پاس اور دورنہ تھا کوئی
کس نے پار لگایا جب میں ہار گیا تدبیروں سے
مسلم کو مسلم رہنے دو اے میرے مداحو سنو
اس کا تقابل مت کرنا تم غالبوں، مومنوں ، میروں سے

قوم شامل ہوئی بیماروں میں
زنگ جب لگ گیا تلواروں میں
یوں زوال آگیا سرداروں میں
گھِر گئے حاشیہ برداروں میں
سب سے مقبول کہانی ٹھہری
جس کو چنوادیا دیواروں میں
سب ہی بازاری نہیں ہوتے ہیں
یوں تو سب چلتے ہیں بازاروں میں
سادہ لوحی ہے اگر جرم یہاں
ہم بھی شامل ہیں گنہگاروں میں
بادشاہی ہے فقیری مسلم
ہم نہیں جاتے ہیں درباروں میں

ہر ادا سے ہمیں وہ ستانے لگے
کچھ نہ سوجھا تو بس مسکرانے لگے
ہجر میں ےاد کے یوں نشانے لگے
غم کو ہم اور غم ہم کو کھانے لگے
سب سے ملتے رہے اک زمانے تلک
خود سے ملنے میں ہم کو زمانے لگے
جب وفاو¿ں میں ناکام وہ ہوگئے
بے وفا خود ہمیں ہی بتانے لگے
دل نے ہم کو سنبھالا ہے مسلم وہاں
عقل کے ہوش جس جا ٹھکانے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلنشیں اور جہانگیر بنا دی ہم نے
بات یوں قابلِ تحریر بنا دی ہم نے
اپنے چہرے کو بھلا دیکھتے رہتے کب تک
آئینے پر تری تصویر بنا دی ہم نے
مستقل کوئی ٹھکانہ تجھے ملتا ہی کہاں
غمِ جاناں تری تقدیر بنا دی ہم نے
ہم گرفتار ہوئے تب ملی شہرت اس کو
زلف تھی یار کی زنجیر بنا دی ہم نے
وار مسلم پہ جو ہونا تھا، مخالف پہ ہوا
چال دشمن کی تھی تدبیر بنا دی ہم نے

جب تو نہیں تو دل میں ارمان کچھ نہیں ہے
خالی پڑاہے کمرہ سامان کچھ نہیں ہے
مطلب کے اس جہاں میںانسان کچھ نہیں ہے
اس سے زیادہ بڑھ کر بحران کچھ نہیں ہے
سچ ہی تو کہہ رہے ہیں ایمان بیچ کر وہ
جو لوگ کہہ رہے ہیں ایمان کچھ نہیں ہے
ڈرتا ہے دیکھنے سے آئینہ پشت اپنی
اس میں چمک نہ چہرہ امکان کچھ نہیں ہے
اپنی مثال خودہے ،مسلم کی شاعری کو
تولے گی کیسے دنیا میزان کچھ نہیں ہے

پیچھے جو چھٹ گیا ہے وہ منظر نہ دیکھنا
پتھر کے ہو نہ جاو¿ پلٹ کر نہ دیکھنا
بے حس جہاں کے ہاتھ میں پتھر نہ دیکھنا
جب عشق میں پڑے ہو توپھر سر نہ دیکھنا
کتنا بھرا ہے جام بس اس پر رہے نظر
ہر گز بھی کتنا خالی ہے ساغر نہ دیکھنا
تعبیر اس کی خار ہیں رسوائیوں بھرے
خوابوں کے اس گلاب کو چھوکر نہ دیکھنا
شائق مرے سخن کے کبھی مجھ پہ کرنظر
کیوں دائروں کو دیکھنا، محور نہ دیکھنا

ہم نے جو کی ہے حرکت ظالم تڑپ رہا ہے
ہے اک سزا معافی بدلے میںکیا مز اہے
اس بے وفا سے ہم نے یہ سوچ کر وفا کی
تاکہ نہ کوئی سمجھے ہر شخص بے وفا ہے
آگے بڑھے تو پائے امکان کے تراہے
ہم یہ سمجھ رہے تھے محدود راستہ ہے
جامد خیال تھا وہ نظروں میں اس جہاں کی
ہم نے اسے تراشا وہ جگمگا اٹھا ہے
الجھے ہوئے مضامیں لگتے ہیں سہل بالکل
زلفیں غزل کی مسلم ایسے سنوارتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنی تہیںہیں، رنگ ہیںکتنے حجاب کے
ہم نے بدلتے دیکھے ہیں چہرے نقاب کے
ڈر کر دبی زبان سے کچھ کہہ رہے ہیں سب
چرچے بہت جہاں میں ہےں عزت مآب کے
پنہاںہے لفظ لفظ میں کرب و بلا مگر
گنتے ہیں لوگ صفحے محبت کے باب کے
کم ظرف خودکو رندِ محبت نہ مان لے
چھینٹے ہی کچھ پڑے ہیں قبا پر شراب کے
کرنیں ہمارے خانہ¿ِ دل تک نہ آسکیں
ہم کیوں پڑھیں قصیدے تری آب و تاب کے

کہوں کیا ےار جب پہلو میں آیا
بڑی مشکل سے دل قابو میں آیا
نہا کر ہر بیاں خوشبو میں آیا
مزہ مجھ کو بہت اردو میں آیا
وہی ظالم رلایا خون جس نے
اسی کا عکس ہر آنسو میں آیا
بنی قندیل کیوں ننھی سی جاں یہ
شرارہ کس طرح جگنو میں آیا
سحر انگیز تیری ہر ادا ہے
جسے دیکھو ترے جادو میں آیا
خیال اپنا بھلا ہے ہم سے مسلم
کہ آخر وہ دلِ گلرو میں آیا

سبق ہم کو ملا یہ زندگی سے
پریشانی میں مت ملنا کسی سے
اندھیرے ہوگئے بیباک اتنے
اجالا چھینتے ہیں روشنی سے
بجاہے سنگ لیکن التجاہے
کبھی گذرو تمنا کی گلی سے
بھلابے وجہ کیوں شرمندہ ہوتے
ہوئے شرمندہ ہم شرمندگی سے
چھپا کرتن کو کپڑوں کی تہوں میں
نہ مارو آنکھ کی بے پردگی سے
چکا کر دوستی کے دام مسلم
ہر اک غم جھیلتے ہیں ہم خوشی سے

ہماری سمت چلا جوبھی دل جلاپتھر
پگھل کے موم ہوا شمع بن گیا پتھر
صنم بنائے جو گونگے ہیں اور بہرے ہیں
شبیہ اسکی بناتے تو بولتا پتھر
مرے ہی گھر کی طرف بار بار آتا ہے
پتہ عدو کابھی اے کاش جانتا پتھر
بات یہ حقیقت ہے جس سے پےار کرتے ہیں
اسکا ہی لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں
ہم تو وہ بہادر ہیںجس پہ وار کرتے ہیں
پہلے اس ستمگر کو ہوشیار کرتے ہیں
وہ بدل گئے لیکن ہم ذرا نہیں بدلے
انتظار کرتے تھے انتظار کرتے ہیں
آپ بھی نہیں رکھتے کچھ حساب تیروں کا
ہم بھی دل کے زخموںکو کب شمار کرتے ہیں
ہم سے لوگ کٹتے ہیں، حق پرست ہیں مسلم
جو بھی بات کرتے ہیں دھاردار کرتے ہیں

یوں دشمنوں کے ہاتھوں خدا نے بچا لیا
خود ہی مرا چراغ ہوا نے بچا لیا
در اصل مجھ کو ماں کی دعانے بچا لیا
سب یہ سمجھ رہے ہیں دوا نے بچا لیا
نقلِ خرامِ یار مسیحائی کر گئی
آخر وجود اپنا صبا نے بچا لیا
باطل کو سجدہ کرنے کی غفلت سے بچ گیا
بر وقت مجھ کو میری انانے بچا لیا
ملوایا دو دلوں کو مرے ایک جھوٹ نے
کارِ ثواب بن کے خطا نے بچا لیا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

اس لےے المدد پکارا نہیں
زندگی بحر ہے کنارا نہیں
میری ہستی کو غور سے پڑھنا
خاص نمبر ہے گوشوارہ نہیں
بے کسی اس کی سب سے بڑھ کرہے
جس کو یادوں کا بھی سہارا نہیں
جو کسی کا ہے اس کا ذکرہی کیا
جب ہمارا ہی خود ہمارا نہیں
ہو گئے قتل سب کے سب مسلم
اور کسی کو کسی نے مارا نہیں

گلشنِ یاد کو تازہ رکھّا
خوشبوو¿ں نے ہمیں زندہ رکھّا
سامنے جب ترا چہرہ رکھّا
رات نے لا کے سویرا رکھّا
گو نہ ہو پائی عمل کی توفیق
مستقل ہم نے ارادہ رکھّا
ایسے معمار کے صدقے جاو¿ں
جس نے اس گھر میں دریچہ رکھّا
کوئی کمتر نہ سمجھ لے خود کو
ہم نے درویش کاحلیہ رکھّا

ہیں وہ سفّاک جو الفت کے منظر بھول جاتے ہیں
کسی کی آنکھ میں رکھ کرسمندر بھول جاتے ہیں
نہیں یہ تونہیں اپنے نہیں ہیں ہم مگر پھر بھی
حسابِ دوستاں میں خود کو اکثر بھول جاتے ہیں
ترقّی کی رہِ پُرپیچ کے رہرو یہ کیسے ہیں؟
جہاں گردی میں سرگرداںہیںاورگھر بھول جاتے ہیں
پتہ ہے شرمساری بزم میں ہم کو ستائے گی
توقصداً اپنے گھر میں اپنا ہی سربھول جاتے ہیں
محبت میں مقام ایسا بھی آجاتا ہے اے مسلم
کہ راحت دن میں اورراتوں میں بستربھول جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات پھیل جائے گی ہر طرف زمانے میں
کوئی راز رکھ دیجے اپنے مسکرانے میں
اک سوا خلوصِ دل، اک وصال کا تحفہ
کچھ نہیں ترے شایاں اس غریب خانے میں
وہ امیر ہے یارو، سکھ کی نیند سوتا ہے
جس کو کچھ بھی کھونے کا غم نہیں زمانے میں
روشنی کے مالک ہیںپر غریب کی رہ میں
ان کو شرم آتی ہے اک دیا جلانے میں
ترکِ وصل کی دھمکی جھوٹ تھی تو اے ہمدم
کیا مزہ ملا تم کو اس طرح ڈرانے میں
مقام ایسا کہ امکانِ حادثات نہیں
جگہ بتاو¿ کچھ ایسی جہاں پہ گھات نہیں
فتور ذہن میں زن ،زر،زمین کا ہر دم
فقیر کہتا ہے دنیا سے التفات نہیں
ابھی تو اور بھی دریافت ہونگے سیّارے
سخن یہ میرا مری سار ی کائنات نہیں
جگر سے کام چلا لیں گے دل نہیں ہے اگر
یہ شیشہ توڑ دیا تم نے کوئی بات نہیں
خدا تو دیکھ رہا ہے مرا عمل مسلم
زمانہ چیخ رہا ہے تو کوئی بات نہیں

ہرسمت جی رہی ہے وبالوں میں زندگی
اس دور میںگھری ہے سوالوں میں زندگی
ہر چند تپ رہے ہیں حقیقت کی دھوپ میں
اچھی گذر رہی ہے خیالوں میں زندگی
جسمانی اور ذہنی فنا کے ہیں مدعی
جو لوگ ڈھوندھتے ہیں پیالوں میں زندگی
ہم انتظارِ وصل کی گھڑیوں کو یوں گِنیں
جیسے گِنے غریب نوالوں میں زندگی
ہوعمرکچھ بھی، ہوتے ہیں رخسار اسکے سرخ
زندہ ہے وہ کہ جس کے ہے گالوں میں زندگی
اُس سے آگے کیونکہ کوئی اور راہِ دل نہ ہوگی
تم جسے منزل کہوگے وہ مری منزل نہ ہوگی
کیوں تغافل، روح ِعاشق آج کیابسمل نہ ہوگی
کیا ادا ظالم نہ ہوگی کیا نظر قاتل نہ ہوگی
توڑنا ہے دل تو توڑو ہچکچانا کس لےے
مشغلہ ہے روز کا تم کو کوئی مشکل نہ ہوگی
ڈوبنے والوں کو کیوں خدشہ ہوسطحِ آب کا
موجِ طوفاں تیرے میرے بیچ میں حائل نہ ہوگی
روح کی مانند یہ جذبہ ہے مسلم لازوال
عمرزائل ہو تو ہو الفت کبھی زائل نہ ہوگی

©©”سمجھداری”
گھرمیں دولت کے انبار ہوتے
کاش ہم بھی ’سمجھدار‘ ہوتے
بے سری میں بھی سردار ہوتے
بے زمیں کے زمیندار ہوتے
تھوڑا رکھ لیتے خود کو بچا کر
تھوڑا بکنے کو تیار ہوتے
چلتے سودے کی قالین پرہم
پاو¿ں کے نیچے کیوں خار ہوتے
پھر خیال آیا ہم تو ہیں مسلم
دھت ترے کی جو یوں خوار ہوتے
وفورِ تشنگی کا سامنا ہے
سمندر خالی خالی لگ رہا ہے
کبھی رک جائے تو دل کانپتا ہے
کہ جیسے درد ہی اب تو دوا ہے
لبادہ جھوٹ کا کیوں اوڑھتا ہے
تو سچ کہہ دے اگر سچ جانتا ہے
بصیرت کر نظر سینے کے اندر
یہاں دیکھے یہاں طوفاں اٹھا ہے
سنا ہے کفر مایوسی ہے مسلم
لبوں پر پھر دعائے نارسا ہے

چاندنی میں نہیں، روشنی میں نہیں
اس میں کچھ خاص ہے جو کسی میں نہیں
پھر بھی منسوب اس سے ہی کرتے ہیں سب
ذکر جس کا مری شاعری میں نہیں
کچھ خفا، کچھ حیا،خامشی ہی صدا
کیسی کیسی ادا بے رخی میں نہیں
لب پہ آیا ہے اس کے جو حرف ِ وفا
ایسی شیرینی تو چاشنی میں نہیں
سانس سازندے کی کھیل کرتی ہے سب
ورنہ کوئی ہنر بانسری میں نہیں
ہم نے کبھی وفاو¿ں کا چرچا نہیں کیا
وہ بھی نبھا دیا ہے جو وعدہ نہیں کیا
پوشیدہ آرزوو¿ں کو رسوا نہیں کیا
دل خوں کیا ہے آنکھ کو دریا نہیں کیا
محفل میں جاہلوں کی رہے پر وقار ہم
چپ چاپ لوٹ آئے تماشہ نہیں کیا
چڑیا کو کیا اڑا کے کوئی باز لے گیا
وا آج اس حسیں نے دریچہ نہیں کیا
مولا کا یہ کرم ہے کہ مسلم ہر ایک کام
یوں کر لیا ہے ہم نے کہ گویا نہیں کیا

دو اشعار
کب تب ہمیں جہاں سے چھپاو¿گے دوستو
سورج پہ پردہ ڈال نہ پاو¿گے دوستو
ہم نے تو خوب اپنی نبھائی ہے دوستی
اب یہ سنا ہے تم بھی نبھاو¿گے دوستو

قطع
مل نہ پائے گا تجھے بات بڑھاتا کیوںہے
چاند کی سمت یہ تو ہاتھ بڑھاتا کیوںہے
وہ مسافرکسی منزل پہ اتر جائے گا
بے سبب اس سے ملاقات بڑھاتا کیوں ہے
قطع
بہت دشوار ہے مانا بلندی پر پہنچ جانا
مگر اس سے بھی مشکل ہے بلندی پر ٹھہر پانا
تقاضہ کرتی رہتی ہے یہی مے کامیابی کی
مسلسل پی کے بھی ہر دم بھرا رکھنا ہے پیمانہ
نذرِ امام حسینؑ
ےاد کرواتے ہیں قربانئیِ اعظم آنسو
ساری دنیا بھی جو روئے تو پڑیں کم آنسو
خشک دریا میں بھی آجاتی ہے طغیانی سی
خود ہی آجاتے ہیں دورانِ محرم آنسو

قطع
کہی کہنے والے نے ہر بات سچی
مگر سچ کی تشریح سب نے الگ کی
میں سچ میں سے سچ ڈھونڈتا پھر رہا ہوں
مری جستجو یوں ۳۷ میں بھٹکی
حمدکا ایک شعر
تم آنکھ موند لو گے، وہ دیکھتا رہے گا
مانو اسے نہ مانو وہ تو خدا رہے گا

ایک پل دوری کا احساس نہیں ہوتا ہے
کےا کہوں کب وہ مرے پاس نہیں ہوتا ہے

ہائے کمبخت محبت کے گنہگار ہیں ہم
پھر کوئی زخم نیا کھانے کو تیار ہیں ہم

زندگی کا ثبوت دو یارو
کیوں ہے سنّاٹا کچھ کہو یارو

آج پھر اس کے کوچے کو نکلے جس کے جیسا کوئی بھی نہیں ہے
مدتیں ہو گئیں اس کو دیکھے یار کیا اب بھی اتنا حسیں ہے

کہوںکیا یار جب پہلومیں آیا
بہت مشکل سے دل قابو میں آیا

مفرد
دسترس میں سب کچھ ہے پھر یہ شعبدہ کیوں ہے
ہاتھ کی لکیروں میں خود کو ڈھنڈتا کیوں ہے

مطلع جو ۲۲اپریل کو خواب میں وارد ہوا
کام کوئی اگر نہ کر پاو¿
اچھی باتیں ہی بولتے جاو¿
اس سے قبل ایک دو غزلہ، قطع اور اشعار بھی خواب میں
وارد ہو چکے ہیں جنھیں فیس بک پر شیئر کرچکا ہوں
عاصی ہوں مگر پھر بھی خدا کا ہے سہارا
بھٹکا جو کبھی تو مجھے منزل نے پکارا

دو اشعار
ہم کو سوا ضمیر کوئی محترم نہیں
خود کو جواب دہ ہیں زمانے کو ہم نہیں
مطلوب اس زمانے کا جود و کرم نہیں
ہم کو یہی بہت ہے کہ سر اپنا خم نہیں

خودنوشت
مسلم سلےم۔کےا بودوباش
پوچھو ہو
اصل نام اور تخلص مسلم سلےم ہے۔والدےن:والدمحترم ڈاکٹر سلےم واحد سلےم اپنے وقت کے خوش گو شاعر تھے اور نقوش، ادبِ لطےف و دےگر معتبر جرائد مےں۲۴۹۱ سے ۰۷۹۱ تک بکثرت اور باقاعدگی کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔ ابھی چند برس پہلے لاہور یونی ورسٹی مےں ان پر تحقےق بھی ہوئی۔ آپ مشہور اردو نقاّد اور ماہر اقبالےات و غالب خلےفہ عبدالحکےم کے بھتیجے تھے۔ علی گڑھ طبّیہ کالج کے تاسیسی پرنسپل عطاءاﷲ بٹ والدصاحب کے پھوپھا تھے۔ والدہ محترمہ امِّ حبیبہ صاحبہ سےّد عبدالباقی صاحب کی پوتی تھےںجو محمدن انگلو اورئینٹل کالج (اب علی گڑھ مسلم ےونی ورسٹی) کے پہلے پانچ طلبہ مےن شامل تھے اور فارغ التحصےل ہو کر وہےں برسر ( bursar) کے عہدے پر تا عمر فائز رہے۔میرے جدامجدجناب رمضان ڈار صاحب ۰۰۲ برس قبل سری نگر، کشمیر سے حجرت کر کے آئے تھے۔ ڈاکٹر سلےم واحد سلےم تقسیم کے بعد لاہور چلے گئے اور وہیں انتقال ہوا۔
پےدائش و تعلیم :ضلع ہردوئی کے قصبہ شاہ آباد مےں تولد ہوا۔ نومبر کی پہلی تارےخ تھی اور سن تھا ۰۵۹۱۔ لےکن بچپن سے لےکر بی اے آنرز کی تعلےم تک کا عرصہ علی گڑھ ہی مےں گزرا۔ پانچوےں تک تعلےم علی گڑھ مسلم ےونی ورسٹی سٹی برانچ اسکول، دسوےں تک علی گڑھ مسلم ےونی ورسٹی سٹی ہائی اسکول اور پھرعلی گڑھ مسلم ےونی ورسٹی ہی سے بی آنرز (سےاسےات) کرنے کے بعد الہٰ آباد ےونی ورسٹی سے اےم اے (عربی) پاس کےا۔
کےرئر: ۹۷۹۱ مےں بھاسکر گروپ آف نےوز پےپرز کے اردو اخبار آفتاب جدےد©بھوپال سے کےرئر کا آغاز کےا۔ ۶۸۹۱ مےں اسی گروپ کے انگرےزی اخبار نےشنل مےل سے منسلک ہوا۔ ۰۰۰۲ءمےں بھاسکر ہندی مےں نےوز کوآرڈینےٹر بنا۔ ۳۰۰۲ءمےں انگرےزی اخبار نےوز اےکسپرےس مےں چےف سب اےڈےٹر کا عہدہ سنبھالا۔۴۰۰۲ سے۸۰۰۲ تک انگرےزی اخبار سےنٹرل کرونےکل مےں بےورو چےف ،۲۱۰۲ تک ہندوستان ٹائمس مےںور ۶۱۰۲ تک نظامتِ رابطہ¿ِ عامہ، حکومتِ مدھیہ پردیش میں مصروفِ کار رہا۔ اس طرح مےں نے کثےر لسانی صحافی ہونے کا اعزاز حاصل کےا۔

©©©©©© پہلی تخلےق: پہلی تخلےق اےک غزل تھی۔ یہ غزل مےں نے علی گڑھ مسلم ےونی ورسٹی آرٹس فےکلٹی ہال مےں منعقدہ اےک مشاعرے مےں ۱۷۹۱ ءمےں پڑھی جس پر خلےل الرّحمٰن اعظمی و دےگر سامعےن نے بے ساختہ اور بھرپور داد دی تھی۔اگست ۰۱۰۲ ءمےں آخری بار جب مےں علی گڑھ گےا تھا تو دےرینہ احباب نے مجھے دےکھتے ہی یہ اشعار مجھے سنائے۔ ان مےں پروفےسر ابوالکلام قاسمی بھی شامل ہےں۔ غزل کچھ اس طرح تھی ۔
ہر خواہش کب کس کی پوری ہوتی ہے ۔۔۔ ہوتی ہے پر تھوڑی تھوڑی ہوتی ہے
ان کے میل کو ان کے گھر جاکر دےکھو ۔۔۔ باہر جن کی چادر اجلی ہوتی ہے
مےں بازار سے کافی پردے لاےا ہوں ۔۔۔ اب دےکھوں کےسے رسوائی ہوتی ہے
آخر الذکر شعر حاصلِ مشاعرہ ثابت ہوا۔ پہلی غزل ماہنامہ شاعر، بمبئی کے جون۔جولائی ۹۷۹۱ءکے شمارے مےں شائع ہوئی جسکے دو اشعار پےش ہےں
جب ہم نے زندگی کی گنےں راحتےں تمام ۔۔۔ لمحات مےں سمٹ سی گئےں مدّتےں تمام
وہ دےکھنے مےں اب بھی تناور درخت ہے ۔۔۔۔ حالانکہ وقت کھود چکا ہے جڑےں تمام
پہلا افسانہ: ۱۷۹۱ ءمےں پہلا افسانہ ’ننگی سڑک پر‘ قلمبند کےا۔ اسی سال اس افسانے کو علی گڑھ مسلم ےونی ورسٹی کے شارٹ اسٹوری کمپٹیشن مےں انعام سے نوازا گےا۔ انعامات کی تقسےم عصمت چغتائی کے دستِ مبارک سے عمل مےں آئی تھی۔بعد مےں یہی افسانہ ’روشن‘ (بداےوں) کے جولائی۔اگست ۱۷۹۱ءکے شمارہ مےں شائع ہوا۔
تصنےفات و تالےفات: مےرا مجموعہ کلام ”آمد آمد“ مدھےہ پردےش اردو اکادےمی نے نومبر ۰۱۰۲ کو شائع کےا ہے۔ تخلےقات ہندوپاک کے رسائل مےں شائع ہو چکی ہےں۔ رےڈےو اور ٹی وی پر بھی پڑھا ہے۔آل انڈےا رےڈےو کی اردو مجلس نے مےرا افسانہ ’سُکھ کی نےند‘ ۴۱ جولائی ۹۷۹۱ ءکو ’کرن‘ پروگرام کے تحت نشر کےا۔ مےری تخلےقات متعدد رسائل اور اخبارات مےں شائع ہو چکی ہےں جن میں مندرجہ ذےل خاص ہیں۔
۱۔ شاعر (بمبئی)، ۲۔ نےا دور (لکھنﺅ)،۳۔ ہماری زبان (دہلی)،۴۔ روشن (بداےوں)،۵۔ روشی (مےرٹھ)، ۶۔آفتاب جدےد (بھوپال)، ۷۔ اےاز (بھوپال)، ۸۔ کاوش جدےد (کانپور)، ۹۔اندازے (الہٰ آباد)، ۰۱۔ اردو اےکشن(بھوپال)، ۱۱۔ندےم، ۲۱۔عصری ادب (دہلی)، ۳۱۔ شگوفہ (حےدرآباد)، ۴۱۔ مادری زبان (الٰہ آباد)، ۵۱۔ آغاز (کراچی)، ۶۱ آہنگ (گےا)۔
غزل یونیورسٹی نصاب میں شامل
۶۱۰۲ءسے مسلم سلیم کی ایک کی غزل پاکستان کی گجرات یونیورسٹی کے بی۔اے۔سکنڈ سیمسٹر کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سٹدی سیگمنٹ میں ۴۱ شعرا ءشامل ہیں جن میں ولی دکنی، خواجہ میر درد، میر تقی میر، آتش، غالب، حالی، علامہ اقبال ، حسرت موہانی، ناصر کاظمی، فیض احمد فیض، منیر نیازی، احمد فراز ، مرزا داغ اور مسلم سلیم کا کلام شامل کیا گیا ہے۔دیکھیں
http://khojkhabarnews.com/
2017/02/12/muslim-s
aleems-ghazal-included-in-syllabus-of-gujrat-university/
فکرِ نو ، لاہور میں گوشہ: فکرِ نو ، لاہور نے اپنے اپریل ۴۱۰۲ کے شمارے میں مسلم سلیم پر۹ صفحات کا گوشہ صفحہ۴۶ سے ۳۷ تک شایع کیا۔ جسے مندرجہ ذیل لنک پر انٹر نیٹ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
http://masoodtanha.blogspot.in
fikr-e-nau-issue-april-2014lahorepak.html

کلیات سلیم واحد سلیم: میرے والد والدمحترم ڈاکٹر سلےم واحد سلےم اپنے وقت کے خوش گو شاعر تھے اور نقوش، ادبِ لطےف و دےگر معتبر جرائد مےں۲۴۹۱ سے ۰۷۹۱ تک بکثرت اور باقاعدگی کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔ ابھی چند برس پہلے لاہور یونی ورسٹی مےں ان پر تحقےق بھی ہوئی۔آپ کا سب سے بڑا کارنامہ ”خیامِ نو“ ہے جو عمر خیام کی ۴۷۱ ربائیوں کا منظوم ترجمہ ہے جسے عمر خیام کے اردو تراجم میں بہترین تسلیم کیا گیا ہے میں نے ان کی تمامتر اردو اور فارسی تخلیقات کو ”کلیات سلیم واح سلیم “ کے عنوان سے مرتب کیا اور ۲۳۴ صفحات پر مرتب یہ کتاب قومی کونسل برائے فروغِ اردو،دہلی نے ۴۱۰۲ میں شایع کی۔ اس کا پیش لفظ بھی میں نے ہی تحریر کیا ہے۔

ایمان ایف ایم، برطانیہ پر اورڈی ڈی اردوپر لائیو انٹرویو: ایمان ایف ایم ریڈیو برطانیہ (Iman FM, Shefied, Britain) پرایک گھنٹے کا لائیو انٹرویو نشر ہوا جو موبائل فون کے ذریعے انیکر محترمہ کوثر شاہ نے لیا۔ اسی طرح ڈی ڈی اردو پر مسلم سلیم کی شاعری، حےات اور خےالات پر آدھے گھنٹے کا پروگرام نشر ہوا۔یہ دونوںنشریے ”یو ٹیوب“ پر موجود ہیں۔

بی بی سی پر انٹروےو: ےکم مارچ ۲۸۹۱ء کو جناب رضا علی عابدی لندن سے ؛بھوپال تشریف لائے۔ یہاں سےفےہ کالج مےں انھوں نے مےرے علاوہ پروفےسر عبدالقوی دسنوی، پروفےسر حامد جعفری، مرتضیٰ علی شاد ، محمد نعمان خاں اور جناب خالد عابدی کے انٹر وےو لئے جو بعد مےں بی بی سی کی اردو سروس سے نشر کئے گئے۔

ریڈیوآزادہندبھوپال پرانٹرویو
۲نومبر ۷۱۰۲ کو ریڈیوآزادہندبھوپال پرجناب رئیس حسن نے مسلم سلیم کی حیات اور شاعری پر ۵۴منٹ کا انٹرویوریکارڈ کیا۔

مسلم سلیم پر فلم
مسلمسلیم کی حیات اور فن دو ڈاکیومنٹری فلمیںیوٹیوب پر اپلوڈ کی گئی ہیں۔آدھے آدھے گھنٹے کی یہ ڈاکیومینٹری فلمیں ”تاب ؛پروڈکشنز،ممبئی “ کے پرچم تلے ناگپور کے شاعر، ادیب، عالمی ڈائکٹری ”نکھار“ کے خالق جناب اظہر بخش اظہرنے کی ہدایت کاری میں شوٹ کی گئی ہیں۔

انڈین مسلم لیجنڈس : علادہ ازیں ویب سائٹ ((Indian Muslim Legends نے بھی مسلم سلیم کو صفحہ ۶۳۴ پر شامل کیا ہے۔ اس ڈائرکٹری میں ہر میدان کی عظیم مسلم شخضیات کو شامل کی گیا ہے۔
دنیا کے ۵۳ شعراءکے مسلم سلیم کو۹۵ شعری نذرانے: فیس بک پر دنیا کے کونے کونے سے شعراءنے مسلم سلیم کی شاعری اور خدمات پر ۷۲ شعراءنے ۰۵ سے زیادہ شعری نذرانے پیش کیے ہےں جن میں جناب تنویر پھول (نےویارک)، اوےس جفری، واشنگٹن، فیصل نواز (لندن)، ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی، دہلی ، ندیم اختر ندیم مانگناوی، لندن، انگلینڈ، احمد علی خاں (رےاض، سعودی عربیہ)ِ طارق محی الدےن، پٹنہ، بہار، انڈےا، محمدصبغت اﷲعارفی(ممبئی۔انڈےا)، سلمان صدےق، سےالکوٹ ، پاکستان، ضےا شہزاد (کراچی)، کامل جنیٹوی، چندوسی انڈیا، ناصر فیروزآبادی، ضےاءشادانی، مرادآباد، اسماعیل عثمانی نظرالٰہ آباد یونیورسٹی الٰہ آباد، شوق انصاری، پاکستان، زرینہ خاں، رامپور، ذہےنہ صدیقی ، دہلی، حارث بلال ، سرگودھا، پاکستان، مجید تاج بلوچ، بلوچستان، پاکستان، اوّل سنگرام پوری، جدہ، سعودی عربیہ، اقبال قریشی، ہزرو ، پنجاب ، پاکستان ، بابر شاہ رحمٰن، میانوالی، پاکستان، بابر امام، پھلیا، پاکستان، خورشید الحسن نیر (سعودی عربیہ)، ) محمد علےم اﷲ خاں وقار صاحب (سہارنپور، اتر پردےش، انڈےا)، سعود صدیقی، کراچی،نثار احمد خاں، اوکارا، پاکستان پروفیسر ضےاءرومانی، کرناٹک ، بھارت وغیرہم شامل ہیں۔ یہ سب منظوم نذرانے فیس بک پر دےکھے جا سکتے ہیں۔
انڈو-کویت فرینڈشپ سوسائٹی نے مسلم سلیم کو سرپرست مقرر کیا : انھیں خدمات اور خصوصیات کے نتیجے میں انڈو-کویت فرینڈشپ سوسائٹی نے مسلم سلیم کو سرپرست مقرر کیا ہے جس کے دیگر سرپرستوں محترمہ کرن بیدی، گجرات کے سابق پولیس ڈائریکٹر جنرل مسٹر شری کمار، کیرل کے سابقوزیر مسٹر ایم کے منیر، شہرہ¿ِ آفاق طبلہ-نواز رمپا شیوا اور دیگر نامور شخص بھی شامل ہیں.
اعزاز: ۱۷۹۱ مےں افسانہ ’ننگی سڑک پر‘ پر علی گڑھ مسلم ےونی ورسٹی مےںعصمت چغتائی کے ہاتھوں انعام واعزاز۔۔۳۸۹۱ ءمےں ےاد باسط طرحی مشاعرے مےں اوّل انعام اور اعزاز۔ ۲۱۰۲ عالمی امن ایوارڈ۔ رائٹرس ویلفیر سوسائیٹی، بھوپال

جشنِ مسلم سلےم: مسلم سلےم کی خدمات کے اعتراف مےں اردو ےوتھ فورم بھوپال کی جانب سے عظےم الشان جلسہ بنام جشنِ مسلم سلےم اردو اکادےمی بھوپال مےں اتوار ۰۳ دسمبر ۲۱۰۲ کو منعقد ہوا۔ جشن کی صدارت مشہور شاعر جناب احمد علی برقی اعظمی، دہلی نے فرمائی جبکہ پروفےسر آفاق احمدمہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقعہ پر مدھےہ پردےش ار دو اکادےمی کے صدر جناب سلےم قرےشی پر بھی ڈائس پر موجود تھے۔ جشن مےں بزرگ اور محترم شاعروں اور نقادوں ڈاکٹر قاسم نےازی اورجناب ظفر نسےمی نے مسلم سلےم کی حےات و فن پر سےر حاصل مقالات پڑھے ۔ اپنے مقالے مےں ڈاکٹر قاسم نےازی نے مسلم سلےم کو اردو کے بڑے شاعروں مےں شمار کےا۔ قابلِ احترام شاعر اور نقاد جناب ظفر نسےمی نے مسلم سلےم کے متعدد اشعار کا حوالہ دےتے ہوئے انھےں عصرِ حاضر کا اےک بے حد منفرد اور ناےاب شاعر قرار دےا۔ جناب ظفر نسےمی نے کہا کہ مسلم سلےم کے شعری مجموعہ ’آمد آمد‘ کے زےادہ تر اشعار اردو شاعری مےں اضافہ ہےں۔ مسلم سلےم کا کمال یہ ہے یہ وہ صرف دو مصرعوں مےں گوےا اےک داستان بےان کردےتے ہےں۔ پروفےسر آفاق احمد نے بھی مسلم سلےم کو دور حاضر کا اےک منفرد اور صاحبِ طرز شاعر قرار دےا۔ ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی نے کہا کہ مسلم سلےم اےک اعلی شاعر اور ادےب ہی نہےں ، اےک عظےم خادم ِ اردو بھی ہےں جنھوں نے اپنی وےب ساےٹس کے ذرےعے متعدد شاعروں اور ادےبوں کو گوشہ¾ِ گمنامی سے نکال کر شہرت کی راہ پر گامزن کےا ہے جنمےں وہ خود بھی شامل ہےں۔

عظیم شعراءکی بین الاقوامی ڈائریکٹری میں مسلم سلیم کی شمولیت : ہم سخن ادبی تنظیم نے عظیم شعراءکی بین الاقوامی ڈائریکٹری ©©”نکھار“ میں مسلم سلیم کی شمولیت ایک اہم امر ہے۔ مسلم سلیم کے علاوہ جن شعراءاور ادبا کو ڈائریکٹری میں جگہ دی گئی ہے ان میں حضرت امیر خسرو، قلی قطب شاہ، ولی دکنی، میر تقی میر، غالب، نظیر اکبر آبادی، ذوق، بہادر شاہ ظفر، مومن، داغ، اکبر الہ آبادی، مرزا دبیر، میر انیس، اقبال، فراق، جگر، فیض، سردار جعفری، جاں نثار اختر، شکیل بداےونی، کیفی اعظمی، مجروح، خمار، ساحر لدھیانوی، احمد فراز، ابنِ انشا، گلزار، بشیر بدر، ندا فاضلی، محبوب راہی، مظفرققق حنفی، جاوید اختر، مدحت الا ختر، راحت اندوری، منور رانا، اظہر بخش اظہر، پروین شاکر اور مجتبیٰ حسین کے اسماءگرامی شامل ہیں۔
مسلم سلیم کا تذکرہ صفحہ ۴۸ پر ہے جس میں انگریزی میں انکا تعارف اور کلام دیوناگری میں دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی ڈائریکٹری ©©”نکھار“ ناگپور کے معروف قلمکار اظہر بخش اظہر کی کاوشوں کا ثمرہ ہے۔ بین الاقوامی ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ یہ اردو۔ہندی کی آسان لغت بھی ہے جس میں ایک طویل گوشہ میں آل ۔ٹائم عظیم شعراءاور ادباءکا تعارف اور تخلیقات بھی پیش کی گئی ہیں۔
ماہنامہ شاعرممبئی کا مسلم سلیم گوشہ: ہندوستان کے موقرادبی رسالہ شاعر نے اپنے جولائی ۷۱۰۲ کے شمارہ میں مسلم سلیم پر ۵۳ صفحات کا گوشہ شایع کیا ہے۔ اس میں مسلم سلیم کے تعارف کے علاوہ رسالے کے مدیر جناب افتخار امام صدیقی سے مکالماتی انٹروو اور دس قلمکاروں کے مسلم سلیم کی زندگی اورفن پر مضامیںہیں۔ساتھ ہی دنیا کے ۳۳ شاعروں کے مسلم سلیم کو پیش کردہ منظوم نذرانے(منتخب) اور مسلم سلیم کی دو غزلوںپر منظوم اور منثور تبصرے بھی شامل کےے گئے ہیں۔ مسلم سلیم کی خود نوشت سوانح حیات نے گوشہ کے حسن میں چار چاند لگا دےے ہیں۔
رسالہ ادبی کرن کا مسلم سلم نمبر: بھوپال کے رسالے ادبی کرن نے مسلم سلےم کی زندگی اور فن پر خصوصی شمارہ ۱۱۰۲ ءمیں شاےع کےا۔ اسکا اجراءمدھےہ پردےش کے وزےرِثقافت جناب لکشمی کانت شرما نے کےا۔ پروفےسر آفاق احمد، رسالہ کے مدےر جناب ےونس مخمور، کھوج خبر نےوز ڈاٹ کام کے مدےر عطاءاﷲ فےضان و دےگر حضرات اس موقع پر موجود تھے۔
ڈاکٹر شہزاد رضوی، واشنگٹن نے مسلم سلیم کی۷ غزلوں کا ترجمہ کیا:     ڈاکٹر شہزاد رضوی، واشنگٹن کا تعلق مدھیہ پردیش سے ہے جو بھوپال کے ہے.حمیدیہ کالج اور سیہور میں لیکچرر تھے اور اب واشنگٹن میں ہیں. وہ انگریزی اور اردو کے نامور مصنف ہےں. ڈاکٹر شہزاد رضوی، واشنگٹن نے مسلم سلیمکی۷ غزلوں کا ترجمہ انگریزی میں کیا ہے۔
وےب سائٹس اور اردو شعراءا داباءکی ”آن لائن “ ڈائریکٹریز: مےں نے جنوری ۰۱۰۲ مےں وےب سائٹ کھوج خبر نےوز ڈاٹ کام (khojkhabarnews.com) کا آغاز کےا۔اسکے بعد مےں نے ۶۱ دےگر بلاگس پر اردو شعراءو ادبائسے متعلق ۶۲ شہروں ، صوبوں اور ملکوں کی
وئب دائرےکٹرےز بنائی ہےں ۔ ان ڈائرےکٹریز مےں اردو شعرا و ادبا کا با تصوےر تعارف اردو اور انگرےزی مےں پےش کےا گےا ہے۔ ۔
1. Urdu poets and writers of India
2. Urdu poets and writers of World
3. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh
4. Urdu poets and writers of Pakistan
5. Urdu poets and writers of Allahabad
. Urdu poets and writers of Agra
. Urdu poets and writers of Shahjahanpur
8. Urdu poets and writers of UP by Muslim Saleem
9. Urdu poets and writers of Canada
10. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir
11. Urdu poets and writers of Gujarat
12. Urdu poets and writers of Hyderabad
13. Urdu poets and writers of Karnataka
14. Urdu poets and writers of Maharasthra
15.. Urdu poets and writers of Rajasthan
16.. Urdu poets and writers of Tamil Nadu
17. Urdu poets and writers of Aurangabad
18. Urdu poets and writers of West Bengal
19. Urdu poets and writers of India Part-1I
20. Urdu poets and writers of World Part II
21. Female Urdu Poets and Writers
22. Hindu Naatgo Shuara
23. Urdu poets and wrirters of Pakistan
24. Urdu Poets and writers of Bihar
25. Urdu Poets and writers of Burhanpur
یہ آن اردو ڈائرےکٹرےز مےں مندرجہ ذےل بلاگس میں موجودہےں۔
www.khojkhabarnews.com
www.muslimsaleem.wordpress.com
www.urdunewsblog.wordpress.com
www.muslimsaleem.blogspot.in
www.poetswritersofurdu.blogspot.in
www.urduyouthforum.wordpress.com
www.khojkhabarnews.wordpress.com
www.muslimspoety.blogspot.in
www.ataullahfaizan.blogspot.in
www.abdulahadfarhan.blogspot.in
www.hamaramp.blogspot.in
www.madhyanews.blogspot.in
www.urdupoetswriters.blogspot.in/
www.cimirror.blogspot.in
www.saleemwahid.blogspot.in
مجلّہِ بھوپال©: محترم افتخار جلےل شوق بھوپال سے پاکستان جا بسے ہےں۔ ۴۹ءمےں بھوپال تشرےف لائے اور یہاں کے تمام مشہور شعرائ، ادباءاور نامور ہستےوں کی تخلےقات و تصاویر پر مبنی یہ مجلّہ کراچی سے شائع کےا۔ اس مےں مےری دو تصاویر کے ساتھ ساتھ صفحات ۰۵۱ اور ۱۵۱ پر غزلےں، صفحات ۵۷۱۔۴۷۱۔۳۷۱ پر تعارف اور صفحہ ۷۸۱ پر ےادِباسط طرحی مشاعرے مےں اوّل انعام کا مستحق قرار پانے والی غزل سے متعلق اخبار کا تراشہ بھی شائع کےا۔
عربی زبان وادب کا کل ہند سےمےنار: مارچ ۲۸۹۱ءکو سےفےہ کالج مےں عربی زبان و ادب کا کل ہند سےمےنار منعقد ہوا جس کا مےں کنوینر تھا۔ اس سےمےنار مےں احمد سعےد ندوی، پرنسپل شکور خاں، پروفیسر عبدالحلےم ندوی (حیدرآباد)، ڈاکٹرامجد علی (علی گڑھ) اور پرفیسر محمد عقےل (بھوپال ) نے شرکت فرمائی۔
قتیل شفائی کے ساتھ مشاعرہ میں شرکت: ۳۸۹۱ءمےں ہفتہ وار ’اےاز‘ کے دس برس مکمل ہونے پر اےک ہندوپاک مشاعرے کاانعقاد اقبال مےدان پر کےا گےا۔ اس مشاعرے مےں جنا ب اٹل بہاری واجپئی اور قتیل شفائی کے ساتھ مےں نے بھی کلام پڑھا۔ بعد مےں عصرانہ پر واجپئی صاحب مےرے بالکل سامنے والی کرسی پر اور قتےل شفائی ساتھ والی کرسی پر تشرےف فرما تھے۔ قتیل شفائی صاحب کو جب یہ پتہ چلا کہ مےں ان کے دوست ڈاکٹر سلےم واحد سلےم کافرزند ہوں توبھوپال کے قےام کے دوران انھوں نے مجھے ساتھ ساتھ رکھا اور بہت شفقت سے پیش آئے۔
اےاز ڈائری : ۳۸۹۱ءہی مےں اےاز ڈائری کا اجراءعمل مےں آےا جسکی ترتےب اور اشاعت مےں مےرا اہم کردار رہا۔ اس ڈائری کے ہر صفحہ پر اردو اور ہندی کے کسی نہ کسی مشہور شاعر کاشعر درج ہے۔ مےرے اشعار بھی ہےں۔ اردو اشعار کا ہندی ٹرانس لٹرےشن مےں نے ہی کےا تھا۔
اختر سےعد خاں سے ٹی وی انٹروےو: مجھے بھوپال دور درشن کے اردو پروگرام مےں شانِ بھوپال اختر سعےد خاں صاحب سے انٹردےو لےنے کا بھی شرف حاصل ہوا۔
مجروح سلطان پوری سے انٹروےو: مجروح سلطان پوری کے۱۸۹۱ میں قےام بھوپال کے دوران تفصےلی گفتگو ہوئی جسے انٹروےو کی شکل مےں روزنامہ آفتاب جدید مےں شائع کےا۔انٹروےو پر اخبار مےں کئی دنوں بحث چلی جو مےرے ہی مضمون کے ساتھ اختتام پر پہنچی۔
ےادِ باسط طرحی مشاعرے مےں اوّل: ےادِ باسط طرحی مشاعرے کا انعقاد ۲۸۹۱ مےں آچاریہ نرےندر دےو ہال بھوپال مےں کےا گےا تھا جس مےں اس وقت کے سبھی نامور شعراءنے شرکت کی تھی۔اس مےں اےک ۵ اشعار کی غزل مےں نے بھی پڑھی تھی۔ اس وقت تک مےری شعری صلاحےت سے کم ہی لوگ واقف تھے۔ بہر حال جب مےں نے یہ شعر پڑھا
کر دی مےراث وارثوں کے سپرد ۔۔۔ زندگی کس کے نام کر جائےں
تو سارا ہال نعرہ ہائے تحسےن سے گونج اٹھا۔ اختر سعےد خاںصاحب کی آواز سب سے بلند رہی۔یہی نہےں بلکہ ہر مرتبہ داد دےنے پر وہ اپنی جگہ سے آگے کھسکتے جاتے تھے۔ اب جب کسی شعر پر اختر سعےد خاں جےسی قد آور شخصےت جھوم جائے تو اس تخلیق کو اوّل تو ٹھہرنا ہی تھا، اور ہوا بھی یہی۔
اردو لکھنا خود سےکھئے: مےں نے یہ کالم آفتاب جدےد مےں شروع کےا تھا جسکی کتابت بھی مےں خود ہی کرتا تھا۔ یہ کافی افادی ثابت ہوا۔ بعد مےں کچھ حضرات نے اسی طرےقے کی بنےاد پر کتابےں بھی لکھ ڈالیں اور نام اور پےسہ کماےا۔

مسلم سلےم, ۰۸۲، خانوں گاو¿ں، وی آئی پی روڈ، بھوپال۔ ۱۰۰۲۶۴
موبائل : 9009217456, 9893611323
ای مےل: : saleemmuslim@gmail.com